Wed, September 16, 2026

فرعون سے ٹرمپ تک: زوالِ اقتدار اور خدائی ضابطے

فرعون سے ٹرمپ تک: زوالِ اقتدار اور خدائی ضابطے

تاریخِ انسانی کا بغور مطالعہ کیا جائے تو ایک ابدی حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ اقتدار کا ہما جب کسی کے سر پر بیٹھتا ہے تو وہ اکثر زمینی حقائق اور خدائی ضابطوں کو فراموش کر دیتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ تصویر، جس میں وہ ایک شکاری کی طرح بندوق تھامے کھڑے ہیں اور دنیا کو "نو مور مسٹر نائس گائے" (اب مزید شرافت نہیں) کا پیغام دے رہے ہیں، محض ایک سیاسی شعبدہ بازی نہیں بلکہ ایک عالمی سپر پاور کی بڑھتی ہوئی اخلاقی تنزلی کا کھلا اشتہار ہے۔ یہ تصویر اس تکبر کی عکاسی کرتی ہے جو ماضی میں بڑے بڑے سلاطین، جابروں اور فرعونوں کے زوال کا پیش خیمہ ثابت ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ کا یہ لہجہ کہ ایران کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا اور اس کے لیے وہ "بندوق" اٹھانے سے بھی گریز نہیں کریں گے، سفارتی آداب کے جنازے کے مترادف ہے۔ وہ بڑے فخر سے دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایران کے 82 فیصد میزائل تباہ ہو چکے ہیں اور وہاں کی معیشت دم توڑ چکی ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی قوم کی معیشت کو تباہ کرنا، اسے بھوک اور افلاس کی دلدل میں دھکیلنا اور اس کی دفاعی صلاحیتوں پر قدغن لگانا کسی عالمی لیڈر کا اعزاز ہے؟ یہ تو سراسر وہ غنڈہ گردی ہے جسے طاقت کے نشے میں چور ہو کر "حق" سمجھ لیا گیا ہے۔ ناکہ بندی کو بمباری سے زیادہ مو¿ثر قرار دینا درحقیقت اس سفاکیت کا اعتراف ہے جو خاموشی سے لاکھوں انسانوں کا گلا گھونٹتی ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب ظلم حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔
تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو ہمیں ایک سے بڑھ کر ایک طاقتور حکمران نظر آتا ہے جس نے اپنی طاقت کے زعم میں زمین کو تنگ کر دیا تھا۔ فرعون نے خدائی کا دعویٰ کیا، اس کے پاس اس وقت کی بہترین فوج اور وسائل تھے، لیکن جب اس کا تکبر انتہا کو پہنچا تو دریائے نیل کی موجوں نے اسے نشانِ عبرت بنا دیا۔ آج اس کی ممی شدہ لاش عجائب گھر میں چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ اقتدار اللہ کی امانت ہے، اسے اپنی ملکیت سمجھنے والے تباہ ہو جاتے ہیں۔ نمرود نے اپنی سلطنت اور طاقت پر غرور کیا، لیکن قدرت نے اسے ایک معمولی مچھر کے ذریعے ذلیل و خوار کر کے ہلاک کیا۔ شداد نے زمین پر اپنی جنت بنائی، مگر اس میں قدم رکھنے سے پہلے ہی موت کے فرشتے نے اسے جکڑ لیا۔ یہ سب قصے کہانیاں نہیں بلکہ وہ حقائق ہیں جو بتاتے ہیں کہ کائنات کا اصل مالک کون ہے۔
امریکی صدر کی یہ تصویر جس میں وہ بندوق اٹھا کر غرور کا اظہار کر رہے ہیں، درحقیقت ان کی اندرونی کمزوری اور اخلاقی دیوالیہ پن کا ثبوت ہے۔ ایک سچا اور طاقتور لیڈر وہ ہوتا ہے جو امن کی بات کرے، جو غریب قوموں کا سہارا بنے، نہ کہ وہ جو بندوق دکھا کر اپنی بات منوانے کی کوشش کرے۔ اسلامی تعلیمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ "اللہ تعالیٰ غرور کا سر ہمیشہ نیچا ہی کرتا ہے"۔ جب انسان اپنی ٹیکنالوجی، اپنے اسلحہ اور اپنے ڈالر کو اپنی خدائی کا ذریعہ سمجھنے لگے، تو قدرت کا ایک چھوٹا سا جھٹکا اس کی تمام تر اکڑ کو خاک میں ملا دیتا ہے۔ تاریخ میں ہٹلر اور مسولینی جیسے آمروں کا انجام بھی ہمارے سامنے ہے، جنہوں نے بندوق اور جبر کے زور پر دنیا کو فتح کرنے کا خواب دیکھا تھا، لیکن ان کا انجام خودکشی اور ذلت آمیز موت پر ہوا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ ایک طرف روسی صدر پیوٹن کو یوکرین جنگ ختم کرنے کے مشورے دے رہے ہیں اور دوسری طرف خود ایران کے خلاف ایک نیا محاذ کھولنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ دوغلا پن امریکہ کی عالمی ساکھ کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ تیل کی عالمی منڈیوں پر قبضے کی تگ و دو اور بڑی کمپنیوں کے حکام سے ملاقاتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس تمام تر "بندوق برداری" کے پیچھے محض امن کی خواہش نہیں بلکہ معاشی ہوس اور مفادات کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ وہ دنیا کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ وہ جو چاہیں گے وہی ہوگا، لیکن وہ یہ بھول رہے ہیں کہ دنیا اب یک قطبی (Unipolar) نہیں رہی۔
ٹرمپ کی یہ متنازع تصویر خود امریکی عوام کے لیے بھی کسی شرمندگی سے کم نہیں ہے۔ ایک ایسا ملک جو خود کو انسانی حقوق اور عالمی امن کا علمبردار کہتا ہے، اس کا سربراہ جب اس طرح کی جارحانہ اور غیر مہذب حرکات کرتا ہے تو عالمی سطح پر اس کے جمہوری ڈھانچے پر سوالات اٹھنے لگتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل کسی ریاست کے سربراہ کا نہیں بلکہ کسی "کاو¿ بوائے" فلم کے ولن کا معلوم ہوتا ہے۔ ماضی قریب میں ہم نے دیکھا کہ سوویت یونین جیسی عظیم طاقت، جس کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کے انبار تھے، اپنی اندرونی بوسیدگی اور غرور کی وجہ سے تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئی۔ امریکہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف میزائلوں کی تعداد اور ڈالر کی چمک کسی سلطنت کو دوام نہیں بخشتی، بلکہ انصاف اور اخلاقی برتری ہی بقا کی ضمانت ہوتی ہے۔ امریکہ کی یہ اخلاقی شکست اس وقت مزید واضح ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ وہ مذاکرات کی میز کے بجائے ناکہ بندیوں اور پابندیوں کو ترجیح دیتا ہے۔ بحری محاصرہ کر کے کسی ملک کی خوراک اور ادویات روکنا کسی بھی طور بہادری نہیں کہلا سکتا۔ یہ بزدلی کی وہ انتہا ہے جسے سیاسی زبان میں "پریشر ٹیکٹکس" کا نام دیا جاتا ہے۔ اگر آج ٹرمپ کو اپنی طاقت پر اتنا ہی زعم ہے تو انہیں چاہیے کہ وہ برطانیہ کے زوال سے سبق سیکھیں جس کی سلطنت میں کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا، لیکن پھر وقت نے اسے اپنے ہی جزیرے تک محدود کر دیا۔
آج کی بندوق کل ایک ٹوٹا ہوا کھلونا ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اقتدار اور طاقت عارضی ہیں، جبکہ عبرت ابدی ہے۔ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے اور جب وہ چلتی ہے تو بندوقوں کے دہانے مڑ جاتے ہیں اور میزائلوں کی ٹیکنالوجی دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ ٹرمپ کی یہ بندوق والی تصویر دراصل امریکہ کے زوال کی تصویر ہے، کیونکہ جس قوم کا لیڈر اخلاقیات سے عاری ہو جائے، اس کا زوال یقینی ہو جاتا ہے۔
آخر میں، اتنا کہوں گا کہ دنیا کی ہر بڑی طاقت کو ایک نہ ایک دن جوابدہ ہونا پڑتا ہے۔ چاہے وہ معیشت کی ناکہ بندی ہو یا میزائلوں کی تباہی، انصاف کا ترازو ہمیشہ مظلوم کے پلڑے میں جھکتا ہے۔ امریکہ کو چاہیے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے اور "بندوق کی سیاست" کے بجائے "امن کی سفارت" کو فروغ دے، ورنہ غرور کی یہ بلند عمارت جب گرے گی تو اس کا ملبہ سمیٹنے والا بھی کوئی نہیں ہوگا۔ فرعون سے لے کر آج کے دور کے جابروں تک، تاریخ کا سبق ایک ہی ہے: طاقت کا اصل منبع اللہ کی ذات ہے، اور جو اس حقیقت کو بھولتا ہے، وقت اسے بھلا دیتا ہے۔

ٹیگز: