Wed, September 16, 2026

افغانستان دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ، القاعدہ اور فتنہ الخوارج چھ صوبوں میں سرگرم: اقوام متحدہ کی رپورٹ

افغانستان دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ، القاعدہ اور فتنہ الخوارج چھ صوبوں میں سرگرم: اقوام متحدہ کی رپورٹ

نیویارک:اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ میں افغانستان میں القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان (فتنہ الخوارج) کی مضبوط اور منظم موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ دہشتگرد گروہ غزنی، ہلمند، قندھار، کنڑ، ارزگان اور زابل میں آزادانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں، اور خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔

یہ رپورٹ اقوام متحدہ کی تجزیاتی معاونت و پابندیوں کی نگران ٹیم نے 24 جولائی 2025 کو سیکیورٹی کونسل میں جمع کروائی، جس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کی حکومت ان گروہوں کو عملاً کھلی چھوٹ دیے ہوئے ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ القاعدہ کے کئی تربیتی مراکز فعال ہیں، جن میں سے تین نئے کیمپ خاص طور پر القاعدہ اور ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی عسکری تربیت کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

پیراگراف 19 میں بتایا گیا ہے کہ فتنہ الخوارج کے پاس تقریباً 6,000 تربیت یافتہ جنگجو موجود ہیں، جنہیں جدید اسلحہ دستیاب ہے، جس سے ان کے حملے مزید مہلک ہو گئے ہیں۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ان گروہوں کی آزادی کے ساتھ جاری کارروائیاں علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہیں، اور ان کے نیٹ ورکس کا خاتمہ فوری ناگزیر ہے۔

ٹیگز: