Wed, September 16, 2026

غیرت کے نام پر قتل

غیرت کے نام پر قتل

قاتل کے چہرے پر کسی قسم کا خوف، ندامت، پریشانی نہ تھی۔ تعلیم تو بالکل ہی نہ تھی، ہاتھ میں اینڈرائیڈ موبائل تھامے وکیل صاحب کے سامنے موجود تھا، اپنی ضمانت کے سلسلے میں اسے وکیل صاحب کی خدمات درکار تھیں۔ بطور ایک پروفیشنل وکیل کسی کے ذاتی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا مگر نہ جانے کیوں اس لڑکے سے عجیب سی گھن آئی، میں نے اُس سے پوچھا تم نے قتل کیوں کیا؟ اس کا جواب تھا غیرت کیلئے۔ اس نے سرائیکی میں کہا کہ اس کی بہن ایک لڑکے کے کے ساتھ بھاگ گئی تھی اور خفیہ نکاح کر لیا تھا۔ ہماری غیرت نے گوارہ نہ کیا، تو میں نے اسے قتل کر دیا، جبکہ لڑکا بھاگنے میں کامیاب ہو گیا۔ جب اس کے کام کے بارے میں دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ وہ کھیتی باڑی کا کام کرتا ہے۔ اس کے حلیئے سے ہی جہالت اور حیوانیت جھلک رہی تھی۔ تلفظ کی ادائیگی بھی عجیب و غریب تھی۔ دوران گفتگو مزید پتہ چلا کہ اس کے خلاف پہلے بھی چوری، راہزنی کی متعدد ایف آئی آر درج ہیں، اس کے ہاتھ سے موبائل لے کر باتوں باتوں میں تھوڑی ریسرچ کی تو بڑے حیران کن انکشاف۔ ہوئے، اس کے وٹس ایپ میں کچھ لڑکیوں کی تصاویر اور میسج تھے، جب ان تصاویر بارے دریافت کیا تو بڑی ڈھٹائی سے بولا کہ میری ان سے فرینڈشپ ہے اور وہ اپنی مرضی سے میرے ساتھ بات کرتی ہیں۔ میں نے کہا تمہاری برادری اور دیہاتی پس منظر تو اسکی اجازت نہیں دیتا، جس بنیاد پر تم نے اپنی بہن کو قتل کیا، وہی کام خود بھی کر رہے.ہو۔ وہ لڑکیاں جن سے تمہاری دوستی ہے کیا بغیر والدین کے پیدا ہوئی ہیں، کیا ان کا کوئی بھائی نہیں، کیا وہ کسی کی بیٹیاں نہیں؟ ابھی ہماری بحث چل رہی تھی کہ میرے دوست وکیل نے اسے بازو سے پکڑا اور دوسرے کمرے میں لے گیا۔ میں سوچنے لگا کہ ہماری کیسی غیرت ہے؟ جو چوری چکاری، بد دیانتی، ملاوٹ، رشوت خوری، حتیٰ کہ ہر طرح کی حرام کاری پر مکمل خاموش رہتی ہے مگر جونہی کوئی لڑکی اپنی پسند کی شادی کر لے تو فوراً انگڑائیاں لینا شروع کر دیتی ہے۔ وہ افراد جن کی اپنی بد اعمالیوں کا وزن ان کا اپنا دامن بھی نہیں اٹھا سکتا، ان کے منہ سے بھی جھاگ نکل رہی ہوتی ہے۔ جس جرم کو ایشو بنا کر ہم دوسروں کو زندگی سے محروم کر دیتے ہیں ان سے بڑے گناہ اور جرائم میں خود ملوث ہو کر بھی ہم با غیرت رہتے ہیں۔ ایک شخص پر زنا کا الزام تھا۔ الزام ثابت ہو گیا، تو بادشاہ نے حکم دیا کہ اس کو سنگسار کر دیا جائے، پولیس نے مجرم کو پکڑا اور سنگسار کرنے کیلئے ایک میدان میں لے گئی اور منادی کرا دی گئی کہ شہر کے سب لوگ میدان میں اکٹھے ہو جائیں کہ مجرم کو سنگسار کیا جانا ہے۔ تمام لوگ اکٹھے ہو گئے تو مجرم کو میدان میں بٹھا کر آخری خواہش پوچھی گئی تو اس نے کہا کہ مجھے پتھر وہ مارے جس نے زندگی میں وہ کام نہیں کیا جس کی سزا مجھے دی جا رہی ہے۔ بادشاہ کی جانب سے اعلان ہو گیا کہ میدان میں صرف وہی شخص کھڑا ہو جس نے زندگی میں ایسا جرم نہ کیا ہو۔ اگر کوئی ایسا شخص پایا گیا جو کسی ایسے جرم میں ملوث ہوا تو اس کو بھی یہی سزا دی جائے گی۔ جونہی بادشاہ کی جانب سے اعلان ہوا، لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہوئے وہاں سے کھسکنا شروع ہو گئے، چند لمحوں کے بعد پورا میدان ہی خالی تھا۔
کئی سال قبل لاہور میں ایک اہل علم، دانشور، روحانی شخصیت پروفیسر صاحب تھے، تمام طبقات کے افراد ان کے پاس حاضر ہوتے۔ ڈاکٹر،پروفیسر، سرمایہ دار بالخصوص سول بیورو کریسی کی بڑی تعداد ان کے علم و عرفان سے مستفید ہوتی۔ کسی دوست کے ذریعے میری بھی ان سے ملاقات ہوئی، میں شروع سے ہی سوال کرنے کا عادی تھا۔ میں اکثر پروفیسر صاحب سے سوال کرتا وہ میرے کچھ سوالات کا تو جواب دے دیتے مگر زیادہ تر سوالات کا جواب دینے کے بجائے مسکرا دیتے۔ میں مطمئن نہ ہوتا اور یوں میں نے جانا چھوڑ دیا۔ طویل عرصہ گزرنے کے بعد انہوں نے میرے دوست سے میرے بارے دریافت کیا، تو اس نے میرے تحفظات کے بارے انہیں آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسے لازمی بلائیں۔ دوست کے اصرار پر دوبارہ ان کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔ لوگوں کا جم غفیر تھا، رش کم ہوا صرف گنتی کے چند افراد موجود تھے تو انہوں نے اشارے سے اپنے پاس بلایا، اور فرمایا، بتاؤ پاکستان کی آبادی کتنی ہے؟ میں نے عرض کیا، بارہ کروڑ (اس وقت آبادی اتنی ہی تھی) تو انہوں نے فرمایا، اس آبادی میں صرف 12 ہزار ہی باشعور انسان ہیں باقی جہلا کا ایک ریوڑ ہے، عقل و شعور، انسانیت، فہم و فراست کی پہچان کیلئے ان اوصاف کا ہونا بھی ضروری ہے۔ کسی جاہل سے خوش گمانی رکھنا ایسے ہی ہے جیسے درندوں سے خیر کی توقع کرنا۔بلوچستان میں ’’بانو‘‘ نامی خاتون کا دلخراش واقعہ سن کر مجھے پروفیسر صاحب کے الفاظ یاد آ گئے کہ ہم واقعی جہلا کا ایک ریوڑ ہیں، غلیظ ترین لوگ ہیں، اگر گولی چلانے والوں، جرگے میں موجود افراد اور تماش بین لوگوں کے انفرادی کردار کی چھان بین کی جائے، تو انکی خرافات، بد اعمالیوں پر کتا بیں لکھی جا سکتی ہیں۔ مگر مجرم پھر بھی ’’بانو‘‘ ہے کہ اس نے پسند کی شادی کیوں کی۔

ٹیگز: