گزرا وقت اور گیا زمانہ لوٹ کے نہیں آتے۔ البتہ دونوں کے بیتے دن رات ماہ و سال کے قصے کہانیاں اور زندگی میں کچھ کئے اچھے بُرے فیصلے ضرور یاد رہتے ہیں۔ ایک وہ دور بھی تھا جب بعض لوگ اپنی یادداشتیں اور واقعات کو ڈائریوں میں محفوظ کیا کرتے اور مجھے یاد ہے کہ ان میں وہ نامور لوگ بھی تھے جن کی یادداشتوں کوان کے بچوں نے کتابی صورت میں شائع کیا اور آج کے سوشل میڈیا کے گرما گرم دور کے ماحول میں مصروف انسان کے پاس اتنا وقت کہاں ہوتا ہے وہ زندگی سے اور زندگی اس سے لڑے۔ اس کو مصروف تو زمانے کے موبائل نے اس قدر مصروف کر رکھا ہے کہ بعض اوقات وہ یہ بھول جاتا ہے کہ آج کیا تو کل کیا کرنا ہے۔ اس کو وقت دکھائی نہیں دیتا مگر وہی اس کو بہت کچھ دکھا دیتا ہے۔ وقت یہی تو کہتا ہے کہ سب سے نہ ملا کرو اتنی سادگی کے ساتھ۔ یہ دور ہی الگ ہے یہ لوگ ہی الگ ہیں۔ یہ اپنی وہ دنیا نہیں جو آپ دیکھتے ہو اگر اس دور میں بھی وفا ڈھونڈتے ہو تو بڑے نادان ہو کہ وفا تو کسی کسی کو ملتی ہے اور اسی وفا پر ہر زمانے میں داستانیں رقم کی گئیں۔ اسی وفا پر فلمیں اور شخصیات پر ڈاکومنٹری فلمیں بنیں کہ وہ دور آج کے مقابلے میں سوشل میڈیا جیسی وبا سے بہت دور تھا۔ لوگ اچھے اور وہ اچھے رشتوں کی تلاش میں رہتے تھے۔ 1962ء میں میری عمر آٹھ سال تھی پھر تعلیمی مصروفیات سے فارغ ہوا تو سیدھا اخباری دنیا میں کود گیا۔ شوبز کی رپورٹنگ کے دور میں پاکستان کی فلم انڈسٹری کا سنہرا دور کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا پھر وقت گزرتا گیا اور مجھے کئی واقعات کو دیکھنے کا موقع ملتا گیا اور جب میں ان کو ماضی کے حوالے سے اپنی یادداشتوں کو لکھتا ہوں تو اسی دور میں واپس لوٹ جاتا ہوں، ایک واقعہ یہاں آپ کے حوالے کرتا چلوں۔ موسیقی کے حوالے سے ہماری فلموں میں چند گیتوں کو موسیقی دینے والوں نے جب ان کو بڑی آوازوں میں گوایا تو پھر ایک تاریخ نے لکھ دیا کہ یہ نہ ہوتا تو کچھ نہ ہوتا۔ یہ 60 کی دہائی کی بات ہے اور یہ موسیقی کی تاریخ کا سب سے سنہرا دور تھا جب ہر شعبہ میں اعلیٰ پائے کے فنکار موجود تھے۔ خصوصاً فلمی موسیقی میں بڑا زبردست کام ہوا اور بڑے بڑے سپر ہٹ گیت تخلیق ہوئے۔ اس دور کے موسیقار، نغمہ نگار اور گلوکار ، پاکستان کی فلمی تاریخ کے ہیوی ویٹ کہلواتے تھے جن کا کوئی ثانی نہیں ایسے بڑے ناموں میں ایک بہت بڑا نام، گلوکارہ نسیم بیگم جنہیں ’’نورجہاں ثانی‘‘ بھی کہا جاتا تھا۔ سننے والے کہتے تھے۔ ان کی آواز میں سوز و گداز گندھا ہوا ہے مگر انہوں نے شوخ نغمات بھی یکساں مہارت سے گا کر اپنے آپ کو ورسٹائل گلوکارہ ثابت کیا۔نسیم بیگم 24 فروری 1936 کو امرتسر میں پیدا ہوئیں اور برصغیر کی تقسیم کے بعد ان کا خاندان ہندوستان سے لاہور منتقل ہوگیا۔ نسیم بیگم کو بچپن ہی سے گانے کا شوق تھا اور ان کی آواز ملکہ ترنم نورجہاں سے کافی ملتی تھی۔ اس مشابہت کو محسوس کرتے ہوئے موسیقار رشید عطرے نے فلم ’’نیند‘‘ کے دو نغمات میں نور جہاں اور نسیم بیگم کی آوازوں کو یکجا کیا۔ ’’اکیلی کہیں مت جانا زمانہ نازک ہے‘‘ ’’جیا دھڑکے سکھی ری جور سے جی آئی مل کے بلم چت چور سے‘‘ دیکھا جائے تو نسیم بیگم کے عروج کا زمانہ 1955 ء سے1969 ء تک کا ہے۔ اس دوران ان کی شادی لاہور کے معروف پبلشر دین محمد سے ہوگئی اور ان کے ہاں تین بیٹے اور تین بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ ان کو پہلا بریک تھرو موسیقار اے حمید نے ایس ایم یوسف کی فلم ’’سہیلی‘‘ نے دلایا جس کے سارے گیت نسیم بیگم نے گائے جو بہت مقبول ہوئے۔’’ہم بھول گئے ہر بات مگر تیرا پیار نہیں بھولے‘‘،’’کہیں دو دل جو مل جاتے بگڑتا کیا زمانے کا‘‘ (سلیم رضا کے ساتھ دو گانا) ’’ہم نے جو پھول چنے دل میں چبھے جاتے ہیں‘‘،’’مکھڑے پہ سہرا ڈالے آجا او آنے والے‘‘ جیسے مشہور گیت نسیم کی سریلی آواز میں امر ہوگئے۔اسی ٹیم کی فلم ’’اولاد‘‘ کے گیت جن کی موسیقی اے حمید نے دی، نسیم بیگم کو فلمی کر یئرکے اوج پر لے گئے۔ ’’تم ملے پیار ملا اب کوئی ارمان نہیں‘‘ منیر حسین کے ساتھ ’’نام لے لے کے تیرا ہم تو جیے جائیں گے‘‘،’’تم قوم کی ماں ہو سوچو ذرا عورت سے ہمیں یہ کہنا ہے۔‘‘ اسی سال ریاض شاہد نے فلم ’’شہید‘‘ تخلیق کی، جس کے نغمات نسیم بیگم نے گائے اور بے حد پاپولر ہوئے۔ یہ گانے تھے ’’اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو!‘‘، ’’نقاب جب اٹھایا، شباب رنگ لایا، حبیبی ہیا ہیا‘‘،’’میری نظریں ہیں تلوار، کس کا دل ہے روکے وار، توبہ توبہ استغفار‘‘،’’جب سانولی شام ڈھلے اور رات کی شمع جلے۔نسیم بیگم نے ایک عروسی گیت ’’دیساں دا راجہ میرے بابل دا پیارا، ویر میرا گھوڑی چڑھیا‘‘ گاکر اسے عوامی گیت بنا دیا۔ نسیم بیگم نے چار نگار ایوارڈ مسلسل چار سال جیتے اور پرائڈ آف پرفارمنس بھی حاصل کیا۔وطن کی محبت اور دفاع پر اپنی جانیں نثار کرنے والے پاک فوج کے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے 1971 ء میں ایک پر سوز ملی نغمہ تیار کیا گیا، جس کے بول تھے:
اے راہِ حق کے شہیدو، وفا کی تصویرو!
تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں
یہ نغمہ فضا ئوں میں بکھیرنے والی سریلی آواز بھی نسیم بیگم کی تھی جو اگرچہ 29 ستمبر 1971ء کو محض 35 سال کی عمر میں ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی، لیکن یہ گیت آج بھی مختلف سنگرز سے سفر کرتا ہوا زبان زد عام ہے اور ایک نئے سرے سے روح گرما دیتا ہے۔
اور آخری بات۔۔۔
نورجہاں نے جب بھی گایا اپنا ہی گایا اور پوری دنیا میں اپنی دھاک بٹھا دی۔ ان کے بعد جو آواز دلوں کی دھڑکن بنی وہ گلوکارہ نسیم بیگم کی تھی۔ ان کے گائے گیت جب بھی پرانی موسیقی سے لگائو رکھنے والے کہیں نہ کہیں شیئر کرتے ہیں تو پھرنسیم بیگم یاد نہ آئے یہ نہیں ہو سکتا۔ اس کی گائیکی اس کی آواز اس کے گیت صدا بہار ہیں۔ وہ ایسے گیت جو کوئی اور نہ گا سکا۔۔۔