Wed, September 16, 2026

یومِ تکبیر پاکستان

یومِ تکبیر پاکستان

 ہندوستان کے ساتھ بھی عجیب مسئلہ ہے اس نے جب بھی اپنے تئیں کوئی ایسا اقدام کیا کہ جو اس کے مطابق پاکستان کے خلاف ایک ماسٹر اسٹروک تھا اور جس سے ہندوستان کے سورما یہ سمجھتے تھے کہ اس سے پاکستان کو نا قابل تلافی نقصان پہنچے گا تو ایسے ہر ماسٹر اسٹروک کے رد عمل میں جب پاکستان نے اپنا ماسٹر اسٹروک کھیلا تو پوری دنیا میں ہندوستان کو نہ صرف یہ کہ شکست کا سامنا کرنا پڑا بلکہ ذلت و رسوائی سے پوری دنیا سے منہ چھپانا پڑ گیا ۔ 18مئی1974میں راجستان میں (Smiling Buddha)سمائلنگ بدھا کے نام سے ایک خفیہ ایٹمی دھماکہ کیا لیکن اسے علم نہیں تھا کہ یہ دھماکہ اس کی جڑوں میں بیٹھ جائے گا اور تا قیامت اسے پاکستان کے سامنے آنکھ اٹھا کر بات کرنے کے قابل نہیں چھوڑے گا ۔ اس دھماکہ کے فوری بعد پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان میں نیو کلیئر پروگرام کی بنیاد رکھی اور ڈاکٹر عبد القدیر خان کو بیرون ملک سے پاکستان بلوا کر انھیں ریاست پاکستان کی جانب سے ہر طرح کی سہولیات فراہم کیں تاکہ پاکستان بھی ہندوستان کی طرح نیو کلیئر پاور بن سکے ۔ اس پروجیکٹ میں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ دیگر بہت سے سائنسدانوں نے بھی کام کیا جن میں ڈاکٹر ثمر مبارک مند بھی شامل تھے ۔ اگر بھارت 1974میں ایٹمی دھماکہ نہ کرتا تو شاید پاکستان بھی اس وقت نیوکلیئر پروگرام شروع نہ کرتا ۔ اس کے بعد ایک بار پھر اس کی مت ماری گئی اور اس نے 11مئی1998کو3اوردو دن بعد 13مئی1998کو 2مزید ایٹمی دھماکے کر دیئے یعنی کل ملا کر 5ایٹمی دھماکے کئے جبکہ اس کے مقابلہ میں پاکستان نے 7ایٹمی دھماکے کر کے ہندوستان پر اپنی واضح برتری ثابت کر دی ۔ جس طرح بچھو کی فطرت میں ڈنگ مارنا ہے تو اسی طرح ہندوستان کی فطرت بھی کچھ ایسی ہی ہے کہ جب تک پاکستان کے خلاف کچھ کر نہ لے اس وقت تک اسے چین نہیں آتا اور اس کے لئے یہ دنیا کی نظروں میں دھول جھونکنے کے لئے اکثر (False Flag Operation) فالس فلیگ آپریشن کر کے اپنے ہی ملک میں اپنی ہی عوام کو دہشت گردی کا نشانہ بناتا ہے اور پھر اس کا الزام پاکستان پر لگاتا ہے لیکن گذشتہ سال22 اپریل2025کو اس کے دماغ نے بالکل ہی کام کرنا چھوڑ دیا اور اس نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کر کے اس کا الزام پاکستان پر لگایا اور جیسا کہ کالم کی ابتدا میں عرض کیا تھا کہ یہ اپنی دانست میں ایسا ماسٹر اسٹروک کھیلتا ہے کہ جس سے پاکستان کو نقصان پہنچے لہٰذا اس نے پہلگام کے واقعہ کو بنیاد بنا کر 7مئی کی رات کو آپریشن سندور کے نام پر پاکستان کے مختلف مقامات پر حملے کر دئیے ۔
آپریشن سندور کرتے ہوئے ہندوستان کو اندازہ نہیں تھا کہ اس وقت پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت موت کے خوف سے سر پر بالٹی رکھ کر اپنی حفاظت کرنے والی نہیں بلکہ دشمن کے مقابلہ پر سر پر کفن باندھ کر میدان عمل میں اترنے والی قیادت ہے اور پھر وہی ہوا جو ماضی میں بھی ہندوستان کے ہر ماسٹر اسٹروک کے بعد ہوا کرتا ہے اور افواج پاکستان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں 10مئی کو صبح آپریشن بنیان مرصوص میں ہندوستان کو ایسی مار ماری کہ وہ پوری دنیا میں ذلیل و رسوا ہو گیا اور اسے آج تک سمجھ نہیں آ سکی کہ آخر اس کے ساتھ ہوا کیا تھا کہ چار گھنٹے کے انتہائی قلیل وقت میں اسے چاروں شانے چت ہو کر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاﺅں پڑ کر پاکستان سے صلح کی درخواست کرتی ہے تو ہندوستان کے ساتھ بھی عجیب مسئلہ ہے اس نے جب بھی اپنے تئیں کوئی ایسا اقدام کیا کہ جو اس کے مطابق پاکستان کے خلاف ایک ماسٹر اسٹروک تھا تو جب پاکستان نے اپنا ماسٹر اسٹروک کھیلا تو پوری دنیا میں ہندوستان کو نہ صرف یہ کہ شکست کا سامنا کرنا پڑا بلکہ ذلت و رسوائی سے پوری دنیا سے منہ چھپانا پڑ گیا ۔ 
بات ہو رہی تھی یوم تکبیر کی ۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ جب 1998میں ہندوستان نے ایٹمی دھماکے کئے تو صرف پاکستانی قوم میں ہی نہیں بلکہ پورا عالم اسلام اضطرابی کیفیت کا شکار ہو گیا ۔ پاکستان کے عوام کا ہر لمحہ پریشانی کی حالت میں تھا اور ایک ایک پل گذارنا مشکل ہو رہا تھا ۔ بین الاقوامی منظر نامہ بھی پاکستان کے لئے کوئی اچھی خبریں نہیں دے رہا تھا بلکہ عالمی طاقتیں پاکستان کو ہر ممکن طریقے سے ایٹمی دھماکوں سے روک رہی تھیں ۔ کبھی پاکستان کو ڈالروں کا لالچ دیا جا رہا تھا کہ اگر ہندوستان کے مقابلے میں ایٹمی دھماکے نہیں کرتے تو تمہیں فوری طور پر اتنے ارب ڈالر نقد دیئے جائیں گے اور جب لالچ سے بات نہ بنتی تو پھر پابندیوں اور خوف ناک نتائج کی دھمکیاں دی جاتی ۔ یہ سلسلہ جاری رہا کبھی پیار سے اور کبھی دھمکیوں سے ڈرایا جاتا رہا حتیٰ کہ خوف ناک نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئی لیکن پھر ان تمام تر دھمکیوں اور لالچ سے خوف زدہ اور مرعوب ہوئے بغیر میاں نواز شریف کی قیادت میں پاکستان نے ہندوستان کو جواب دینے کا فیصلہ کیا اور بالآخر 28مئی کو بلوچستان میں چاغی کے پہاڑوں میں پاکستان نے ہندوستان کے پانچ کے مقابلوں میں سات ایٹمی دھماکے کر کے پوری دنیا کے سامنے اپنی برتری ثابت کر دی ۔پاکستان اب تک اسلامی دنیا کی واحد نیوکلیئر پاور ہے۔ نیو کلیئر پاور پاکستان کے دفاع کے لئے تا قیامت ایک سیفٹی والو ہے اور اب تو اس کے ساتھ میزائل ، ڈرون اور جدید جنگی ٹیکنالوجی نے پاکستان کو عسکری میدان میں اس بلند مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ اب تا قیامت کوئی طاقت وطن عزیز کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتی ۔

ٹیگز: