پاکستان اس وقت تاریخ کے سب سے کڑے امتحان سے گزر رہا ہے۔ معیشت کی گاڑی ایک ایسے نازک موڑ پر آن کھڑی ہوئی ہے جہاں ہر طرف بحران کے بادل ہیں۔ مہنگائی، قرضوں کا بوجھ، کمزور برآمدات اور سب سے بڑھ کر توانائی کا شعبہ وہ طوفان ہے جو ملک کی ترقی کی بنیادوں کو ہلا رہا ہے۔ اگر ترقی کو ایک شاہراہ سے تشبیہ دی جائے تو توانائی اس کے پہیے ہیں، لیکن افسوس کہ یہ پہیے برسوں سے بجلی چوری، بوسیدہ ترسیلی نظام اور سیاسی بے حسی کے بوجھ تلے جکڑے ہوئے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کو ہر سال 450 ارب روپے بجلی چوری اور ناقص ترسیلی نظام کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، غیر سرکاری رپورٹس یہ نقصان 589 ارب روپے سے بھی زائد بتاتی ہیں۔ یہ رقم محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک ایسا زخم ہے جو ہر سال معیشت کو مفلوج کر دیتا ہے، اس رقم سے کالا باغ ڈیم جیسے تین بڑے منصوبے مکمل کیے جا سکتے تھے۔ دیہی علاقوں میں کنڈا سسٹم اس طرح عام ہے جیسے کسی گاؤں کی چائے کی دکان، جبکہ شہروں میں غیر قانونی کنکشن کھلے عام لگے ہیں۔ اس جرم کے پیچھے بااثر مافیا اور سیاسی پشت پناہی اتنی مضبوط ہے کہ قانون کی گرفت محض خواب لگتی ہے۔ توانائی کے بحران کی دوسری بڑی وجہ پرانا اور ناکارہ ترسیلی نظام ہے۔ بجلی منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی کھو جاتی ہے، یہ منظر ایسے ہے جیسے قاصد پیغام منزل تک پہنچانے سے پہلے ہی گر کر دم توڑ دے۔ توانائی اور پانی کے اس بحران کے حل کے طور پر سب سے نمایاں منصوبہ کالا باغ ڈیم ہے۔ یہ محض ایک ڈیم نہیں بلکہ پاکستان کی توانائی، زراعت اور معیشت کی شہ رگ ہے۔ اگر یہ منصوبہ مکمل ہو جاتا تو آج ملک کو 3600 میگاواٹ سستی اور ماحول دوست بجلی میسر ہوتی، مون سون کے دوران بہہ جانے والے اربوں مکعب فٹ پانی کو محفوظ کر کے کھیت سیراب ہوتے، خشک سالی میں کسان آسمان کی طرف نہیں بلکہ اپنی ہری بھری فصلوں کی طرف دیکھتے۔ پاکستان دہائیوں سے سیلابی تباہ کاریوں کا شکار ہے۔ 2010 کے سیلاب میں دو کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے، 20 لاکھ گھر اجڑ گئے اور معیشت کو 43 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ 2014 کے سیلاب نے پنجاب اور سندھ میں لاکھوں ایکڑ زرعی زمین تباہ کر دی۔ 2022 کے تباہ کن سیلاب نے 3 کروڑ 30 لاکھ افراد کو متاثر کیا، 20 لاکھ مکانات گر گئے اور ملکی معیشت کو 30 ارب ڈالر سے زیادہ نقصان پہنچا۔ یہ واقعات اس تلخ حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ ہم پانی کو ذخیرہ نہ کر کے اپنے ہی ہاتھوں اپنی بربادی کے سامان کر رہے ہیں۔ دنیا کی ترقی یافتہ معیشتوں کی کامیابی کی بنیاد سستی اور وافر توانائی ہے، وہ اپنی صنعت کو بجلی اور ایندھن پر سبسڈی دیتی ہیں تاکہ عالمی منڈی میں ان کی مسابقت بڑھے، لیکن پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ ہماری صنعت مہنگی بجلی کے بوجھ تلے دب چکی ہے، کارخانے فیکٹریاں بند ہو رہے ہیں، برآمدات سکڑ رہی ہیں اور بیروزگاری بڑھ رہی ہے۔ توانائی کا یہ بحران براہِ راست معیشت کی شہ رگ کاٹ رہا ہے۔ اگر پاکستان کو معاشی دلدل سے نکالنا ہے تو حکومت کو فوری طور پر درج ذیل اقدامات کرنا ہوں گے: بجلی چوری کے خلاف بلاامتیاز کارروائی، چاہے چور عام شہری ہو یا بااثر سیاستدان۔ پرانے ترسیلی نظام کی اپ گریڈیشن تاکہ لائن لاسز کم کیے جا سکیں۔ کالا باغ ڈیم سمیت دیگر بڑے ڈیمز کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔ قابلِ تجدید توانائی (شمسی اور ہوا) کے منصوبوں میں نجی شعبے کو شریک کیا جائے۔ توانائی پالیسی کو آئینی تحفظ دیا جائے تاکہ سیاسی تبدیلیوں سے منصوبے متاثر نہ ہوں۔ پاکستان کے پاس وسائل کی کمی نہیں، کمی صرف نیت اور عمل کی ہے۔ اگر آج ہم نے توانائی کے بحران پر قابو پا لیا اور کالا باغ ڈیم کو حقیقت بنا دیا تو نہ صرف بجلی سستی ہو گی بلکہ برآمدات میں اضافہ، زرمبادلہ کے ذخائر میں استحکام اور مہنگائی پر قابو بھی ممکن ہو جائے گا۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے، فیصلے آج کرنا ہوں گے، ورنہ آنے والی نسلیں صرف ہمارے تاخیر کے بوجھ تلے سسکتی رہیں گی۔ یہ امتحان صرف معیشت کا نہیں بلکہ قومی سلامتی کا ہے، اور اب مزید غفلت کی کوئی گنجائش باقی نہیں۔ اس موقع پر یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے ہمیشہ ہر مشکل گھڑی میں اپنی عوام کا ساتھ دیا ہے اور قدرتی آفات کے دوران ریسکیو، ریلیف اور بحالی کے مراحل میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑی رہی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت فوری طور پر کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لیے عملی اقدامات کرے تاکہ آنے والے وقت میں پاکستان کو پانی کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے اور بھارت کی آبی جارحیت کے مقابلے میں ہم مضبوط ہو کر کھڑے ہو سکیں۔