خطہ پوٹھوہار کے اہم دریا ”دریائے سواں“ کے بارے میں لکھنا مجھے اس لیے پسند ہے کہ جہاں یہ دریا میرے آبائی قصبے چونترہ (تحصیل راولپنڈی) کی تین اطراف شمال مشرق اور مغرب سے بہہ کر گزرتا اور میرے قصبے کی زمینوں کی ہریالی اور شادابی اور فصلوں کی نشوو نما کا ذریعہ بنتا ہے وہاں اس دریا کی نسبت سے ہمارے پورے تھانہ چونترہ کے باسیوں کو ”سوائیں“ اور تقریباً سبھی دیہات و قصبات پر مشتمل علاقے کو ”علاقہ سواں“ کے ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ یہ دریا راولپنڈی کچہری کے جنوب مشرق سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر جی ٹی روڈ پر سواں کیمپ کے مقام پر اپنے اوپر بنے قدیم پُل کے نیچے سے بہہ کر آگے گزرتا ہے تو نالہ لئی کے اس میں شامل ہونے کی بنا پر اس کے پانی کی مقدار میں جہاں اضافہ ہو جاتا ہے وہاں مشرق میں اس کے بلند چٹانی کناروں اور اُن کے پیچھے دور دور تک پھیلے وسیع رقبوں میں بحریہ فیز 6، 7، 8 اور 9 کی جدید بستیاں اپنے عالی شان اور پُر تعیش مکانات کے ساتھ کھڑی ہیں تو مغرب میں اپنے کئی سب سیکٹرز اور ایکسٹنشنز سمیت DHA فیز 1 پھیلا ہوا ہے جو اب اڈیالہ جیل سے چار پانچ کلو میٹر آگے اڈیالہ گاو¿ں تک پہنچ چکا ہے اور اپنے ریور ویو ایکسٹینشن کے انتہائی مہنگے پلاٹوں کی بکنگ کر رہا ہے۔ گویا دریائے سواں بہت سارے اداروں کے تجارتی مقاصد میں بھی اُن کے کام آ رہا ہے۔ تاہم میرے لیے دریائے سواں کے کچھ دیگر پہلو زیادہ اہم ہیں۔
دریائے سواں شاہ پور داہگل سے آگے ذرا ہموار سطح زمین پر بہتا ہوا گزرتا ہے تو یہاں اس کی رفتار میں تندی و تیزی نہیں اور اس کا پھیلاو¿ بھی زیادہ ہے جس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آس پاس کے علاقوں میں زیرِ زمین پانی کی سطح زیادہ گہری نہیں ہے۔ اس علاقے میں بکثرت کنویں کھدے ہوئے ہیں یا چھوٹے موٹے بور ہیں جن پر موٹریں لگی ہوئی ہےں۔ پانی وافر ہے جس سے کھیت خوب سیراب ہوتے ہیں جن سے سارا سال سبزیاں اُگائی جاتی ہیں اور ہر روز شام اور رات کو بیسیوں سوزوکی اور مزدا پِک اَپس تازہ سبزیوں سے لدی پنڈی اور اسلام آباد کی سبزی منڈیوں کا رُخ کرتی ہیں۔ اڈیالہ روڈ کے متوازی دریائے سواں کے پار میاں احمد، نکڑالی، گنگال اور کاہنہ وغیرہ کے دیہات آباد ہیں۔ کاہنہ کے نزدیک دریائے سواں پر ایک بڑی ”ٹہن“ (کئی سو فٹ تک پھیلا ہوا گہرے پانی کا قطعہ) کب سے موجود چلی آ رہی ہے۔ اسی طرح کی ایک ”ٹہن“ ہمارے گاو¿ں کے شمال مغرب میں منیالہ گاو¿ں کو جانے والے پیدل راستے کے قریب بھی واقع ہے اس کو ”پڑیوں والی ٹہن“ کے نام سے پکارا جاتا ہے کہ یہاں دریا کے دائیں کنارے بڑی بڑی پتھریلی چٹانیں جنہیں مقامی زبان میں پڑیاں کہا جاتا ہے موجود ہیں۔ دریا کا پانی کچھ ان کے نیچے سے اور کچھ ان کے دامن سے بہہ کر گزرتا ہے۔ یہاں سے آگے دریا کا رُخ مغرب سے جنوب مغرب کی طرف ہو جاتا ہے اور اس کی رفتار بھی سُست ہو جاتی ہے۔ عجیب بات ہے دریا اپنے اندر بہہ کر آنے والی اشیاءیا مردہ اجسام کو اکثر اپنے اس حصے میں کنارے پر لگا دیتا ہے۔ پچھلے زمانوں کی بات ہے جب دریا پر ابھی ہمارے گاو¿ں چونترہ والا یا اڈیالہ روڈ پر گورکھپور والا پُل نہیں بنا تھا تو برسات کے موسم میں دریا میں اچانک طغیانی آ جانے کی وجہ سے دریا کے آر پار جانے والے لوگ اس کی لپیٹ میں آ کر بہہ بھی جایا کرتے تھے۔ پھر دریا کے کنارے ان کے مردہ جسم (لاشوں) کی تلاش شروع کی جاتی تھی تو اکثر ایسے ہوتا کہ مردہ جسم یا لاش وغیرہ ہمارے گاو¿ں کے قریب دریا کے اسی حصے میں ریت میں کچھ دھنسی مل جایا کرتی تھیں۔
مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب میں ہائی سکول میں ساتویں جماعت میں پڑھتا تھا تو نواحی گاو¿ں چک سگہو کا ایک لڑکا محمد تاج میرا ہم جماعت تھا۔ سکول میں گرمیوں کی چھٹیاں تھیں ۔ تاج اپنے گاو¿ں سے کچھ فاصلے پر دریا کے پار واقع ایک دوسرے گاو¿ں میں اپنی بہن سے ملنے کے لیے گیا۔ واپسی پر دریا میں کچھ طغیانی اور پانی زیادہ تھا۔ دریا عبور کرتے ہوئے تاج پانی میں گر گیا اور ڈوبنے سے اُس کی موت واقع ہو گئی۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ اگلے دن اس کی نعش ”پڑیاں والی ٹہن“ سے آگے ہمارے گاو¿ں کے مغرب میں جہاں دریا سُست رفتار سے بہتا ہوا گزرتا ہے کنارے پر آدھی ریت میں دھنسی ہوئی ملی۔ گاو¿ں میں شور مچ گیا۔ میں بھی دیکھنے گیا اور بعد میں کتنا عرصہ وہ منظر میری نگاہوں کے سامنے آتا رہا۔
اُوپر میں نے اپنے گاو¿ں اور تھانہ چونترہ کے دوسرے دیہات و قصبات جن کے قرب و جوار سے دریا سواں بہہ کر گزرتا ہے کے لوگوں کو ”سوائیں“ کہہ کر پکارے جانے کا ذکر کیا ہے۔ یہ دلچسپ امر ہے کہ دریائے سواں مری، کوٹلی ستیاں، دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی کے تھانہ صدر بیرونی کے دیہات و قصبات کے قرب و جوار سے گزرتا ہے اور آگے تھانہ چونترہ کے بہت سارے دیہات و قصبات کے درمیان سے یا اطراف سے بہہ کر گزرنے کے بعد ضلع چکوال کے کئی دیہات اور قصبات اور ضلع اٹک کی تحصیل پنڈی گھیب کے کچھ دیہات و قصبات کے نواح سے گزرنے کے بعد پر دریائے سندھ میں جا ملتا ہے تو یہاں کے لوگ دریائے سواں سے ”سوائیں“ ہونے کا تعلق نہیں جوڑتے اور نہ ہی اس کے حوالے سے اپنی کوئی پہچان ظاہر کرتے ہیں۔ جبکہ تھانہ چونترہ کے چھوٹے بڑے دیہات وہ قصبات جن میں چونترہ، ادھوال، سنگرال، جھنڈو سیداں، جادہ، چک امرال، ڈھولیال، پنڈ ملہو، سہال، تترال، جسوال، گنگال، سروبہ، ڈھیری موہڑہ، چکری، گاہی سیداں، کولیاں حمید، بلاول، ہریانوالہ اور ڈھڈمبر وغیرہ شامل ہیں، یہاں کے لوگوں کو ”سوائیں“ کہہ کر پکارا ہی نہیں جاتا بلکہ یہاں کے لوگ اپنے ”سوائیں“ ہونے کی پہچان پر ناز بھی کرتے ہیں۔
دریائے سواں میں ہر سال موسمِ برسات میں طغیانی کا آنا معمول سمجھا جا سکتا ہے۔ بعض اوقات یہ طغیانی بڑے سیلاب کا روپ دھار لیتی ہے۔ پچھلے سال دریائے سواں میں کم از کم دو بڑے سیلاب آئے۔ ایک جولائی کے مہینے میں اور دوسرا اگست میں۔ اس سال ابھی تک دریائے سواں میں اس طرح کا کوئی سیلاب نہیں آیا کہ اس کا پاٹ چونترہ کے مشرق اور شمال مشرق میں میلوں تک پھیل گیا ہو۔ چھوٹی موٹی طغیانیاں ضرور آئی ہیں۔ اصل میں دریائے سواں میں کوئی بڑا سیلاب اس وقت آتا ہے جب مری اور کوٹلی ستیاں کے پہاڑی اور کوہستانی سلسلوں میں زور کی بارشیں برسیں۔ کہوٹہ اور سہالہ کی طرف سے آ کر اس میں ملنے والے ندی نالے بارش کی وجہ سے خوب بھرے ہوئے ہوں، اسلام آباد، راولپنڈی اور نواح میں بہت زور کی بارش ہو اور راول ڈیم کے سپیل ویز کھولے جانے کی بنا پر نالہ کورنگ لبا لب بھرا ہوا ہو اور اس کے ساتھ نالہ لئی کناروں سے باہر نکل کر بہتا ہو تو پھر ہزاروں کیوسک پر مشتمل پانی دریائے سواں میں جب ملتا ہے تو اس میں ایسا سیلاب آتا ہے جیسے اوپر کہا گیا ہے۔ اس کا پاٹ میلوں میں پھیل جاتا ہے۔ اللہ کرے ہزاروں بلکہ لاکھوں سال بلکہ اس سے بھی زیادہ عرصے سے جاری دریائے سواں کی یہ روانی ایسے ہی برقرار رہے۔ اس کے نواح کی زمینیں سر سبز و شاداب ہوتی رہیں۔ اس میں طغیانیاں بھی آتی رہیں اور طغیانیاں کسی نقصان کا باعث نہ بننے پائیں لیکن دریا کو اس کی ضمانت دینے سے قاصر سمجھا جا سکتا ہے۔ بقول بزرگ قومی شاعر مولانا الطاف حسین حالی
دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام
کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے