یہ اب کوئی راز نہیں رہا کہ بھارت خطے میں اپنے سیاسی، معاشی اور اسٹریٹجک مفادات کے لیے کھلے محاذ آرائی کے بجائے خفیہ جنگ کو ترجیح دیتا ہے۔ پاکستان اس طرزِ عمل کا سب سے پرانا اور بڑا شکار رہا ہے، جہاں برسوں سے یہ دیکھا جا رہا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی RAW دہشت گردی، سیاسی عدم استحکام، میڈیا پروپیگنڈا اور معاشی دباؤ کے ذریعے ریاست کو اندر سے کمزور کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ اب یہی کھیل نیپال میں کھیلا جا رہا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ میدان بدل گیا ہے، طریقے وہی ہیں اور مقصد بھی وہی اپنے پڑوسی کو تابع رکھنا۔
نیپال میں مارچ 2026 کے متوقع عام انتخابات دراصل بھارتی مداخلت کے خلاف ایک ریفرنڈم بنتے جا رہے ہیں۔ سامنے آنے والی رپورٹس، لیکس اور تحقیقی انکشافات یہ واضح کرتے ہیں کہ RAW نیپال میں وہی ماڈل لاگو کر رہی ہے جو پاکستان میں آزمودہ ہے۔ سیاسی جماعتوں میں سرمایہ کاری، وفادار گروہوں کی تشکیل، میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے بیانیہ کنٹرول، انتخابی عمل پر اثرانداز ہونا اور مزاحم آوازوں کو دبانا۔
پاکستان میں بلوچستان ہو یا کراچی، وہاں جس طرح بھارتی مداخلت کے شواہد پیش کیے جاتے رہے ہیں، نیپال میں بھی آج تقریباً وہی نقشہ دکھائی دے رہا ہے۔
2025 میں نیپال کے نوجوانوں نے Gen Z تحریکوں کے ذریعے جو بغاوت کی، وہ دراصل اسی بیرونی تسلط کے خلاف تھی۔ *Britannica* سمیت متعدد اداروں نے تسلیم کیا کہ یہ احتجاج کرپشن سے زیادہ غیر ملکی مداخلت کے خلاف عوامی ردِعمل تھا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب بھارت کو خطرہ محسوس ہوا کہ نیپال اس کے ہاتھ سے نکل سکتا ہے بالکل ویسے ہی جیسے پاکستان میں جب عوامی شعور بڑھتا ہے تو اندرونی خلفشار کو ہوا دی جاتی ہے۔ #NepalFirst اور #IndiaOutNepal جیسے نعروں نے نئی دہلی کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔
RAW کا نیپال میں نیٹ ورک کسی افسانے کا حصہ نہیں بلکہ ایک دستاویزی حقیقت بنتا جا رہا ہے۔ *Democracy for Nepal* اور *Dragon Media* کی رپورٹس کے مطابق بھارتی سفارتی مشنز، این جی اوز اور نام نہاد ترقیاتی فورمز کے ذریعے سیاسی انجینئرنگ کی جا رہی ہے۔ اکتوبر 2025 میں نیپالی نیشنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کی کارروائیاں، جعلی شناختیں، خفیہ آلات اور غیر اعلانیہ رقوم کی برآمدگی وہی کہانی دہرا رہی ہیں جو پاکستان میں کلبھوشن یادیو جیسے کیسز میں سامنے آ چکی ہے۔ *ہمالین ٹائمز* کی لیک آڈیو نے تو گویا مہر ثبت کر دی کہ نیپال کی بعض سیاسی اشرافیہ دہلی کے اشاروں پر سیاست کرنے کو تیار ہے۔
میڈیا اور ڈیجیٹل میدان میں بھی بھارتی مداخلت چھپی نہیں رہی۔ *Kantar Nepal* کے سروے کے مطابق بھارت نواز بیانیے پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے، بالکل اسی طرح جیسے پاکستان میں مخصوص سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے ذریعے ریاستی بیانیے کو نقصان پہنچانے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ صحافیوں کی نگرانی اور سائبر حملوں کے الزامات، جنہیں *Reporters Without Borders* نے رپورٹ کیا، اس بات کا ثبوت ہیں کہ RAW تنقید برداشت کرنے کے بجائے اسے خاموش کرانے پر یقین رکھتی ہے۔
الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر اٹھنے والے سوالات خاص طور پر خطرناک ہیں۔ نیپال میں EVMs کے حوالے سے شکوک وہی ہیں جو پاکستان اور خود بھارت میں برسوں سے موجود ہیں، مگر یہاں مسئلہ یہ ہے کہ مشینیں بھی وہی فراہم کر رہا ہے جس پر مداخلت کا الزام ہے۔ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے کسی ملزم کو خود منصف بنا دیا جائے۔ *Himalmedia* اور دیگر اداروں کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ اس عمل نے نیپالی عوام کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
*ایمنیسٹی انٹرنیشنل* کی رپورٹ میں نوجوان کارکنوں کو دھمکیاں اور تشدد اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ بھارت اپنے مفادات کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبانے سے نہیں ہچکچاتا، چاہے وہ پاکستان ہو یا نیپال۔ فرق صرف یہ ہے کہ نیپال میں یہ سب کچھ ابھی کھل کر سامنے آ رہا ہے، جبکہ پاکستان میں یہ کہانی دہائیوں سے دہرائی جا رہی ہے۔
آج نیپال کے نوجوان وہی سوال پوچھ رہے ہیں جو پاکستانی عوام برسوں سے پوچھتے آ رہے ہیں: کیا ہم آزاد ہیں؟ کیا ہمارے فیصلے ہمارے ہیں؟ پن بجلی کے غیر منصفانہ معاہدے، معاشی انحصار اور سیاسی مداخلت نے نیپال کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے جہاں خاموشی خودکشی کے مترادف بن چکی ہے۔
اختتاماً یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ بھارت کا مسئلہ ہمسایہ ممالک کی خودمختاری نہیں بلکہ انہیں اپنے ماتحت رکھنے کی خواہش ہے۔ پاکستان نے اس کی قیمت دہشت گردی، عدم استحکام اور معاشی نقصان کی صورت میں چکائی، اور اب نیپال کو اسی راستے پر دھکیلا جا رہا ہے۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ جب عوام بیدار ہو جائیں تو خفیہ ایجنسیاں، سرمایہ اور سازشیں بھی بے بس ہو جاتی ہیں۔ نیپال کے نوجوان اگر ڈٹ گئے تو یہ صرف ایک انتخاب نہیں جیتیں گے، بلکہ پورے خطے کے لیے بھارتی بالادستی کے بیانیے کو چیلنج کر دیں گے۔