سْورت الاحزاب کی آیت نمبر 70 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’اے لوگو جو اِیمان لائے ہو! اللہ کا تقویٰ اِختیار کرو اَور سیدھی بات کیا کرو۔‘‘ میں سوچتا ہوں کہ اگر پاکستانی قوم صرف اِس ایک آیت پر ہی عمل کرلے تو ہمارا ملک بہت جلدی ترقی کرجائے۔ ہماری دْنیا و آخرت بھی سنور جائے۔ لیکن اِس آیت کو بیشمار دفعہ پڑھنے کے باوجود ہم پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم نے کبھی بحیثیت ایک قوم کے اِس آیت پر توجہ ہی نہیں دی۔ اِنفرادی سطح پر بھی شاید ہی کوئی شخص ہو جو اِس پر غوروفکر کرکے اِس پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہو۔
یہ آیت سب سے پہلے تو یہ بتاتی ہے کہ اِیمان اَور چیز ہے اَور تقویٰ اْس سے الگ، اْس سے اْوپر کی بات ہے۔ گویا اگر کوئی یہ سمجھے کہ وہ اللہ تعالیٰ، نبی اکرم ؐ، فرشتوں، قیامت وغیرہ پر اِیمان لے آیا ہے لہٰذا یہ اْس کی نجات کے لیے کافی ہے تو اَیسا نہیں ہے۔ اِس اِیمان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اِختیار کرنا بھی لازم ہے۔ بدنصیبی سے ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ بس چند باتوں پر اِیمان لے آنا کافی ہے۔ جس نے اللہ تعالیٰ کو مان لیا اَور نبی کریم ؐ کو آخری نبی تسلیم کرلیا، اْس کی جنت پکی ہوگئی۔ اب اْسے مزید کسی کام کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ نمازیں پڑھے یا نہ پڑھے، وہ نیک کام کرے یا نہ کرے، وہ جہنم سے نجات پاچکا ہے۔ اِس کے لیے لوگ چند احادیث بھی بیان کرتے ہیں جن میں یہ فرمایا گیا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ پر اِیمان لے آیا یا جس نے کلمہ پڑھ لیا اْس پر دوزخ کی آگ حرام ہوگئی۔ کوئی یہ نہیں بتاتا کہ ہر حدیث کو قْرآن کے پیغام کے تحت پڑھنا ہوتا ہے۔ قْرآن کو بھی مکمل طور پر سمجھ کر پڑھنا ضروری ہے تاکہ ہمیں یہ پتا چل سکے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے۔ چند منفرد آیات کو پڑھ کر یا احادِیث کا مطالعہ کرکے یہ سمجھ لینا کہ اب ہماری جنت پکی ہوگئی ہے، آخرت میں ہماری توقعات کے خلاف نتائج پیدا کرسکتا ہے۔
چنانچہ سب سے پہلے تو ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ تقویٰ کیا ہے۔ جب تک ہمیں یہ پتا ہی نہیں ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ کیا ہوتا ہے، ہم اْس پر عمل کیسے کریں گے؟ تقویٰ کا لغوی مطلب بچنا ہے۔ گویا اِنسان ہر اْس کام سے بچے جس سے بچنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے۔ جب تک یہ کام نہیں ہوگا، اِنسان کے اَندر تقویٰ یا پرہیزگاری پیدا نہیں ہوگی۔ مزید یہ کہ جنت کا وعدہ متقی کے لیے ہے۔ صرف اِیمان لاکر بیٹھ جانے سے کچھ نہیں ہوگا۔ سْورت النساء میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’اے لوگو جو اِیمان لائے ہو! اِیمان لاؤ اللہ اَور اْس کے رسول پراَور اْس کتاب پر جو اللہ نے اَپنے رسول ؐپر نازل فرمائی ہے اَور ہر اْس کتاب پر جو اِس سے پہلے وہ نازِل فرما چکا ہے۔‘‘ (آیت 136)۔ اِس سے بھی پتا چلا کہ ہمارے عام لوگوں کے نزدِیک اِیمان لانا کچھ اَور ہے اَور اللہ تعالیٰ کے نزدِیک اِس کا مطلب بہت وسیع ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدِیک وہ اِیمان جو صرف ہمارے دِل میں ہے لیکن وہ ہمارے عمل میں ظاہر نہیں ہورہا، کسی کام کا نہیں ہے۔ آپ دیکھیں کہ سب لوگ یہ مانتے ہیں کہ اْنہوں نے ایک دِن مرنا ہے اَور پھر مرکر دوبارہ زندہ ہونا ہے جب وہ اَپنے اَعمال کا حساب دیں گے۔ لیکن کیا آپ کو یہ ماننا اْن کے اَعمال و افعال میں نظر آتا ہے؟ اگر نظر آتا تو ہمارے ملک کا یہ حال کیوں ہوتا؟ یہی معاملہ تقویٰ کے حوالے سے بھی ہے۔
اَب ہم دْوسرے حکم کی طرف آتے ہیں کہ سیدھی بات کیا کرو۔ آپ غور کریں کہ ہمارے پاکستانی معاشرے میں سیدھی اَور سچی بات کس قدرعنقا ہے۔ یہاں لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح دْوسروں کو لچھے دار باتوں میں اْلجھا کر اَپنا مطلب نکال لیں۔ لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اَیسی بات کہیں کہ سننے والا اْس کا ایک مطلب نکالے جبکہ کہنے والے کا مقصد کچھ اَور کہنا ہو۔ سچ کا فقدان ہر سطح پر ہے۔ سیاست دان قوم کو جھوٹ اَور جھوٹے وعدوں سے بہلاتے آئے ہیں۔ ہماری عدالتوں میں روزانہ کی بنیاد پر جھوٹ بولا جاتا ہے اَور جھوٹی گواہیاں دی جاتی ہیں۔ ذومعنی باتیں کی جاتی ہیں تاکہ کسی بھی طرح اَپنے مؤکل کو بچالیاجائے۔ ہر مقدمے میں دو مخالف وکیلوں میں کم از کم ایک ضرور جھوٹ پر چل رہا ہوتا ہے۔ اِسی طرح ٹھیکے دار حضرات بھی وہ وعدے کرتے ہیں جن پر عمل کرنے کا اْن کا کوئی اِرادہ نہیں ہوتا۔ کاروباری حضرات، پراپرٹی ڈیلر غرض آپ جس شعبے میں بھی چلے جائیں، آپ کو جھوٹ اَور لچھے دار باتیں ہی نظر آئیں گی۔ لوگ اَپنی زبان سے جو کہتے ہیں، اْس پر خود بھی یقین نہیں رکھتے۔ جو وعدے کرتے ہیں، اْن پر عمل کرنے کا اْن کا کوئی اِرادہ نہیں ہوتا۔
سیدھی، صاف اَور سچی بات کا ہمارے معاشرے میں ملنااَب بے حد کٹھن ہوگیا ہے۔ شاید ہی کوئی دفتر ہو جہاں لوگ جھوٹ بول کر اَپنے نمبر بنانے کا کام نہ کرتے ہوں۔ لوگ اْن کاموں کا کریڈٹ بھی لینا چاہتے ہیں اَور لیتے بھی ہیں جو اْنہوں نے کیے ہی نہیں ہوتے۔ لوگوں کا اَپنے افسر کے سامنے چہرہ کچھ اَور ہوتا ہے اَور اَپنے ماتحت یا سائل کے سامنے بالکل کچھ اَور۔ ماتحت یا سائل کے سامنے جولوگ کسی فرعون سے کم نہیں ہوتے وہ اَپنے افسر کے آگے یوں منمناتے ہیں جیسے خدانخواستہ وہ افسر ہی اْن کا رب ہے۔ لوگ زبان سے نہ کہنے کے باوجود اَپنے افسر یا بڑے سرکاری عہدے دار کو اَپنا رب ہی تسلیم کرتے ہیں۔ اْن کے خیال میں اْن کی قسمت اْنہی افسروں یا عہدے داروں کے ہاتھوں میں ہے۔
ہمارے گھروں میں بھی سیدھی بات کرنے کا رواج اَب تقریباً ختم ہوگیا ہے۔ غیبت، بہتان تراشی، باتوں کے غلط مطلب نکالنا، لگائی بجھائی جیسی علتیں ہمارے گھروں میں عام ہیں۔ عام دْکان داروں، ریڑھی والوں سے بھی سچ سننے کو بہت کم ملتا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو یہ قرآن کا وہ حکم ہے جس پر پاکستانی معاشرے میں پانچ فیصد سے زائد لوگ عمل نہیں کرتے۔ یہ پانچ فیصد بھی میں نے دِل نہایت کھلا کرکے لکھا ہے ورنہ اصل تعداد شاید دو فیصد ہی ہو۔
اِس کے مقابلے میں جب ہم مغربی معاشروں کو دیکھتے ہیں جنھیں ہم کافر، مشرک، جہنمی کہتے نہیں تھکتے وہاں لوگ عام طور پر سیدھی اَور سچی بات ہی کرتے ہیں۔ وہاں آپ کو خالص چیز عام مل جاتی ہے۔ دْکان دار، ٹھیکے دار، پراپرٹی ڈیلر، یہاں تک کہ سیاست دان بھی سچ بولتا نظر آتا ہے۔ لچھے دار باتوں میں لوگوں نہیں اْلجھایا جاتا۔ بالکل صاف بات کی جاتی ہے جس کا صرف ایک ہی مطلب ہوتا ہے۔ جو کہنے والا کہتا ہے،وہی سننے والا سمجھتا ہے۔ لوگ جو وعدہ کرتے ہیں، اْس پر عمل بھی کرتے ہیں۔ اْن لوگوں نے قْرآن کے اِس حکم کونہ صرف جان لیا ہے بلکہ اچھی طرح سے سمجھ بھی لیا ہے۔ وہ اِس پر روزانہ کی بنیاد پر عمل کرتے ہیں۔ چنانچہ آپ دیکھیں کہ پورا معاشرہ ایک سکون میں ہے۔اَپنے ملک کے اَندر کی حد تک وہ اِسی طرح چلتے ہیں۔ ملک کے باہر اْن کے مفادات ہیں جن کے مطابق اْن کی پالیسیاں ترتیب پاتی ہیں۔ دْنیا میں جو قومیں سب سے زیادہ پرسکون اور خوش ہیں اْن میں فن لینڈ، ڈنمارک، آئس لینڈ، سویڈن، اِسرائیل، نیدر لینڈ، ناروے، لگزمبرگ، سویٹزرلینڈ اَور آسٹریلیا شامل ہیں۔ اِن میں ایک بھی ملک مسلمان نہیں ہے۔ جو بھی قرآن کے احکام پر عمل کرے گا وہ کم از کم اَپنی دْنیا ضرور سنوار لے گا۔