Wed, September 16, 2026

دریا اپنی گزرگاہ نہیں بھولتا

دریا اپنی گزرگاہ نہیں بھولتا

انسان ہمیشہ زمین سے جڑا رہتا ہے۔ زمین اس کے لیے محض رہنے کی جگہ نہیں ہوتی بلکہ تحفظ، سکون اور مستقبل کی ضمانت بھی سمجھی جاتی ہے۔ اسی لیے جب کوئی مکان یا پلاٹ خریدتا ہے تو اس کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ آنے والی نسلوں کو ایسی چھت دے جائے جو ہر آندھی طوفان کے مقابلے میں قائم رہے۔ مگر تاریخ ہمیں بار بار یہ سکھاتی ہے کہ قدرت کی سرحدوں کو للکارنا نقصان کا سودا ہے۔ خاص طور پر دریا اور سمندر اپنی گزرگاہ کبھی نہیں بھولتے۔ وہ خاموش رہ جائیں تو یہ انسان کی خوش فہمی ہوتی ہے لیکن جب وہ لوٹتے ہیں تو اپنی پوری طاقت اور شدت کے ساتھ آتے ہیں۔حالیہ دنوں میں پنجاب میں راوی، ستلج اور چناب نے ایک بار پھر اپنی پرانی طاقت دکھائی۔ پی ڈی ایم اے کی رپورٹس کے مطابق ان دریاؤں میں شدید طغیانی کے باعث صرف چند دنوں میں چودہ لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے، سولہ سو بانوے سے زیادہ دیہات زیرِ آب آگئے اور لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ اب تک دو لاکھ پینسٹھ ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ سینکڑوں خاندان ریلیف کیمپوں میں پناہ گزین ہیں۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ وہ دکھ اور محرومیاں ہیں جو ہر سال ہزاروں خاندانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔ کوئی اپنے بچوں کو کندھوں پر اٹھا کر محفوظ مقام تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہے، کوئی اپنے مویشی چھوڑ کر جان بچاتا ہے، تو کوئی اپنی زندگی بھر کی کمائی کو پانی میں بہتا دیکھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
تقریباً تیس سال پہلے لاہور کے کناروں پر جب دریائے راوی سکڑ کر پیچھے ہٹ رہا تھا تو وہاں کی زمینیں بہت سستی ملتی تھیں۔ لوگ خوش تھے کہ شہر کے اندر تو زمین مہنگی ہے لیکن یہاں دریاؤں کے کنارے بڑی بڑی کوٹھیاں بنائی جا سکتی ہیں۔ ہاؤسنگ سوسائٹیاں اْگنے لگیں۔ پانچ مرلے سے لے کر پانچ کنال تک کے پلاٹ تقسیم ہوئے اور ایک وقت ایسا آیا کہ دریا کی پرانی گزرگاہ کو ہی رہائشی بستیوں میں بدل دیا گیا۔ جنہیں ذرا سا لالچ 
آیا، انہوں نے زمین خرید لی۔ انہیں لگا کہ یہ محفوظ ہے، دریا اب واپس نہیں آئے گا۔ لیکن قدرت کا قانون انسان کی خواہش سے مختلف ہے کیونکہ دریا اپنی راہ کبھی نہیں بھولتا۔آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ دریائے راوی بیاس، چناب اور ستلج اپنی پرانی راہوں پر لوٹ آئے ہیں۔ وہ زمینیں جنہیں لوگ پکی سوسائٹیوں کی شکل دے بیٹھے تھے، ایک بار پھر پانی میں ڈوب گئی ہیں۔ جنہوں نے لاکھوں اور کروڑوں لگا کر محلات کھڑے کیے، وہ آج ہاؤسنگ سوسائٹی مالکان کو کوس رہے ہیں، حکومت کو گالیاں دے رہے ہیں، میڈیا پر شور مچا رہے ہیں۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ جب یہ زمینیں خریدی گئیں تب کیوں نہیں سوچا گیا کہ یہ دریا ہے، یہ کبھی بھی پلٹ سکتا ہے؟ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم فیصلہ کرتے وقت طویل المدتی سوچ نہیں اپناتے۔ ہمیں صرف فوری فائدہ نظر آتا ہے۔ ہم یہ نہیں دیکھتے کہ نقصان کے امکانات کیا ہیں۔ یہی رویہ صرف زمین کے معاملے میں نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں ہمارے ساتھ جْڑا ہوا ہے۔ ہم سستا پلاٹ دیکھتے ہیں، لالچ میں آ جاتے ہیں، مگر اس کے نقصانات پر غور نہیں کرتے۔ پھر جب وقت آتا ہے اور قدرت اپنی اصل حیثیت یاد دلاتی ہے تو ہم الزام دوسروں پر ڈال دیتے ہیں۔
صرف پاکستان میں ہی نہیں دنیا بھر بھی یہی سوچ بار بار دہرائی جاتی ہے۔ جاپان میں آنے والی سونامی نے ساحلی آبادیاں لمحوں میں اجاڑ دیں۔ امریکہ میں ہری کین کترینہ نے نیو اورلینز شہر کا بیشتر حصہ ڈبو دیا کیونکہ شہر دلدلی زمین پر آباد تھا۔ بھارت میں بہار اور آسام کے علاقے ہر سال سیلاب کی لپیٹ میں آتے ہیں کیونکہ دریاؤں کے کنارے پر مسلسل تعمیرات ہو رہی ہیں۔ ان تمام مثالوں میں ایک ہی حقیقت واضح ہوتی ہے کہ دریا اور سمندر اپنی زمین کبھی نہیں بھولتے۔اصل عقل مندی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان فیصلے کرتے وقت صرف موجودہ سہولت نہ دیکھے بلکہ آنے والے وقت کو بھی نظر میں رکھے۔ زمین اگر مہنگی ہے مگر محفوظ ہے تو وہی بہتر ہے۔ وقتی لالچ وقتی سکون تو دے سکتا ہے لیکن انجام میں مہنگا ترین ثابت ہوتا ہے۔ یہی فرق ہے جو دانشمند اور نادان میں واضح کرتا ہے۔ سوچنا چاہیے کہ اگر دریائے بونیر برسوں بعد واپس آسکتا ہے تو کیا دریائے راوی دو سو برس بعد اپنی پرانی راہ نہیں پکڑ سکتا؟ دریا کی زمین دریا کی امانت ہے۔ آپ اسے کاغذوں میں خرید سکتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ ہمیشہ دریا کی ہی رہتی ہے۔ دریا کے کنارے آبادیاں بنانے والے شاید وقتی سکون تو پا لیتے ہیں مگر آنے والے وقت کے سامنے ان کا سرمایہ اور ان کے خواب سب بہہ جاتے ہیں۔
ایسے میں مجھے اپنے والد یاد آتے ہیں۔ وہ وید حکیم تھے اور اپنے وقت میں ان کے وسیع تعلقات تھے۔ انہیں بارہا کہا گیا کہ دریاؤں کے کنارے پانچ کنال، دس کنال کی زمین لے لیں۔ دوست سمجھاتے کہ یہ موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں۔ اس وقت یہ زمینیں انتہائی سستی تھیں اور بعض دوستوں نے تو زمینیں بھی خرید لی تھیں۔ مگر ابو نے ہمیشہ انکار کیا۔ وہ کہا کرتے تھے: "گھر محفوظ رہے گا اور گھر والے بھی، اگر زمین ایسی جگہ لی جائے جو کل کو کسی کے نقصان کا سبب نہ بنے۔" ان کے دوست اکثر ہنستے کہ تمہیں اتنی بڑی پیشکش مل رہی ہے اور تم ہاتھ سے جانے دیتے ہو۔ لیکن ابو نے کبھی اس لالچ کو ترجیح نہ دی۔ انہوں نے ہمیشہ مستقبل کو سامنے رکھا۔آج جب دریاؤں کی پرانی گزرگاہوں پر بنی بستیاں پانی میں ڈوبی ہوئی دیکھتی ہوں تو ابو کی بات سمجھ میں آتی ہے۔ وہ جو فیصلہ اْس وقت شاید دوسروں کو ضد یا بے وقوفی لگا، دراصل سب سے بڑی دانش مندی تھی۔ انہوں نے وقتی فائدے کے بجائے آنے والے وقت کی حفاظت کو ترجیح دی۔ یہی اصل سبق ہے جو ہمیں سیکھنا چاہیے۔ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی اجتماعی سوچ کو بدلیں۔ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو سختی سے کنٹرول کیا جائے انہیں ماحولیاتی توازن کے مطابق تعمیر کیا جائے، دریاؤں کے کنارے پر آبادیاں بنانے پر پابندی ہو اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہر فرد اپنے فیصلے کرتے وقت وقتی فائدے کے بجائے آنے والے وقت کی سلامتی کو ترجیح دے۔ کیونکہ اصل دانش یہی ہے کہ انسان صرف آج کے سکون کے لیے نہ سوچے بلکہ آنے والی نسلوں کے تحفظ کو بھی اپنی ترجیح بنائے۔

ٹیگز: