Wed, September 16, 2026

لاہور فتح کرنے میں ناکامی پر احتجاجی خط !

لاہور فتح کرنے میں ناکامی پر احتجاجی خط !

بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے کے لئے دھرنے دیئے بیٹھے سہیل آفریدی سے سوال ہوا تھا کہ آپ ہر ہفتے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لئے یہاں آ بیٹھتے ہیں ، جبکہ آپ نے ابھی تک کابینہ بھی تشکیل نہیں دی جس پر انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا تھا کہ بانی سے مل کر ہی ان کے احکامات کی روشنی میں ہی کابینہ فائنل ہوگی۔ حال ہی میں موصوف ”لاہور فتح“کرنے پہنچے ، چند کارندے ساتھ تھے۔ اپنے دورے کے دوران ان کی ایک نشست صحافیوں اور یوٹیوبرز کے ساتھ بھی ہوئی۔ اس میں ایک آدھ پروگرام اینکر کے علاوہ یو ٹیوبرز تھے۔ ان میں سے بیشتر وہ لوگ تھے جو پی ٹی آئی کے ہم خیال تھے۔ یہاں سہیل آفریدی سے ایک سوال ہوا تو انہوں نے آگے سے جواب دیا” جیل میں بانی سے ملاقات کروں گا وہ جیسا کہیں گے کروں گا، ان کا رعب ہی اتنا زیادہ ہے ان کے آگے بات ہی نہیں ہو پاتی “تو یہ تھا مائنڈ سیٹ پاکستان تحریک انصاف کا۔۔ جس کی اپنی کوئی سوچ نہیں ، کوئی وژن نہیں۔ انہیں جیسا ان کا قائد سمجھا دے گا یہ ویسا ہی کریں گے۔ پارٹی میں کوئی جمہوری کلچر نہیں ، ایک آمرانہ شخص جیل میں بیٹھا سب کچھ کنٹرول کر رہا ہے۔ اسی سوچ اور نام نہاد وژن لئے سہیل آفریدی اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ لاہور پہنچے۔ جان بوجھ کر یہ تاثر دیا گیا ان کے ساتھ بہت ظلم ہو رہا ہے۔ راستے بند کئے جارہے ہیں ، انہیں لاہور داخلے سے روکا جارہا ہے۔ جبکہ حقیقت میں کچھ بھی ایسا نہیں تھا۔ سہیل آفریدی کو پنجاب کے عوام نے پھرمسترد کر دیا بالکل ویسے ہی جیسے ان کے قائد کی رہائی کے لئے دی گئی احتجاج کی ”فائنل کال“کو مسترد کیا تھا جب لاہور میں کوئی بھی اسلام آباد جانے کے لئے تیار نہیں ہوا۔ چندجتھے پولیس پر حملہ آور ہوئے اور پھر منتشر ہو گئے۔ دورہ مکمل کرنے کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب کوایک خط لکھا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کو لکھا گیا خط محض ایک انتظامی مراسلہ نہیں بلکہ ایک سیاسی بیانیہ ہے جو شکایات، گلے شکوو¿ں اور خود ساختہ مظلومیت کے گرد گھومتا ہے۔ لاہور کے تین روزہ دورے کے بعد سامنے آنے والا یہ خط دراصل اس فرسٹریشن کی علامت ہے جو عوامی سطح پر پذیرائی نہ ملنے کے باعث ابھر کر سامنے آئی۔ سیاست میں دورے، ملاقاتیں اور عوامی ردِعمل معمول کی بات ہے، مگر ہر ردِعمل کو سازش یا بدسلوکی سے جوڑنا ایک ایسی سوچ کو ظاہر کرتا ہے جو زمینی حقائق سے دور ہے۔ تحریک انصاف کے بیانیے میں عرصہ دراز سے یہ بات شامل رہی ہے کہ” وہ ہر جگہ مقبول ہے اور عوام اس کے ساتھ کھڑے ہیں“۔ لاہور کا دورہ اس بیانیے کے لیے ایک امتحان تھا، مگر یہ امتحان ناکام ثابت ہوا۔ پنجاب کے عوام نے نہ تو کسی غیر معمولی جوش و خروش کا مظاہرہ کیا اور نہ ہی اس نام نہاد مقبولیت کے دعوو¿ں کی تصدیق کی۔ عوامی عدم توجہ کو فوراً ریاستی رویے یا سیاسی انتقام سے جوڑ دینا دراصل اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش محسوس ہوتی ہے۔ سیاست میں مقبولیت نعروں سے نہیں بلکہ کارکردگی سے ناپی جاتی ہے، اور یہی وہ کسوٹی ہے جس پر سہیل آفریدی کی سیاست پورا نہیں اترتی۔یہ بھی قابلِ غور ہے کہ خط کے مندرجات میں شکایتوں کی بھرمار ہے مگر خود احتسابی کا شائبہ تک نظر نہیں آتا۔ اگر لاہور میں عوام نے سرد مہری دکھائی تو اس کی وجہ محض پنجاب کی سیاست نہیں بلکہ خیبر پختونخوا میں حکمرانی کے وہ نقوش ہیں جو اب ملک بھر کے عوام دیکھ رہے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، صحت اور تعلیم کے بگڑتے نظام اور امن و امان کے مسائل وہ حقائق ہیں جنہوں نے خیبر پختونخوا کے عوام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ جب اپنے صوبے کے عوام ہی مطمئن نہ ہوں تو دوسرے صوبوں میں مقبولیت کے خواب دیکھنا محض خود فریبی ہے۔میڈیا سے ملاقات کے دوران سہیل آفریدی کو جن سوالات کا سامنا کرنا پڑا، وہ کسی ذاتی عناد کا نتیجہ نہیں تھے بلکہ عوامی تشویش کی ترجمانی تھے۔ منشیات کے سمگلرز سے تعلقات جیسے سنگین سوالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عوام اور میڈیا دونوں شفافیت چاہتے ہیں۔ ایک ذمہ دار سیاسی رہنما ایسے سوالات کا جواب دلائل اور ثبوتوں سے دیتا ہے، نہ کہ انہیں فرسٹریشن قرار دے کر مسترد کرتا ہے۔ جب سوالات سخت ہوں تو جواب بھی مضبوط ہونا چاہیے، ورنہ خاموشی یا ناراضی خود شکوک کو جنم دیتی ہے۔خیبر پختونخوا کے عوام کو ریلیف دینے میں ناکامی اس تمام صورتحال کا مرکزی نکتہ ہے۔ صوبہ جسے تبدیلی کا گڑھ کہا گیا، آج بنیادی سہولیات کے بحران سے دوچار ہے۔ ہسپتالوں میں ادویات کی کمی، سکولوں میں اساتذہ کا فقدان، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع کی قلت اور کاروباری سرگرمیوں میں جمود—یہ سب وہ مسائل ہیں جن پر فوری توجہ درکار تھی۔ مگر اس کے برعکس صوبائی حکومت کی ترجیحات سیاسی بیانات، خطوط اور دوسرے صوبوں کے دوروں تک محدود دکھائی دیتی ہیں۔ عوام کو ریلیف نعروں سے نہیں بلکہ پالیسیوں اور عملی اقدامات سے ملتا ہے، اور یہی وہ محاذ ہے جہاں سہیل آفریدی کی حکومت مسلسل ناکام نظر آتی ہے۔ماضی قریب میں ہونے والے جلسے اس حقیقت کی واضح مثال ہیں کہ خیبر پختونخوا کے عوام اب دعوو¿ں سے تنگ آ چکے ہیں۔ جلسوں میں خالی کرسیاں اور محدود شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ناقص گورننس نے عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔اس تناظر میں وزیراعلیٰ پنجاب کو لکھا گیا خط ایک سیاسی حربہ تو ہو سکتا ہے، مگر یہ عوامی مسائل کا حل ہرگز نہیں۔ دوسرے صوبوں کے دورے اور شکوہ شکایت سے بھرے خطوط وقتی خبروں کی زینت تو بن سکتے ہیں، مگر خیبر پختونخوا کے عوام کی زندگیوں میں کوئی بہتری نہیں لا سکتے۔ عوام کو روزگار چاہیے، سستی اشیائے ضروریہ چاہئیں، معیاری صحت و تعلیم چاہیے اور امن و استحکام چاہیے۔ یہ سب وہ اہداف ہیں جو صرف دفتر میں بیٹھ کر فائلوں پر دستخط کرنے یا سیاسی بیانات دینے سے حاصل نہیں ہوتے۔ اگر سہیل آفریدی واقعی عوامی رہنما بننا چاہتے ہیں تو انہیں خطوط لکھنے اور شکوے کرنے کے بجائے اپنے صوبے کی گلیوں، ہسپتالوں،سکولوں اور بازاروں کا رخ کرنا چاہیے۔ وہاں انہیں اصل سوالات سننے کو ملیں گے اور حقیقی مسائل نظر آئیں گے۔ یہی وہ آئینہ ہے جس میں قیادت کی اصل تصویر دکھائی دیتی ہے۔ جب تک یہ آئینہ نظرانداز کیا جاتا رہے گا، تب تک خطوط اور بیانات محض سیاسی شور ثابت ہوں گے اور عوام کی زندگیوں میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آ سکے گی۔

ٹیگز: