Wed, September 16, 2026

2025.... پاک فوج کی تاریخی کامیابی کاسال

2025.... پاک فوج کی تاریخی کامیابی کاسال

 2025ءاپنے دامن میں تلخ و شیریں یادیں سمیٹے آج رخصت ہو رہا ہے جبکہ 2026ءکا پہلا سورج پاکستانی قوم کے لیے نئی امیدوں اور خوش آئند امکانات کے ساتھ کل مشرق سے طلوع ہو گا۔ وقت ایک ایسا بہاو¿ ہے جو کبھی نہیں رکتا اور سال کا اختتام ہمیں اسی حقیقت کی یاد دلاتا ہے۔ جب دسمبر کی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی ہوتی ہیں اور سال کا آخری یوم ہوتا ہے، تو ہر انسان لاشعوری طور پر گزرے ہوئے بارہ مہینوں کا حساب کتاب کرنے بیٹھ جاتا ہے۔ سال کا اختتام صرف ایک ہندسے کی تبدیلی نہیں بلکہ یہ غور و فکر اور نئے عزم کا موقع ہوتا ہے۔ گزرے ہوئے سال پر نظر ڈالیں تو ہمیں اپنی زندگی میں کئی رنگ نظر آتے ہیں۔ 
سال 2025ءپاکستان کے لیے عالمی سطح پر کامیابیوں اور فتوحات کا سال ثابت ہوا۔ اس سال کی سب سے بڑی خبر معرکہ حق کے تحت ہونیوالے آپریشن بنیان مرصوص میں پاکستانی فوج کی شاندار فتح تھی۔22اپریل 2025ءکو مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ایک واقعہ کے دوران 26افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے اس کا الزام پاکستان پر لگا دیا اور جوابی حملہ کی دھمکیاں دینے لگا۔ پاکستان نے اس حملہ کی مذمت کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ ہم ہر کسی قسم کی دہشت گردی کیخلاف ہیں اور بھارت پہلگام حملہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔ بھارت نے پاکستان کی اس پیشکش کا کوئی مثبت جواب نہ دیا تو بہت سے عالمی مبصرین نے پہلگام حملہ کو بھارت کا فالس فلیگ آپریشن قرار دینا شروع کر دیا۔ بھارت اپنی روایتی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آیا اور انڈین میڈیا بھی اپنے ملک میں مسلسل جنگی ماحول پیدا کرنے لگا۔بھارت نے 6اور 7مئی کی درمیانی شب رات تمام بین الاقوامی اور سرحدی قوانین کو پامال کرتے ہوئے پاکستان کے بعض علاقوں پر حملہ کر دیااور نہتے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا۔ پاکستان نے بھارتی حملہ کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے اس کامنہ توڑ جواب دینے کا اعلان کیا۔ پاک فوج کے ترجمان کی جانب سے دیا گیا یہ بیان” جنگ کا آغاز بھارت نے کیا اختتام ہم کریں گے جبکہ حملہ کی جگہ اور وقت کا تعین بھی خود کریں گے اور اس کی گونج پوری دنیا میں سنائی دے گی بھارت انتظار کرے۔“ شیر کی اس دھار نے بھارت پر ہیبت طاری کر دی اور وہ جوابی وار سے بچنے کی کوششیں کرنے لگا۔ 8مئی کو دونوں اطراف سے ڈرون حملے کیے گئے ، پاکستانی ڈرونز بھارتی فضاﺅں میں اڑنے لگے جبکہ بھارتی ڈرونز کو پاکستان کی حدود میں مار گرا یا گیا۔ دونوں ممالک میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر عالمی سطح پر مصالحت کی کوششوں کا آغاز بھی ہوا۔ 9مئی کی شام راولپنڈی میں فوجی ہیڈکوارٹرز میں ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں کے سامنے پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس پریس کانفرنس میں پاکستان ایئرفورس کے ایئروائس مارشل اورنگزیب بھی شریک ہوئے۔ اس بریفنگ کے دوران پاکستان نے سات مئی کی رات ہونے والے انڈین حملے کی تفصیلات بتائیں اور بتایا کہ اس رات پاکستان ایئر فورس نے انڈیا کے متعدد طیارے مار گرائے جن میں جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل رافیل طیارے بھی شامل تھے۔ 9اور 10مئی کی درمیانی شب دونوں ممالک کے مابین فوجی جھڑپیں ہوئیں ۔ بھارت نے ایک بار پھر پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی تو پاک فوج آپریشن بنیان مرصوص کے تحت بھارت کی ان جنگی تنصیبات کو نشانہ بنایا جہاں سے پاک سرزمین پر حملہ ہوا تھا۔ بھارت اس جوابی وار سے بری طرح خوفزدہ ہو گیا اور عالمی رہنماﺅں سے مداخلت کر کے جنگ بند کرانے کو کہا۔ بعدازاں عالمی طاقتوں کی مداخلت سے دونوں ممالک میں جنگ بندی ہوئی ۔ پاکستان کی شاندار فتح کا دنیا بھر میں چرچا ہوا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد بار یہ کہا کہ انہوں نے پاک بھارت جنگ رکوائی اور اس جنگ میں کئی طیارے تباہ ہوئے۔ معروف امریکی جریدے واشنگٹن ٹائمز کے آرٹیکل میں پاکستان کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہوئے 2025 ءپاک امریکا تعلقات میں انقلابی تبدیلی کا سال قرار دیا گیا۔ امریکی اخبار واشنگٹن ٹائمز نے لکھا کہ 2025 ءمیں واشنگٹن کا انڈیا فرسٹ دور ختم ہوا اور پاکستان کو فوقیت حاصل رہی، امریکی پالیسی شفٹ کی بنیاد مئی کی پاک بھارت جنگ بنی، پاکستان کی ملٹری کارکردگی نے ٹرمپ کو حیران کردیا۔ پاکستانی حکومت نے بھارت کے خلاف جنگ میں تاریخی کا میابی پر چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدہ پر ترقی دی ۔ بعدازاں ایک آئینی ترمیم کے ذریعے انہیں چیف آف ڈیفنس فورسز بنایا گیا۔ 
وطن عزیز میں سال 2025ءکے دوران سیاسی محاذ آرائی جاری رہی اور تمام تر کوششوں کے باوجود حکومت اور تحریک انصاف کے مابین مصالحتی عمل شروع نہ ہو سکا۔ماہِ دسمبر میں بانی چیئرمین پی ٹی آئی کو توشہ خانہ ٹو کیس میں 17برس کی سزا سنائی گئی۔ صوبہ خیبرپختونخوا میں ایک بڑی سیاسی تبدیلی آئی اور علی امین خان گنڈا پور کی جگہ سہیل آفریدی کو نیا وزیراعلیٰ منتخب کیا گیا۔ اس سال کی ایک بڑی خبر پارلیمنٹ سے ستائیسویں آئینی ترمیم کی منظوری تھی ۔ حکومت نے سال بھر اپنی مرضی سے قانون سازی کی، اپوزیشن صرف نعروں احتجاج اور تقاریر تک محدود رہی۔
سال 2026ءکیسا رہے گا؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا تاہم نئے سال کے آغاز پر بہت سے لوگ اپنے لیے نئے اہداف مقرر کرتے ہیں‘ یہ ایک مثبت عمل ہے کیونکہ یہ ہمیں زندگی میں آگے بڑھنے کا مقصد فراہم کرتا ہے۔ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل کی منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔ سال کا اختتام ہمیں ایک نئی شروعات کا احساس دلاتا ہے۔ تاہم سال بدلنے سے زیادہ ضروری ہماری سوچ کا بدلنا ہے۔ اگر ہم اپنی پرانی غلطیوں اور منفی رویوں کو پیچھے نہیں چھوڑیں گے، تو نیا سال بھی صرف ایک عام دن بن کر گزر جائے گا۔ سال کے اختتام پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم آنے والے وقت میں انسانیت کی خدمت، وقت کی قدر اور ایک اچھا انسان بننے کی کوشش کریں گے۔ یہ وقت ہے کہ ہم ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر، حال کی قدر کریں اور ایک روشن مستقبل کی امید کے ساتھ نئے سال کا استقبال کریں۔اپنے کالم کا اختتام احمد ندیم قاسمی کے ان دعائیہ اشعار پر کروں گا 
خدا کرے میری ارض ِ پاک پر اترے
وہ فصلِ گُل جسے اندیشہ¿ زوال نہ ہو
خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

ٹیگز: