Thu, September 17, 2026

ذہنی بیماریاں اور سماجی رویے

ذہنی بیماریاں اور سماجی رویے

پاکستانی فلم انڈسٹری کی متنازع مگر توجہ کا مرکز رہنے والی اداکارہ میرا کی جانب سے سائیکو کے نام سے فلم بنانے کے اعلان نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ یہ بحث محض ایک فلم یا اس کے مواد تک محدود نہیں بلکہ اس کے عنوان، معاشرتی اثرات، ذہنی صحت کے حوالے سے عوامی رویوں اور ہماری مجموعی سماجی حساسیت سے جڑی ہوئی ہے۔ عوامی ردِعمل میں پائی جانے والی شدت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستانی معاشرہ اب بھی ذہنی بیماریوں اور ان سے جڑے الفاظ کے استعمال کے معاملے میں خاصا حساس اور کسی حد تک غیر متوازن رویہ رکھتا ہے۔ اب اس فلم کے پیچھے میرا کے کچھ ذاتی تجربات ہوں یا پھر مستعار لیا گیا کوئی خیال اس سے زیادہ فرق نہیں پڑتا اس مسئلہ وہ اثرات ہیں جو اس فلم کی عوامی مقبولیت کی صورت میں عوامی رویوں میں مجموعی طور پر مرتب ہونگے۔
سائیکو ایک ایسا لفظ ہے جو عام بول چال میں کسی کے غیر معمولی، غیر متوقع یا خطرناک رویے کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم نفسیاتی نقطہ نظر سے یہ لفظ ایک سنجیدہ ذہنی حالت یا عارضے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہی وہ بنیادی تضاد ہے جس نے اس فلم کے نام کو متنازع بنا دیا ہے۔ عوامی سطح پر لوگ اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اس طرح کے عنوانات نہ صرف ذہنی بیماریوں کو سنجیدگی سے نہ لینے کا سبب بنتے ہیں بلکہ معاشرے میں پہلے سے موجود غلط فہمیوں کو مزید تقویت دیتے ہیں۔ معروف ماہر ذہنی امراض ڈاکٹر اعجاز وڑائچ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں پہلے ہی ذہنی صحت کے حوالے سے شعور کی کمی پائی جاتی ہے۔ لوگ ڈپریشن، اینگزائٹی یا دیگر نفسیاتی مسائل کو اکثر کمزوری یا پاگل پن سے تعبیر کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر فلمی صنعت سائیکو جیسے الفاظ کو بطور تفریحی عنصر استعمال کرے تو اس سے یہ تاثر مزید گہرا ہو سکتا ہے کہ ذہنی بیماری ایک مذاق یا سنسنی خیزی کا ذریعہ ہے۔ نتیجتاً، جو افراد واقعی ذہنی مسائل کا شکار ہیں، وہ مزید تنہائی اور معاشرتی دبا کا شکار ہو سکتے ہیں۔
قارئین! اس معاملے کا ایک اہم پہلو سماجی اضطراب ہے۔ اضطراب یہاں اس معنی میں ہے کہ معاشرے میں ایک غیر یقینی، بے چینی اور ردعمل کی فضا پیدا ہو جائے۔ جب کسی لفظ کو بار بار منفی یا تضحیک آمیز انداز میں استعمال کیا جاتا ہے، تو وہ لفظ ایک لیبل بن جاتا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں پہلے ہی لوگ ایک دوسرے کو طنزیہ انداز میں سائیکو کہتے ہیں۔ اگر یہی لفظ فلموں کے ذریعے مزید عام اور مقبول ہو جائے تو یہ رویہ مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ لوگ معمولی اختلافات یا غیر روایتی رویوں پر بھی ایک دوسرے کو ذہنی مریض قرار دینے لگیں گے، جو کہ ایک خطرناک سماجی رجحان ہے۔ 
ایک اور پہلو میڈیا کی ذمہ داری کا ہے۔ فلم اور ڈرامہ محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ رائے سازی کا ایک طاقتور ہتھیار بھی ہیں۔ اگر فلم ساز سنجیدہ موضوعات کو محض کمرشل فائدے کے لیے استعمال کریں تو یہ معاشرتی بگاڑ کا سبب بن سکتا ہے۔ سائیکو جیسے عنوان کے ساتھ فلم بنانے کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فلم میں ذہنی بیماری کو ایک خوفناک یا مجرمانہ عنصر کے طور پر دکھایا جائے، جیسا کہ ماضی میں کئی فلموں میں کیا گیا ہے۔ اس طرح کی پیشکش ذہنی مریضوں کے خلاف خوف اور نفرت کو بڑھا سکتی ہے۔ تاہم اس بحث کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ کچھ لوگ یہ مو¿قف رکھتے ہیں کہ فنکار کو اظہار کی آزادی ہونی چاہیے اور فلم کا نام یا موضوع خود بخود منفی نہیں ہوتا بلکہ یہ اس کی پیشکش پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر سائیکو فلم کو ایک سنجیدہ اور ذمہ دارانہ انداز میں بنایا جائے، جس میں ذہنی صحت کے مسائل کو حقیقت کے قریب دکھایا جائے، تو یہ معاشرے میں شعور بیدار کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ مسئلہ دراصل نام نہیں بلکہ اس کے پیچھے موجود نیت اور اس کی پیشکش ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستانی معاشرہ اس حد تک تیار ہے کہ وہ ایسے حساس موضوعات کو متوازن انداز میں سمجھ سکے؟ بدقسمتی سے، موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے جواب مکمل طور پر مثبت نہیں۔ ہمارے ہاں ابھی تک ذہنی صحت کے ماہرین سے رجوع کرنے کو معیوب سمجھا جاتا ہے اور لوگ زیادہ تر روحانی یا روایتی طریقوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایسے ماحول میں سائیکو جیسے الفاظ کا غیر ذمہ دارانہ استعمال نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ نتیجتاً، میرا کے فلم کے اعلان نے ایک اہم سماجی بحث کو جنم دیا ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ صرف ایک فلم کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ہمارے اجتماعی رویوں، زبان کے استعمال اور ذہنی صحت کے حوالے سے شعور کا عکاس ہے۔ اگر فلم ساز، میڈیا اور معاشرہ مل کر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو ایسے موضوعات کو مثبت تبدیلی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر، یہ محض ایک اور تنازع بن کر رہ جائے گا جو وقتی شور تو پیدا کرے گا مگر طویل المدتی نقصان چھوڑ جائے گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بطور معاشرہ اپنی زبان اور رویوں پر نظرثانی کریں، ذہنی صحت کو سنجیدگی سے لیں اور ایسے الفاظ کے استعمال میں احتیاط برتیں جو کسی کی تکلیف کو مذاق بنا سکتے ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک زیادہ مہذب، حساس اور متوازن معاشرے کی طرف لے جا سکتا ہے۔

ٹیگز: