Wed, September 16, 2026

کالے فرعون: نوآبادیاتی غلامی کا جاری کردار

کالے فرعون: نوآبادیاتی غلامی کا جاری کردار

پاکستان میں ریاستی نظم و نسق کا جو نظام ہمیں آزادی کے بعد ملا، وہ ظاہری طور پر خودمختار نظر آتا ہے، مگر اس کی جڑیں آج بھی نوآبادیاتی دور کے گہرے اندھیروں میں پیوست ہیں۔ برطانوی سامراج نے جو ادارے، ڈھانچے اور نظریات ہمیں ورثے میں دئیے، وہ آزادی کے بعد بھی بغیر کسی بنیادی تبدیلی کے جاری و ساری رہے۔ یہ تبدیلی محض رنگ و نسل کی سطح پر آئی سفید حاکم کی جگہ کالا حاکم آ گیا، مگر سوچ، رویہ، اختیار کی تقسیم اور ریاستی طاقت کا استعمال وہی رہا۔ ذہنی، فکری اور ادارہ جاتی سطح پر ہم وہی غلام رہے جو کبھی تاجِ برطانیہ کے زیرنگیں تھے۔ سی ایس ایس کا نظام، جو آج بھی نوجوانوں کے لیے اعلیٰ نوکری کا سب سے معتبر ذریعہ سمجھا جاتا ہے، اصل میں برطانوی سامراج کی انڈین سول سروس کا نیا روپ ہے۔ اس نظام کا مقصد عوام کی خدمت نہیں بلکہ ان پر حکومت کرنا تھا۔ انگریز کو مقامی آبادی پر کنٹرول رکھنے کے لیے ایسے افسران کی ضرورت تھی جو اس کے احکامات کو بغیر کسی سوال کے نافذ کر سکیں اور مقامی عوام سے ایک خاص فاصلہ برقرار رکھیں۔ آزادی کے بعد اس سول سروس کا نام تو بدل گیا، مگر مقصد، طریقہ کار اور اختیارات کا ڈھانچہ جوں کا توں رہا۔ آج بھی سی ایس ایس افسران کو عوامی نمائندوں سے بالاتر اور عام شہریوں سے فاصلہ رکھنے والا طبقہ تصور کیا جاتا ہے۔ یہ طبقہ صرف طاقتور ہی نہیں، بلکہ مراعات یافتہ بھی ہے۔ ان کے لیے سرکاری بنگلے، گاڑیاں، ڈرائیور، گھریلو ملازم، مفت بجلی، سفری اخراجات اور دیگر بے شمار سہولیات ریاستی خزانے سے فراہم کی جاتی ہیں۔ جب کہ وہ استاد، ڈاکٹر، یا انجینئر جو برسوں محنت اور مہارت سے خدمات انجام دیتا ہے، اسے اتنی سہولتیں میسر آتی ہیں نہ وہی معاشرتی مرتبہ۔ یہ فرق نہ صرف ناانصافی بلکہ ایک ایسی سوچ کو جنم دیتا ہے جہاں نوجوان خود کو بااختیار بنانے کے لیے علم یا مہارت کی راہ نہیں چنتے، بلکہ سی ایس ایس کی منزل کو اقتدار، طاقت اور سماجی برتری کا شارٹ کٹ سمجھتے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ بیوروکریسی محض مراعات کی حقدار ہی نہیں بلکہ ہر شعبے کی مالک بھی بن چکی ہے۔ معیشت، تعلیم، صحت، پولیس، عدلیہ، بلدیات، حتیٰ کہ ثقافت جیسے حساس و پیچیدہ شعبے بھی ایسے افراد کے حوالے کر دئیے جاتے ہیں جن کی تعلیم، مہارت یا تجربہ اس میدان سے متعلق نہیں ہوتا۔ ایک جنرل امتحان پاس کرنے والا شخص پولیس کا ڈی آئی جی، کسی تعلیمی ادارے کا رجسٹرار، یا فنانس ڈپارٹمنٹ کا سیکریٹری بن جاتا ہے۔ اسے نہ تو اس شعبے کی تکنیکی باریکیوں کا علم ہوتا ہے، نہ اس کی تاریخ اور تناظر سے واقفیت۔ نتیجتاً، فیصلے ایسے لوگ کرتے ہیں جنہیں فیصلوں کے اثرات کا شعور تک نہیں ہوتا۔ دنیا بھر میں مہارت کو فیصلہ سازی کی بنیاد مانا جاتا ہے، مگر ہمارے ہاں جنرلزم کو فوقیت دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاستی نظام نا اہلی، بدانتظامی اور غیر شفافیت کا شکار ہے۔ جب ہر شعبے میں ایسے افراد ہوں جو اس کے تقاضوں سے ناآشنا ہوں تو پھر ترقی کا خواب صرف تقریروں میں رہ جاتا ہے، زمینی حقیقت میں نہیں۔ اس ریاستی ڈھانچے کی جڑیں صرف بیوروکریسی تک محدود نہیں۔ اس کے ساتھ مذہبی طبقہ، موروثی سیاست اور ایک مخصوص تعلیمی نظام بھی شامل ہے، جو مل کر ایک ایسا مقدس اتحاد بناتے ہیں جو عوام کو ذہنی غلامی میں رکھتا ہے۔ مذہب کو خدمت، تزکیہ نفس اور انصاف کی بجائے، خوف، تابع داری اور اقتدار کے استحکام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ عوام کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ مقدر ہے، کہ حکمران اللہ کی طرف سے مقرر ہوتے ہیں، اور سوال کرنا گناہ یا بغاوت کے مترادف ہے۔ اسی طرح تصوف، جو کبھی خودی کی تربیت اور روح کی بالیدگی کا ذریعہ تھا، آج چند مخصوص خانقاہوں، درگاہوں اور مزاروں میں نذرانے، سیاسی اثر و رسوخ اور مرید پرستی تک محدود ہو چکا ہے۔ تعلیم جو شعور، تحقیق اور سوال کی کنجی ہونی چاہیے، وہ محض رٹا بازی، ڈگری 
کے حصول اور امتحانات میں نمبر لینے تک محدود ہے۔ طلبا کو سوچنے، سوال کرنے، یا کسی چیز کو چیلنج کرنے کی تربیت نہیں دی جاتی، بلکہ انہیں اطاعت اور مقابلہ بازی کے اصول سکھائے جاتے ہیں۔ یہ ساری فکری غلامی اسی نوآبادیاتی ورثے کا تسلسل ہے، جسے انگریزوں نے دانستہ طور پر تشکیل دیا اور ہم نے اسے خود ہی قائم رکھا۔ انطونیو گرامشی کے مطابق یہ ثقافتی بالادستی ہے، جہاں محکوم اپنے محکوم ہونے کو فطری سمجھنے لگتا ہے۔ فرانتز فینن نے کہا تھا کہ جب ذہن نوآبادیاتی ہو تو آزادی محض سراب ہے۔ اور نطشے نے جسے غلامانہ اخلاقیات کہا، وہ آج ہمارے سماج میں پوری طرح موجود ہے۔ جہاں ظلم سہنا صبر کہلاتا ہے، سوال کرنا گستاخی اور اقتدار کو چیلنج کرنا گناہ۔ مگر اس گھٹن اور غلامی سے نجات کا راستہ بھی موجود ہے اور وہ صرف ظاہری اصلاحات سے نہیں بلکہ فکری بیداری، ادارہ جاتی تنظیمِ نو اور سماجی شعور کی بالیدگی سے ممکن ہے۔ سب سے پہلے ہمیں بیوروکریسی کے تقدس کو توڑنا ہو گا۔ یہ ادارہ عوامی خدمت کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ حکمرانی کے لیے۔ سی ایس ایس جیسے امتحانات کو شعبہ جات کے اعتبار سے مخصوص کیڈرز میں تقسیم کیا جائے اور ہر شعبے میں صرف وہی افراد تقرر پائیں جو متعلقہ تعلیم، تجربہ، اور تربیت رکھتے ہوں۔ بیوروکریسی کی مراعات کو محدود، شفاف اور کارکردگی سے مشروط کیا جائے، تاکہ ریاستی وسائل کا منصفانہ استعمال ممکن ہو۔ مذہب کو خوف اور اطاعت کی بجائے شعور، اخلاق، اور عدل کا ذریعہ بنایا جائے۔ مذہبی اداروں کو ریاستی سرپرستی سے نکال کر خودمختار اور جواب دہ بنایا جائے۔ تعلیم کو رٹا بازی سے نکال کر تحقیق، سوال اور مکالمے پر مبنی بنایا جائے۔ طالب علم کو نوکری نہیں، سچ کی تلاش کے لیے تیار کیا جائے۔ جب تک ہم اپنے ذہنوں سے نوآبادیاتی زنجیروں کو نہیں اتارتے، تب تک فرعون بدلتے رہیں گے کبھی سفید، کبھی کالا مگر اصل آزادی کا سورج طلوع نہیں ہو گا۔ یہ سیاسی منشور نہیں، بقا کی جد و جہد ہے۔ ایک فکری انقلاب، جو ہمیں اس غلامی کے چنگل سے نجات دلائے گا جسے ہم نے کبھی دیکھا بھی نہیں، مگر نسل در نسل جھیلا ضرور ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم سوچ بدلیں، نظام بدلیں اور وہ اقدار اپنائیں جو ایک آزاد قوم کی علامت ہیں۔ 

ٹیگز: