Wed, September 16, 2026

ٹرمپ امن منصوبہ یاغزہ پرقبضے کی امریکی چال؟

ٹرمپ امن منصوبہ یاغزہ پرقبضے کی امریکی چال؟

دنیا ایک بار پھر امن کے نام پر دھوکا کھانے جا رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں جو نیا پیس پلان یا بیس نکاتی ایجنڈا فلسطین کے نام پر پیش کیا ہے، وہ دراصل اسرائیل کی توسیع اور فلسطین کے وجود کے خاتمے کا منصوبہ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی امریکہ یا مغرب امن کی بات کرتے ہیں، وہاں خون بہنے لگتا ہے۔ عراق، افغانستان، لیبیا، شام اور اب فلسطین، سب اسی مہذب دنیا کے امن منصوبوں کی تجربہ گاہ بن چکے ہیں۔
ٹرمپ کا ایجنڈا دراصل ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کا اعلان ہے۔ اس منصوبے کے تحت فلسطین کے وہ علاقے جو کبھی خودمختار ریاست کے قیام کے لیے مخصوص کیے گئے تھے، اب براہ راست اسرائیلی نگرانی میں لائے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ نے ’’پیس بورڈ‘‘ کے نام پر ایک بین الاقوامی کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے  اور حیرت انگیز طور پر اس کی قیادت سابق برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر کو سونپی گئی ہے۔یہ وہی ٹونی بلیئر جس نے جھوٹے ’’عراقی کیمیکل ہتھیار‘‘ کے بہانے لاکھوں عراقیوں کو مروایا  اور بعد میں خود اعتراف کیا کہ ’’عراق پر حملہ غلط فیصلہ تھا۔‘‘ ایسے شخص کو فلسطین کے لیے امن کا نمائندہ بنانا، دراصل مظلوم قوم کے زخموں پر نمک چھڑکنے  بلکہ بھیڑوں کو قصائی  کی نگرانی میں دینے کے مترادف ہے۔
7 اکتوبر 2023 سے اب تک دو برس میں غزہ پر اسرائیلی حملوں نے جدید دور کی سب سے بڑی انسانی المیہ صورت اختیار کر لی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک 67 ہزار سے زائد فلسطینی شہید، 1لاکھ 70 ہزار سے زیادہ زخمی  جبکہ 12 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اس چھوٹے سے علاقے میں سکول، ہسپتال، عبادت گاہیں اور پناہ گزین کیمپ  سب ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ اسرائیل کو یہ سب کچھ کرنے کا حوصلہ کہاں سے ملا؟ جواب آسان ہے، امریکہ کی پشت پناہی سے۔ اسرائیل کو جدید ترین ہتھیار، اسلحہ، مالی امداد اور سیاسی تحفظ، سب امریکہ فراہم کر رہا ہے۔ امریکی کانگریس نے صرف 2023 میں 14 ارب ڈالر کی اضافی فوجی امداد منظور کی، جو براہِ راست غزہ میں تباہی کے لیے استعمال ہوئی۔ اقوامِ متحدہ میں جب بھی فلسطین کے حق میں قرارداد پیش کی جاتی ہے تو امریکہ ویٹو کردیتا ہے۔ یوں دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک جوبزعم خودکو انسانیت کا نجات دہندہ  سمجھتاہے، مگر مظلوم فلسطینیوں کے خون پر خاموش رہتا ہے بلکہ قاتلوں کو آلات قتل بھی فراہم کرتاہے۔
اگر ہم ذرا ماضی میں جھانکیں تو مسئلہ فلسطین کی جڑیں دراصل برطانوی سامراج کی بچھائی ہوئی ہیں۔ پہلی جنگِ عظیم کے دوران برطانیہ نے عرب قبائل  سے کہا کہ اگر وہ خلافتِ عثمانیہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں تو جنگ کے بعد عربوں کو آزاد ریاستیں دی جائیں گی۔ مگر پسِ پردہ، اسی برطانیہ نے 1917 میں بالفور اعلامیہ جاری کیا۔ جس کے تحت یہودیوں کے لیے فلسطین میں قومی وطن کے قیام کا وعدہ کیا گیا۔ یوں خلافت عثمانیہ سے غداری کرنے والے عربوں کی پیٹھ میں بھی خنجر گھونپ دیا گیا۔ 1948 میں اسرائیل کو ایک مذہبی ریاست کے طور پر وجود بخشا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اردن، مصر، فلسطین، شام اور لبنان کو اس سازش کی بھٹی میں جھونک کر ان کے علاقے چھین لئے گئے اور کوئی کچھ نہ کر سکا۔ 
اقوامِ متحدہ، جسے دنیا انصاف کا محافظ سمجھتی ہے، فلسطین کے معاملے میں محض ربڑ اسٹیمپ ادارہ بن چکا ہے۔ اس کے اجلاسوں میں تقریریں تو بہت ہوتی ہیں، مگر عملاً کچھ نہیں ہوتا۔ غزہ کے بچوں کی لاشیں اٹھانے والے والدین آج بھی سوال کرتے ہیں:‘‘کیا انسانیت صرف یوکرین تک محدود ہے؟ مگر جواب ندارد۔
یہ حقیقت ہے کہ فلسطینی عوام نے آزادی کی جدوجہد میں ناقابلِ یقین قربانیاں دیں۔ یاسر عرفات کی قیادت میں پی ایل او، ’’فلسطین لبریشن آرگنائزیشن‘‘  نے ایک عرصہ تک عدم تشدد کا راستہ اپنایا، اقوامِ متحدہ سے مذاکرات کیے، اور دو ریاستی حل کی حمایت کی۔ مگر اسرائیلی جارحیت اور امریکہ کے دوغلے رویے نے عرفات کی تحریک کو کمزور کر دیا۔ اسرائیل نے بار بار امن معاہدے توڑے، بستیوں کی تعمیر جاری رکھی اور یاسر عرفات کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دے کر عالمی سطح پر تنہا کیا۔ اسی خالی جگہ کو حماس نے پر کیا  جو 1987 میں قائم ہوئی۔ ابتدا میں حماس کو خود اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں نے ’’اسلامی توازن‘‘ کے طور پر تقویت دی تاکہ پی ایل او کا اثر کم کیا جا سکے۔ حماس کو ایک متبادل فلسطینی مزاحمتی تحریک کے طور پر پیش کیا گیا۔ اکتوبر 2023 میں جب حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا، تو اس میں سیکڑوں اسرائیلی ہلاک ہوئے جن میں فوجی بھی شامل تھے۔ اس کے بعد اسرائیل نے بدترین انتقامی کارروائی شروع کی، جس میں غزہ کی 80 فیصد عمارتیں تباہ کر دی،ہزاروں شہید،لاکھوں معذور اور بے گھر،  یوں پوری دو ملین آبادی کو عملاً اجتماعی سزا دی گئی۔
اب حیرت کی بات یہ ہے کہ وہی امریکہ، جو اسرائیل کو جدید ہتھیار دیتا رہا، آج ’’جنگ بندی‘‘ کی اپیلیں کر رہا ہے۔ امریکی صدر کے بیانات اور دورہ اسرائیل کا مقصد صرف ایک ہے۔ دنیا کو یہ دکھانا کہ واشنگٹن امن کا خواہاں ہے  جبکہ پسِ پردہ وہ اسرائیل کو مزید وقت، مزید وسائل اور مزید ہتھیار دے رہا ہے۔ یہ منافقت نہیں تو اور کیا ہے؟۔
پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کے حقِ خودارادیت کی حمایت کی ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم میں بھی  ہمارا مؤقف واضح رہا ہے کہ بیت المقدس فلسطینیوں کا ہے اور اسرائیل کا وجود ناجائز ہے۔ مگر آج داخلی انتشار، سیاسی تقسیم اور معاشی کمزوری نے ہماری آواز کو کمزور کر دیا ہے۔ لیکن یہاں ایک مذہبی سیاسی جماعت نے پاکستان میں حماس کا دفتر کھولنے کی پیشکش کی ہے اور اسے ’’فلسطینی مزاحمت کا جھومر‘‘ کہا جا رہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیاپاکستان ایسے متشدد گروہوں کی آماجگاہ بننے کا متحمل ہو سکتا ہے؟ کیا ہم نے افغانستان کی جنگ سے کوئی سبق نہیں سیکھا؟ وہی ’’پین اسلام ازم‘‘ کا نعرہ، جس نے ہمیں 80 کی دہائی میں غیروں کی جنگ میں جھونکا، آج دوبارہ دہرانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ پاکستان کے پاس اب یہ گنجائش نہیں کہ وہ کسی اور کی جنگ اپنے ملک میں لائے۔
اگر ہم واقعی پاکستان کا رہنماکردار دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں متشدد نعروں کے بجائے دانش، ایمان اور انسانیت کی راہ اپنانا ہو گی۔ قرآن کی تعلیمات اور سیرتِ نبویﷺ کی روشنی میں ایسا قومی نظام تشکیل دینا ہوگا جو انصاف، معیشت، اور اخلاقیات پر کھڑا ہو۔ ہمیں فلسطینیوں  سے صرف ہمدردی نہیں بلکہ ان کے لیے عملی فکری رہنمائی کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ وہ رہنمائی جو سامراجی چالوں کو پہچانے اور امت کو جذباتی فیصلوں کے بجائے شعوری حکمت پر لائے۔ دنیا بدل رہی ہے۔ طاقت کے مقابلے میں اب  درست فکر اور اخلاق کی جنگ شروع ہو چکی ہے۔ اگر پاکستان نے اس موقع پر عقل مندی سے کام لیا تو وہ نہ صرف خود کو بچا سکتا ہے بلکہ مظلوم اقوام کے لیے امیدبھی  بن سکتا ہے۔ ورنہ ’’ٹرمپ پیس پلان‘‘ کے نام پر جو کھیل شروع ہوا ہے، اس کے شعلے پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔پھر شاید انسانیت کے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہ بچے۔

ٹیگز: