Wed, September 16, 2026

اساتذہ معمار قوم ہیںیا مزارع قوم ؟

اساتذہ معمار قوم ہیںیا مزارع قوم ؟

اپنی وفات سے قبل، ایک والد نے اپنے بیٹے سے کہا: میری یہ گھڑی میرے والد نے مجھے دی تھی۔ جو اب 200 سال پرانی ہو چکی ہے، لیکن اس سے پہلے کہ یہ میں تمہیں دوں کسی سنار کے پاس اسے لے جائو اور ان سے کہو کہ میں اسے بیچنا چاہتا ہوں۔ پھر دیکھو وہ اس کی کیا قیمت لگاتا ہے۔ بیٹا سنار کے پاس گھڑی لے گیا، واپس آ کر اس نے اپنے والد کو بتایا کہ سنار اسکے 25 ہزار قیمت لگا رہا ہے، کیونکہ یہ بہت پرانی ہے۔ والد نے کہا کہ اب گروی رکھنے والے کے پاس جائو۔ بیٹا گروی رکھنے والوں کی دکان سے واپس آیا اور بتایا کہ گروی رکھنے والے اس کے 15 سو قیمت لگا رہے ہیں کیونکہ یہ بہت زیادہ استعمال شدہ ہے۔ اس پر والد نے بیٹے سے کہا کہ اب عجائب گھر جائو اور انہیںیہ گھڑی دکھائو۔ وہ عجائب گھر سے واپس آیا اور پُرجوش انداز میں والد کو بتایا کہ عجائب گھر کے مہتمم نے اس گھڑی کی 8 کروڑ قیمت لگائی ہے کیونکہ یہ بہت نایاب ہے اور وہ اسے اپنے مجموعہ میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر والد نے کہا: میں تمہیں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ صحیح جگہ پر ہی تمہاری صحیح قدر ہو گی۔ اگر تم غلط جگہ پر بے قدر کیے جائو تو غصہ مت ہونا۔ صرف وہی لوگ جو تمہاری قدر پہچانتے ہیں وہی تمہیں دل سے داد دینے والے بھی ہوں گے۔ اسلئے اپنی قدر پہچانو، اور ایسی جگہ پر مت رکنا جہاں تمہاری قدر پہچاننے والا نہیں۔
ہمیںیہ اب جان لینا چاہیے کہ کسی بھی شے کے انتخاب میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے کیونکہ پچھتاوے بعد میں تنگ کرتے ہیں۔ویرانی دشت میں ہو یا گھر میں ،دل اس کا مسکن ٹھہرے یا ملک، دل اور دماغ میں جنگ کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔حکومت صوبائی ملازمین کو عرصہ دراز سے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کرایک نیا لولی لوپ دیتی رہی۔ بالآخر کفر خدا خدا کر کے ٹوٹا اور صوبائی حکومت اپنے ملازمین کو اپنے کمی کمین یعنی اساتذہ کو ڈسپیریٹی الائونس دینے پر رضا مند ہو گئی۔ حکومت کے اس اعلان پر اساتذہ اکرام نے بھی سکھ کا سانس لیا کہ چلیں بڑھتی ہوئی اس مہنگائی میں ہماری مجروح ہوتی ہوئی عزت نفس ذرا بحال رہے گی۔اس الائونس کامقصد وفاق اور صوبے کے ملازمین کی تنخواہوں زمین آسمان پایا جانے والا فرق افق تک تو نہیں آئیگا مگر ذرا کم ضرور ہو جائیگا۔مگر صوبائی حکومت کے ممبران اور بیوروکریسی نے اساتذہ کے وقار اور عزت کو مجروح کر کے رکھ دیا ہے۔تنخواہ میں دس فی صد اضافہ پنجاب حکو مت منہ سیاہ ترین پر دھبہ ہے۔ ڈسپیرٹی الائونس دینے کا وعدہ کرکے مکر جانا اور شرم ناک بات ہے۔اساتذہ کی انکم ٹیکس میں چھوٹ کو ختم کرنا اساتذہ سے کھلی دشمنی ہے۔ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے پر آئی ایف ناراض ہوتا ہے۔ اسمبلی ممبران اور سینیٹ کے ممبران کی تنخواہ میں اضافے پر آئی ایم ایف خوش ہوتا ہے۔عزت مجروح کرنے کا کیسا طریقہ ہے؟واضح رہے سوائے چند اداروں کے، ملک کے سب ادارے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔بس ایک دھڑم کی آواز آنا باقی ہے۔
تنخواہوں میںیہ اضافہ اونٹ کے منہ میں زیرے برابر بھی نہیں ہے۔اس اضافے سے وفاق اور صوبوں کے ملازمین کی تنخواہیں برابر تو نہیں ہونگی بلکہ صوبوں کے ملازمین سے گھنائونا مذاق ضرور ہے۔بقول جاوید رامش یہی کہہ سکتے ہیں
کشکول کچھ بھرا تو سخی بانٹنے لگا
دو چار روٹیاں بھی غریبان ِ شہر میں
ہر دور کی موجودہ حکومت اگلے پانچ سال کا خواب صرف اس وقت دیکھتی ہے جب وہ عوام کی فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ اپنے ملازمین کی معاشی حالت کا خاص خیال رکھتی ہے۔اسکی سفید پوشی کا بھرم نہیں ٹوٹنے دیتی۔جب کسی بھی محکمے کے ملازمین کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑ جائیںتو وہ ملازمین پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لئے غیر ذمہ دار ،بے ایمان،کام چور اور راشی ہو جاتا ہے۔اسی طرح ادارے تباہی کی صورت اختیار کر جاتے ہیں اور آنے والی نسل اپنے پرکھوں کی ڈگر پر چل نکلتی ہے اور ملک تباہی کے دھانے پر آ کھڑا ہوتا ہے۔
ملک عزیز کے علاوہ ہر قوم اور ہر معاشرہ اساتذہ کے احترام کو فوقیت دیتا ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے اپنے اساتذہ کو معمارِ قوم نہیں مزارع قوم سمجھتے ہیں۔کوئی ایک بیوروکریٹ ،کوئی ایک سیاستدان،کوئی جرنیل،کوئی وکیل اور جج ،کوئی پولیس آفیسریہ باور کرائے کہ اس نے یہ مقام بغیر استاد کے پایا ہو۔ استاد وہ نایاب گھڑی ہے جس کی قیمت کا اندازہ لگانا ہے تو صرف لفظ ’’اقرا‘‘ پڑھانے والے کے معانی و مطالب اور پس منظر سے لگا لیجئے۔آپ کو اساتذہ کی تعظیم کا اندازہ ہو جائیگا۔

ٹیگز: