Wed, September 16, 2026

فرعون سوالی بن جائے

فرعون سوالی بن جائے

صوفی بزرگ صاحب کشف و نظر حضرت باقی باللہ کے لیے مشہور ہے کہ آپ سر کا رومال پیشانی کے نیچے تک رکھتے تھے، جس سے آنکھیں صرف زمین پر دیکھ سکتی تھیں۔ ان کے مرید خاص ہمیشہ اصرار کرتے کہ آپ نظریں اٹھا کر کیوں نہیں چلتے ، ایک دن حضرت صاحب نے اپنا رومال اس مرید کے سر پر رکھا اور کہا کہ اب دیکھو، وہ سڑک پر جاتے ہوئے لوگوں کو دیکھ کر چلا اٹھا۔ سرکار اتنے جانور کہاں سے آگئے؟ مرید کو سڑک پر چلتے ہوئے انسانوں کی بجائے جانور اور درندے دکھائی دینے لگے جیسے کوئی سور کی شکل، کوئی بھیڑئیے، شیر، کتے اور کوئی لومڑی وغیرہ کی شکل جبکہ کچھ کیڑے مکوڑے، تو صوفی بزرگ نے اس کے سر سے رومال کھینچ لیا۔ دراصل یہ درویش کی ایک کرامت تھی جو مرید کو لوگ ظاہری شکل کی بجائے کردار کے حوالے سے نظر آنے لگے۔ آج ویسے صاحب نگاہ درویش تو موجود نہیں ہیں لیکن انسانی تاریخ میں ہرگزرنے والے منفی اور مثبت کلیدی کرداروں کو مد نظر رکھتے ہوئے موجودہ معاشرے میں رہنے والے لوگوں، گروہوں اور کرداروں کا مشاہدہ کیا جائے تو یہ احساس ہو گا ک? فرد تو مٹ جاتا ہے لیکن اس کا کردار بعد میں آنے والے انسانوں کی صورت میں جاری رہتا ہے جیسے آج بھی قارون، نمرود، ابو جہل ، عبداللہ ابن ابی، شمر وغیرہ جو حرص جو ہٹ دھرمی ، جہالت و منافقت اور ظلم و جبر کے لیے ایک علامت کے طور پر جانے جاتے ہیں، اپنا سفر آج کے معاشرے میں کئی انسانوں اور اداروں کی صورت میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ گو کہ خیر کی علامت ہستیوں کے پیروکار بھی شر اور باطل کے خلاف مسلسل برسر پیکار ہو کر عملی اور علامتی کردار ادا کر رہے ہیں مگر تعداد نہ ہونے کے برابر۔ 
در اصل عروج کو نہیں، ظلم اور تکبر کو ہی زوال آتا ہے۔ فرعون مصر کے مطلق العنان حکمرانوں کا ٹائٹل تھا ، تاریخ میں تذکرہ اس فرعون کا باقی رہ گیا جس کے گھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پرورش پائی اس کو بلاک ہوئے صدیاں بیت گئیں، قرآن مجید میں بھی تفصیل سے ذکر ہے اور جس کی ممی آج بھی دنیا کے ایک بڑے عجائب گھر میں رکھی ہوئی ہے، تو سیع پسندی، خوشامد پسندی، طمع، ظلم، بربریت ، دہشت گردی، حاکمیت، خود پسندی، طاقت ، وحیثیت کا منفی استعمال، اندر کا خوف، منہ زور جہالت، رعونت و تکبر وغیرہ کے کردار اور رویے کے لیے ہی فرعون آج تک بطور استعارہ استعمال ہو رہا ہے۔ آج کوئی صاحب نظر بزرگ تو نہیں جو رومال سر پر رکھ کر عام انسانوں کی زندگی میں فرعون کا سفر جاری رکھنے والوں کی نشاندہی کر سکے لیکن صفات و کردار کی مماثلت رہنمائی کر سکتی ہے کہ امرائ ، حکمرانوں، اہل ثروت و اختیار لوگوں میں عملی طور پر جتنی تقلید اس کو نصیب ہوئی کسی اور کو نہ ہی ہوئی۔ کردار کے حوالے سے حلقہ نیابت جتنا اس کا وسیع ہے شاید ہی کسی اور کا ہو اس کے پیروکار اس کا نام استعمال نہیں کرتے بلکہ بظاہر مختلف الہامی مذہب و دیگر مکاتب فکر میں گھسے ہوئے ہیں مگر کام اس کے لیے کرتے ہیں۔ گاو¿ں میں تاریک رات میں آسمان پر چمکتے ستاروں کی طرح اور موجودہ معاشرے میں فرعونیت کا سفر جاری رکھنے والوں کا شمار ممکن نہیں البتہ انسانیت کی عینک سے یہ صاف دکھائی دیتے ہیں۔ جن ممالک میں کوئی مربوط نظام حکومت اور انتظام معاشرت نہیں وہاں کا تو پورا معاشرہ ہی اس کے گن گاتا ہے۔ دنیا کے کونے کونے میں فرعون کے پیروکار ہیں جو اپنے کردار کی صورت میں اس کا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جبکہ وطن عزیز تو شاید کرہ ارض پر اس کے پیروکاروں کے لیے دارالخلافہ کا مقام رکھتا ہے۔ موجودہ دور میں فرعون کو اپنا سفر جاری رکھنے کے لیے کسی خاص روپ اور کردار کا محتاج ہونے کی ضرورت نہیں وہ کہیں بھی کسی بھی وقت اور کسی میں بھی برآمد ہوسکتا ہے اور بیک وقت کئی کئی نفوس اس کے کردار کا سفر آگے بڑھا رہے ہوتے ہیں۔ 
فرعونی طاقتوں نے اپنا نظام پوری تمکنت سے جاری رکھا ہوا ہے آئینی عہدے، قانونی وانتظامی مرتبے، سیاسی ذمہ داریاں، سکیل، گریڈ اور پھر مختلف معاشرتی شعبے، محکمہ اور خیر کو قوموں کی پیروی کا کردار ادا کر سکیں کیونکہ دوسری طرف شرو شیطان قارون و نمرود، ابوجہل و عبداللہ ابن ابی، شمر اور فرعون کا سفر جاری ہے۔ 
کچھ مذہبی فرعون ہیں مگر فراڈیئے ہیں۔ ایک دوست کی ایک شخصیت سے روحانی وابستگی تھی۔ اس نے دیکھا کہ وہ یکدم سراپا قہر کیوں بن گئیں۔ پتہ چلا کہ ایک پیشہ ور کاہن نے ان سے کہہ دیا کہ تمہارا فلاں نقصان میرے دوست نے وظائف کے ذریعے کر دیا ہے گویا اب فرعونوں میں مذہبی فرعون بھی شامل ہو چکے ہیں البتہ ایک بات ہے اگر آج حقیقی فرعون ہوتا کسی اعلیٰ آفیسر تو درکنار صاحب اقتدار تو درکنار بیوروکریسی کے ایک کلرک کے سامنے یا صاحب کے پرسنل اسسٹنٹ کے سامنے سوالی بنے کھڑا ہوتا۔ 
فرعون نے تو پھر موسیٰ علیہ السلام کو بات کرنے کا موقع دیا تھا۔ آج کے فرعون کہتے ہیں ہم آپ کی کوئی بات نہیں سنیں گے۔ 

ٹیگز: