Wed, September 16, 2026

مولانا فضل الرحمان کا کم عمر شادی کے قانون کو مسترد کرنے اور احتجاجی مہم شروع کرنے کا اعلان

مولانا فضل الرحمان کا کم عمر شادی کے قانون کو مسترد کرنے اور احتجاجی مہم شروع کرنے کا اعلان

پشاور: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حال ہی میں منظور ہونے والے کم عمر شادی سے متعلق بل کو مسترد کرتے ہوئے حکومت کے خلاف ملک گیر عوامی مہم شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک میں ایسے قوانین متعارف کروائے جا رہے ہیں جو اسلامی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا تھا، "پاکستان کا قیام اسلام کے نام پر ہوا تھا، مگر آج اس کی اسلامی شناخت کو مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔"

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض قوانین عالمی اداروں، جیسے آئی ایم ایف، ایف اے ٹی ایف اور اقوام متحدہ، کے دباؤ پر بنائے جا رہے ہیں، جنہیں وہ قبول نہیں کرتے۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت اس بل کے خلاف عوامی سطح پر آگاہی مہم چلائے گی اور مختلف شہروں میں جلسے منعقد کیے جائیں گے۔ اس سلسلے کا ایک بڑا اجتماع 29 جون کو ہزارہ ڈویژن میں رکھا گیا ہے۔

مولانا کا کہنا تھا کہ اس قسم کی قانون سازی سے شرعی نکاح کو مشکل بنایا جا رہا ہے، اور 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کی شادی پر پابندی عائد کر کے اسلامی روایات سے روگردانی کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق، اسلامی نظریاتی کونسل پہلے ہی اس قانون کو مسترد کر چکی ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے پیپلز پارٹی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے کی جانے والی حالیہ مزاحمت کرپشن کے خلاف نہیں بلکہ اپنے سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے ہے۔


اس بیان کے بعد سیاسی و سماجی حلقوں میں بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ کئی انسانی حقوق کے کارکن اس بل کی حمایت کر رہے ہیں اور کم عمری کی شادی کو بچوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔ جبکہ مذہبی جماعتوں کا کہنا ہے کہ نکاح کی عمر کا تعین شریعت کے مطابق ہونا چاہیے۔

ٹیگز: