Wed, September 16, 2026

پنجاب میں فضائی آلودگی بڑھنے سے سانس کی بیماریاں پھیلنے لگیں

پنجاب میں فضائی آلودگی بڑھنے سے سانس کی بیماریاں پھیلنے لگیں

لاہور : پنجاب کے مختلف شہروں میں فضائی آلودگی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، جس کے نتیجے میں شہریوں میں سانس کی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ اسپتالوں میں ناک، کان اور گلے کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔

گوجرانوالہ میں فضائی آلودگی کا سب سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا، جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 562 تک پہنچ گیا، فیصل آباد میں 436، ملتان میں 344 اور بہاولپور میں 208۔ لاہور شہر میں بھی فضائی آلودگی کی صورتحال تشویشناک ہے، جہاں کا اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس 388 تک پہنچ چکا ہے، اور اب لاہور پاکستان کے تیسرے سب سے زیادہ آلودہ شہر کے طور پر سامنے آیا ہے۔

لاہور کے مختلف علاقوں میں آلودگی کی سطح انتہائی خطرناک ہو چکی ہے۔ راوی روڈ پر AQI 749، سید مراتب علی روڈ پر 515، ٹاؤن شپ میں 500، علامہ اقبال ٹاؤن میں 539 اور گلبرگ تھری میں 571 ریکارڈ کی گئی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند دنوں تک لاہور کا موسم خشک رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث فضائی آلودگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ بارش نہ ہونے کی وجہ سے سموگ کا مسئلہ بڑھ رہا ہے، جس سے شہریوں کی صحت پر برا اثر پڑ رہا ہے۔

پنجاب حکومت نے فضائی آلودگی کی روک تھام کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ سموگ گنز کا استعمال کیا جا رہا ہے، اور کارخانوں و بھٹوں کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے تاکہ آلودگی کو کم کیا جا سکے۔ تاہم، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے، جیسے کہ ماسک پہننا اور غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلنا۔

ٹیگز: