Wed, September 16, 2026

القاعدہ کی چال اور امریکی زوال

القاعدہ کی چال اور امریکی زوال

امریکی صدر جارج بش کی انتظامیہ نے 9/11کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر ہونے والے حملوں کے بعد ضرورت سے زیادہ ردِ عمل ظاہر کیا ۔ اس کی ایک اہم وجہ اس وقت کی امریکی انتظامیہ میں قدامت پسندوں کی اکثریت تھی، جن میں سرِ فہرست نائب صدر ڈک چینی اور پینٹا گون کے سربراہ ڈونلڈ رمز فیلڈ تھے۔ ابھی حملے کے بعد امدادی سرگرمیاں جاری تھیں کہ ان قدامت پسندوں نے صدر بش کی خارجہ پالیسی پر قبضہ جما لیا اور اسے ایک ایسی انتہائی صورت کی جانب لے کر چل پڑے جس کا مقصد نہ صرف وسیع تر مشرقِ وسطیٰ میں امریکی غلبے کو مستحکم کرنا بلکہ عالمی طاقت بننے کا خواب دیکھنے والے ملکوں اور علاقائی حریف طاقتوں کو بھی ان کے عزائم سے باز رکھنا تھا۔نائن الیون کے بعد دنیا بھر میں امریکہ کے ساتھ ہمدردی اور عوام کے اتحاد نے ان قدامت پسندوں کو اپنے عزائم کو عملی شکل دینے کا موقع فراہم کر دیا۔ چنانچہ اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے دیگر رہنماؤں کو گرفتار کرنے اور افغانستان کی تعمیرِ نو کی بجائے بش انتظامیہ نے عراق کے خلاف جنگ کی تیاریاں شروع کر دیں۔ عراق کے خلاف جنگ کو امریکی خارجہ پالیسی کا انتہائی تباہ کن فیصلہ تصور کیا جاتا ہے کیونکہ اس سے نہ صرف واشنگٹن کو حاصل بین الاقوامی حمایت اور یکجہتی ختم ہو گئی بلکہ دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں میں یہ احساس پیدا ہو گیا کہ امریکہ کی جنگ اسلام کے خلاف ہے۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ عراق پر حملہ کرنے سے امریکہ اسامہ بن لادن کے پھینکے گئے جال میں پھنس گیا، جس کا مقصد اسے جنگوں میں الجھا کر اس کی طاقت کو کمزور کرنا تھا ۔ اسامہ بن لادن کو یقین تھا کہ جس طرح افغانستان میں جنگ کے بعد سابق سوویت یونین کمزور ہوا اور اقتصادی بد حالی کے نتیجے میں ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا تھا، اسی طرح امریکہ کو بھی الجھا کر کمزور کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ بعد میں دیکھا گیا کہ عراق، افغانستان کی جنگوں اور یمن، صومالیہ، پاکستان میں ڈرون حملوں سے اس کے فوجی اخراجات میں نہ صرف اضافہ ہوا بلکہ ان مقامات پر لڑائی کے دوران شہریوں کی ہلاکت اور امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک سے واشنگٹن کی اخلاقی ساکھ بھی پامال ہوئی۔ 
آج امریکہ افغانستان سے پسپائی اختیار کر گیا ہے، جب کہ نام نہاد دہشت گردی کی عالمی جنگ وہیں پر ہے، دہشت گردی ختم تو نہ ہوئی بلکہ اس میں اب آئے روز اضافہ ہو رہا ہے۔ اس جنگ پر ہونے والے اخرجات نے امریکہ کی اقتصادی حالت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ واشنگٹن دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں 8 ٹریلین ڈالر سے زائد اخراجات برداشت کر چکا ہے اور اس رقم کا امریکہ کے مالیاتی بحران میں قابلِ ذکر حصہ ہے اور آج امریکہ کی فنانشل پوزیشن کچھ ایسی ہو گئی ہے کہ اس کے ذمے واجب الادا قرضوں کی مالیت 34 ٹریلین ڈالر سے زائد ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ ان قرضوں کی مالیت میں 25ہزار ڈالر فی سیکنڈ کی شرح سے اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ پریشان کن ہے کہ امریکہ کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جنہیں اپنی آبادی کے لحاظ سے فی کس بنیادوں پر اوسطاً سب سے زیادہ عوامی قرضوں کا سامنا ہے اور یہ قرضے بہر حال کبھی نہ کبھی واپس کئے جانے ہیں۔ جس رفتار سے ان قرضوں کی مالیت بڑھتی جا رہی ہے ماہرین کے نزدیک دو سال بعد ان رقوم کی کی مجموعی مالیت میں سالانہ ایک ٹریلین ڈالر کا اضافہ ہونے لگے گا۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ امریکی حکومت کے جاری کردہ مالیاتی بانڈز خرید کر امریکی معیشت میں سرمایہ کاری کریں۔ اس طرح سرمایہ کاروں کو کچھ فائدہ سود کی شکل میں یعنی ٹریژری بانڈز پر منافع کے نام دیا جاتا ہے ۔ نئے ڈالرز چھاپ کر اور بانڈز کی فروخت سے حاصل کردہ رقوم سے قرضوں کا ایک حصہ واپس کر دیا جاتا ہے۔ لیکن یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟ خاص طور پر ان حالات میں کہ بظاہر امریکی معیشت کی حالت تو اچھی ہے لیکن یورپی سرمایہ کار پھر بھی امریکہ کے سرکاری مالیاتی بانڈز کی منڈی میں اپنا سرمایہ لگانے میں اب زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کر رہے ہیں۔ امریکہ دنیا کی اتنی بڑی معیشت ہونے کے باوجود عوامی قرضوں کا بوجھ اتنا زیادہ ہو چکا ہے کہ پوری دنیا کے تمام ارب پتی انسانوں کی دولت جمع کر لی جائے اور اس دولت سے امریکہ کے قرضے واپس کر دئے جائیں تو پھر بھی ان قرضوں کا نصف بھی ادا نہیں ہو سکے گا۔ امریکہ کے ان مالیاتی مسائل کی وجہ یہ ہے کہ جنگوں میں الجھا ہوا ہونے کی وجہ سے مستقل بنیادوں پر اس سے کہیں زیادہ رقوم خرچ کرتا ہے جتنی کہ اسے ٹیکسوں سے آمدنی ہوتی ہے۔ یہی چیز ہے جو القاعدہ تنظیم چاہتی تھی کہ امریکہ کو اس قدر الجھا دیا جائے کہ وہ معاشی طور پر تباہ ہو جائے۔ بظاہر گیارہ ستمبر 2001ء کو امریکی سرزمین پر ہونے والے حملوں کے بعد القاعدہ اپنی اس حکمتِ عملی میں کافی کامیاب نظر آ رہی ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر امریکہ کے زوال کے عمل کو تیز کرنا تھا۔  بش کے دور میں قومی سلامتی کے اعلیٰ عہدیدار رچرڈ کلارک نے لکھا " ہم اپنے دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیلتے 
رہے جنہوں نے جان بوجھ کر ایسی کاروائیاں کیں کہ ہم ان کا جواب ان کے اندازوں کے مطابق دیں، جس سے ہماری معیشت کو شدید نقصان پہنچا"۔ امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوسری بار صدر کے عہدے پر فائز ہوئے ہیں لیکن انہوں نے ماضی سے سبق سیکھنے کے بجائے اپنی قومی سلامتی کی حکمتِ عملی میں چین، روس، ایران اور اسلام کو امریکہ کے لئے اصل خطرہ قرار دیا ہے۔ چین اور روس کو خطرہ قرار دینا امریکہ کی پرانی پالیسی ہے لیکن مذہب کی حیثیت سے اسلام کو امریکہ کے لئے اصل خطرہ قرار دینا ٹرمپ کا دماغی فتور ہے یہی سوچ صدر بش کے دور کے قدامت پسندوں کی تھی۔ اسامہ بن لادن کا 2004ء میں جاری کیا گیا ایک آڈیو بیان حقیقت کے قریب معلوم ہو رہا ہے جس میںا نہوں نے کہا تھا کہــ"ہم امریکہ کو اتنا لہو لہان کر دیں گے کہ وہ دیوالیہ ہو کر رہ جائے گا۔ ہمارا کام بس اتنا ہے کہ کسی بھی جگہ کپڑا لہرا کر اس پر القاعدہ لکھ دیں اور فوجی جنرل فوراً ہی وہاں دوڑ پڑیں گے اور اس کے نتیجے میں امریکا کا جانی، مالی اور سیاسی نقصان ہوتا رہے گا"۔ اسامہ بن لادن کی پیشین گوئی کے عین مطابق امریکہ معاشی طور پر تباہی کی جانب گامزن ہے۔ یعنی امریکہ القاعدہ کی چال میں پھنس گیا اور دنیا کو ایک غیر ضروری جنگ میں جھونک دیا جس کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا جو ابھی تک جاری ہے۔

ٹیگز: