Wed, September 16, 2026

کالا جال

کالا جال

ہر قوم کی پہچان اس کے نظریات، اخلاقیات اور اجتماعی ضمیر سے ہوتی ہے۔ جب کسی قوم کے اندر سے سچ کا چراغ بجھنے لگے، انصاف کی سانسیں پھولنے لگیں اور جب دیانتداری کو حماقت گردانا جائے تو سمجھ لیجئے کہ اس معاشرے نے بدعنوانی کو تمدنی شعار بنا لیا ہے۔ کرپشن محض ایک قانونی جر م نہیں یہ انسانیت کے منہ پر طمانچہ اور تہذیب کے تابوت میں آخری کیل ہے۔ اولادِ آدم کی سرشت میں خیر اور شر دونوں ہی شامل ہیں، نیکی و بدی کی دونوں راہیں اس کے سامنے موجود ہیں اور ان دونوں راستوںمیں فرق کی شناخت کے لیے انسان کو شعور کی دولت سے مالامال کیا گیا۔ بدقسمتی سے آج رشوت اور بدعنوانی (کرپشن) ایک سنگین مسئلہ ہے جو ہمارے معاشرے کو ہر سطح پر متاثر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں خود غرضی، لا قانونیت، ذاتی فائدہ، نمود و نمائش، کام چوری، اقربا پروری، ملاوٹ، اکتساد و اکتناز، نوکر شاہی، ٹیکس چوری جیسی ممنوعات زندگی کا حصہ بن کر رہ گئی ہیں۔ بد عنوانی اور رشوت ستانی کا یہ راستہ کسی ایک نقطے پر مرکوز نہیں رہتا، وسعتِ کائنات کی طرح دائرہ در دائرہ اس کا جال بھی پھیلتا جاتا ہے۔ معیارِ زندگی کو بہتر سے بہترین بنانے اور اپنے نفس کی تسکین کے لیے انسان کرپشن کا راستہ اختیار کرتا ہے بدقسمتی سے یہ برائی پاکستانی معاشرے میں ناسور کی طرح سرایت کر چکی ہے جس سے امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہو رہے ہیں۔ رشوت سے مراد وہ مال ہے جو کسی کے حق کو باطل کرنے کے لیے یا کسی باطل کو حاصل کرنے کے لیے دیا یا لیا جائے۔ نبی کریمﷺ کے ارشاد کے مطابق رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں۔ پاکستان کی معیشت پر بد عنوانی کے گہرے اثرات ہیں، یہ ایک ایسا جال ہے جس میں لالچ، طمع، جھوٹ، حرص، مکاری، فریب، خودنمائی کے خوش رنگ نگینے جڑے ہیں۔ کم فہمی، خود فریبی اور لالچ کا شکار لوگ، ان جھوٹے نگینوں کی چمک سے متاثر ہو کر ان کے حصول کے لیے اپنی ظاہری حقیقت اور فرض کو فراموش کر دیتے ہیں اور پھر انہیں اپنی ذات کے علاوہ کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا۔ فلک بوس مکان، قیمتی گاڑیاں، شادی بیاہ کی تقریبات میں شہ خرچیاں صرف ماہانہ تنخواہ سے آخر کیسے پورا ہو سکتی ہیں۔ ان کے پس منظر میں بدعنوانی سے حاصل کردہ مال کارفرما ہے، چہرے پر مصنوعی چہرہ چڑھا رکھا ہے اور دوسری جانب غربت اپنے پھن پھیلائے غریب کو پوری طرح سے جکڑے کھڑی ہے۔ رشوت صرف اپنے لینے اور دینے والے کو ہی برباد نہیں کرتی بلکہ پورے ملک و ملت کی بنیاد اور وہاں کے امن و امان کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیتی ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: اور تم ایک دوسرے کا مال آپس میں نا حق نہ کھایا کرو اور نہ مال کو (بطورِ رشوت) حاکموں تک پہنچایا کرو کہ یوں لوگوں کے مال کا کچھ حصہ تم (بھی) نا جائزطریقے سے کھا سکو حالاں کہ تمہارے علم میں ہو (کہ یہ گناہ ہے)۔ اس آیت مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ رشوت میں دیا جانے والا مال حلال، چاہے دینے والا اپنا کام نکلوانے کی غرض سے دے رہا ہو حرام ہے۔ بقول شاعر
ہم ترے محل پہ آ جائیں بہانوں سے کئی
کاش جنت کا دروغہ بھی پکڑ لے رشوت
آج ہم اس دور میں جی رہے ہیں جہاں ایمان بکتا ہے، کردار نیلام ہوتا ہے، ضمیر گروی رکھے جاتے ہیں اور قول کی کوئی قیمت باقی نہیں۔ شومئی قسمت کے ہمارے ملک میں معاشی عدم مساوات اور سماجی نا انصافی کا دور دورہ ہے۔ راتوں رات امیر بننے کی خواہش عوام کے دل و دماغ کو جکڑے ہوئے ہے، امیر لوگ اپنی امارت اور معیارِ زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے رشوت اور 
بد عنوانی کا سہارا لیتے ہیں جبکہ غریب امیر بننے کے لیے نت نئے جائز و نا جائز راستے تلاش کرتا ہے۔ پینے کے صاف پانی، بجلی، گیس، تعلیم اور مناسب طبی سہولیات سے محروم غریب طبقہ پھر سٹریٹ کرائمز میں مبتلا ہو کر شارٹ کٹ تلاش کرتا ہے۔ ملک کا تقریباً ہر ادارہ ہی فرض شناسی کے بجائے رشوت ستانی اور بد عنوانی کے راستے ناجائز مال اکٹھا کرنے میں مصروف ہے۔ ہر محکمے میں سودا بازی اپنے عروج پر ہے، کوئی بھی کام بغیر لین دین کے ممکن نہیں عدالتیں انصاف کی علامت کم، وکالت کی قیمتوں کی منڈی زیادہ دکھائی دیتی ہیں، ہمارے تھانے مظلوموں کی پناہ گاہ نہیںبلکہ با اثر افراد کے شکنجے ہیں۔ ہمارے تعلیمی ادارے علم کا مرکز نہیں بلکہ ڈگریوں کے کارخانے بن چکے ہیں، سیاستدانوں کے نعرے، تاجروں کے وعدے، افسروں کی قسمیں سب ایک ہی کینوس پر بدعنوانی کی تصویریں بناتے ہیں۔ ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ، ٹیکس، بجلی و گیس کی چوری سب ہی راتوں رات امیر ہونے کے فارمولے ہیں۔ اس امیر بننے کی دوڑ کے ملک و معاشرے پر اثرات کچھ اس طرح سے مرتب ہوئے ہیں کہ آج پاکستانی پاسپورٹ کی پوری دنیا میں کوئی خاص حیثیت نہیں ہے۔ برآمدات کے معیار ہیں کہ بتدریج کمی سے عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی مانگ میں کمی کے ساتھ ہی آج زرمبادلہ کی شدید کمی کا شکار ہے۔ ریاستی و سیاسی مشینری بالعموم کرپشن زدہ ہونے کی بدولت عالمی مالیاتی ادارے و امیر ممالک ہمیں قرض دینے سے گریزاں ہیں۔ پاکستان پوری دنیا کا شاید وہ واحد بد قسمت ملک ہے جہاں بد عنوانی کا زہر اس قدر رگوں میں اتر چکا ہے کہ لوگ اسے بُرائی شمار ہی نہیں کرتے۔ سوچنے کا مقام تو یہ ہے کہ آخر یہ سب شروع کب ہوا؟ شاید تب جب ہم نے سچ بولنے سے پہلے اس سے ہونے والے نقصان کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا، جب بچوں کو یہ سکھانا چھوڑ دیا کہ دیانتداری صرف دینی فریضہ نہیں بلکہ زندہ قوموں کی بنیادی اکائی ہے۔ جب ہم نے رزق کے تصور کو محض ماضی کا رومان سمجھ کر ترک کر دیا اور جب ہم نے کامیاب اس کو سمجھا جو دوسروں کا حق چھین کر خوشحال ہو۔

ٹیگز: