Wed, September 16, 2026

نواز شریف ، چھ مرتبہ کا وزیر اعظم

 نواز شریف ، چھ مرتبہ کا وزیر اعظم

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے غنڈوں نے دہلی سے لاہور آنے والی سمجھوتہ ایکسپریس کی اس بوگی کو آگ لگائی جس میں پاکستان سے جانے والے واپس آرہے تھے۔ اس سانحہ اور بھارت کی پاکستان دشمنی کے حوالے سے سابق فوجی افسروں ، کراچی کے سابق کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نصیر اختر، میجر جنرل راحت لطیف اور وائس ایڈمریل (ر) جاوید اقبال کے انٹرویو کیے۔ جاوید اقبال نے انٹرویو کے شرط عائد کی ، جو کہیں گے شائع ہوگا، وعدہ کر لیا۔ بری فوج کے سربراہوں کے حوالے سے کچھ متنازعہ جملے کہے جو میں نے یہ سوچ کر من و عن لکھ دیئے کہ اگر شائع نہ ہوئے تو اصل مسودہ دکھا کر کہہ دوں گا کہ میںنے لکھ دیا تھا اب یہ ایڈیٹر کا اختیار ہے کہ کیا شائع ہوا۔ بہر حال وہ جملے شائع ہوگئے۔ ایڈمرل جاوید اقبال بہت خوش ہوئے ، ساتھ ہی بتایا فوج کی طرف سے کچھ معاملات ہوئے ہیں۔ ہفتے کے روز ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران نوجوان اینکر کی جانب سے عمران خان کے حوالے سے کچھ سوالات نے انہیں بدمزہ کر دیا اور انہوں نے اپنی اندرونی تلخی کا اظہار ان الفاظ میں کیا، تم گدھے ہو ، تمہیں کچھ معلومات نہیں، میں انٹرویو نہیں دوں گا، سے خود ان سے کیا ہوا انٹرویویاد آگیا۔ وہ تمام ٹی وی اینکر جنہیں عمران کو آسمان پر چڑھانے کیلئے ٹی وی چینلوںمیں بھرتی کیا گیا تھا اپنے کرتوتوں کے باعث عمران تو زمین پر آگیا مگر وہ اینکرز ابھی خود اسی آسمان پر بھٹک رہے ہیں۔ ایڈمرل جاوید اقبال کئی لوگوں کی طرح نیا پاکستان کا بے تعبیر خواب دیکھ کر تحریک انصاف میں شامل ہوئے۔ عمران کا اصل چہرہ دیکھ کر علیحدہ ہوگئے۔ ان میں صحافی و تجزیہ نگار محسن بیگ بھی شامل ہیں۔ گزشتہ روز نصراللہ ملک کے پروگرام میں اس سوال کے جواب میں کہ عمران کی رہائی کی تاریخیں دی جا رہی ہیں، علیمہ خان کی جانب سے ڈیل کی کھلی خواہش کا کیا پس منظر ہوسکتا ہے، کے جواب میں محسن بیگ نے کہا، یہ سب بے بنیاد ہے۔ عمران رہا نہیں ہو سکتا۔ دلیل یہ ہے کہ پاکستانی فوج کی تنصیبات پر کھلے دشمن بھارت نے حملہ کیا پھر چھپے دشمن عمران خان نے حملہ کیا ہے۔ اور یہ حملہ ضرور کامیاب ہوجاتا اگر زیادہ لوگ نکل آتے،۔ محسن بیگ کی اس بات سے میرا جزوی اتفاق ہے میں سمجھتا ہوں لوگ اس سے آدھے بھی ہوتے یہ حملہ کامیاب ہوجاتا اگر آرمی چیف جنرل عاصم منیر کمال دانش مندی اور لمحوں میں قوت فیصلہ کی اہلیت نہ رکھتے۔ پی ٹی آئی کے حملہ آوروں کے عزائم کا ادراک کرتے ہی تمام فوجی مراکز کو حکم دے دیا گیا حملہ آور کچھ بھی نقصان کریں، جواب نہ دیا جائے۔ کیونکہ محض تحفظ کی خاطر جوابی کارروائی کے نتیجے میں پی ٹی آئی کا ایک حملہ آور بھی مارا جاتا تو بھارت سمیت پاکستان دشمن ممالک اور عناصر دنیا بھر میں پاک فوج کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کا طوفان اٹھا دیتے۔ اس سے متاثر ہو کر پاکستان کے گلی کوچوں میں عوامی ردعمل جاگ اٹھتا تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جنرل فیض حمید ٹولا فوج کے اندر سے دباؤ بڑھانے کا موقع حاصل کر لیتااور جنرل عاصم منیرکو استعفیٰ پر آمادہ کیا جا سکتا تھااوراحتجاجی مظاہروں اور سازشوں سے جو مقصد حاصل نہ ہو سکتا وہ اس طرح حاصل ہو جاتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو پاکستان کی سلامتی مقصود تھی یہ حملہ ناکام ہوگیا۔ ویسے بھی عاصم کا معنی ہے ، نگاہ رکھنے والا، بچانے والا، چنانچہ جنرل عاصم منیر اسم بامسمیٰ ثابت ہوئے۔ 
بھارت کے قصائی مودی نے عمران حکومت کے دور میں پلوامہ ڈرامہ کر کے اور پاکستان میں جواب سے بے نیاز ہو کر دو تین جگہ میزائل گرا کر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کر کے اور گرفتار پائلٹ ابی نندن کی واپسی کو اپنی ایک دھمکی کا نتیجہ قرار دے کر الیکشن جیت لیا تھا۔ اس کا خیال تھا اسی طرح پلگام ڈرامہ کر کے بہار اور بنگال میں ہونے والے انتخابات میں کامیابی کی ضمانت حاصل کی جا سکتی ہے۔ لیکن مودی نہیں جانتا تھا کہ اب پاکستان میں میاں نواز شریف کی زیر رہنمائی حکومت ہے اور فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر ہیں۔ مودی کے مس ایڈونچر کا نتیجہ یہ ہوا وہ دنیا بھر میں رسوا، پاکستان کی مسلح افواج دنیا بھر میں عسکری اہلیت اور عظمت سے ہمکنار، جنرل عاصم منیر ملک کے دوسرے لیکن میری رائے میں پہلے فیلڈ مارشل کے اعزاز کے حق دار اور پاکستان کی حکومت عالمی سطح پر سرخرو، پاکستان کے عوام فخر آمیز خوشی سے سرشار ہوگئے۔
سندھ ن لیگ کے صدر بشیر میمن کے بقول میاں نواز شریف تین مرتبہ کے وزیر اعظم نہیں بلکہ چھ مرتبہ کے وزیراعظم ہیں۔ اس اجمال کی تفصیل یوں بیان کرتے ہیں کہ اقامہ ڈرامہ کے بعد شاہد خاقان عباسی منتخب وزیر اعظم نہیں تھے بلکہ نواز شریف نے اپنی نشست پر بٹھا دیا تھا اس طرح چوتھی مرتبہ بھی علامتی طور پر وہی وزیر اعظم تھے۔ پی ڈی ایم کی حکومت اور موجودہ دور میں شہباز شریف ، میاں نواز شریف کے ووٹوں سے وزیر اعظم بنے اور دونوں ادوار میں حکومتیں ان کی مشاورت اور رہنمائی سے چلائی جا رہی ہیں۔ اس طرح دونوں مرتبہ بھی بالواسطہ طورپر وزیر اعظم وہی ہیں۔ 
ن لیگ سندھ کے وہ رہنما اور کارکن جو بلاول کو عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز بخشنے پر وزیر اعظم شہباز شریف سے شکوہ کناں ہیں ، انہیں سوچ میں مثبت تبدیلی یوں لانی چاہیے کہ پاکستان میں قومی یکجہتی کو اجاگر کرنے کیلئے اپنے اتحادی لیکن دراصل سیاسی مخالف کو ذمہ دار ی سونپ کر زبردست فراخدلی کا ثبوت دیا ہے دوسرے وہ اطمینان رکھیں 6 اور 7 مئی کے بعد10 مئی کو بھارت کی ٹھکائی کا کریڈٹ آصف زرداری یا بلاول زرداری کو نہیں حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے میاں شہباز شریف اور مشاورت و رہنمائی کے حوالے سے میاں نواز شریف کو ہی جائے گا۔ ان کے بعد یہ سہرا فیلڈ مارشل حاصل عاصم منیر کے سر بندھے گا۔

ٹیگز: