Wed, September 16, 2026

آزاد کشمیر کا مسلم لیگ (ن)پر اعتماد کا اظہار

آزاد کشمیر کا مسلم لیگ (ن)پر اعتماد کا اظہار


جمہوریت میں اختلاف رائے اور دوسرے کی بات کو سننا جمہوریت کا حسن کہلاتا ہے۔ جمہوریت میں سب سے اہم چیز عوام کی رائے کا احترام کرنا اور اس کو تسلیم کرنا ہے۔ عوامی رائے پر اپنی رائے زبردستی مسلط کرنا جمہوری اصولوں کی نفی کہلاتا ہے۔ عوام اگر کسی جماعت کے امیدواروں کو ووٹ دیتے ہیں تو یہ اس جماعت کی کارکردگی کی بنیاد پر ہی ممکن ہوتا ہے۔ جو جماعت عوام کے مسائل کو حل کرتی ہے اور ملک کے لیے کام کرتی ہے عوام اسی کو اپنا خیر خواہ اور مسیحا سمجھتے ہیں۔ پاکستان میں اور آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کی قیادت کے ترقی منصوبے اور فلاحی اقدامات کونے کونے میں اس چیز کی گواہی دیتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کی قیادت نے ملک اور قوم کی خدمت کی ہے۔ مسلم لیگ ن نے عوام کے مینڈیٹ کا ہمیشہ احترام کیا ہے۔ جب عوام مسلم لیگ ن پر اعتماد کا اظہار کرتے ہیں تو اس کے بدلے میں مسلم لیگ ن عوام کے اعتماد پر 100 فیصد پورا اتر کر دکھاتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے علاوہ کسی جماعت نے اتنے بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبے مکمل نہیں کیے۔ مسلم لیگ ن کہ مد مقابل اب تک جتنی بھی جماعتوں نے الیکشن لڑا انہوں نے مسلم لیگ ن کی قیادت پر کیچڑ اچھال کر الیکشن مہم چلائی کسی جماعت نے عوام کو اپنی کارکردگی نہیں بتائی۔ جبکہ مسلم لیگ ن کی قیادت نے ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ہی الیکشن میں گئی اور عوام سے ووٹ مانگے یہی وجہ ہے کہ عوام مسلم لیگ ن پر ہی اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔ پاکستان کے جتنے بھی میگا پروجیکٹ ہیں وہ مسلم لیگ ن کی قیادت میں ہی مکمل ہوئے۔ میاں نواز شریف قومی لیڈر ہیں انہوں نے کبھی نفرت اور تقسیم کی سیاست نہیں کی بلکہ وہ ملک کو جوڑنے کی سیاست کرتے ہیں۔ آزاد کشمیر کے عوام بھی میاں نواز شریف کی قیادت پر ہمیشہ لبیک کہتے ہیں۔ بلاول بھٹو اور انکی جماعت کے لوگوں نے میاں نوازشریف سے متعلق بھی لائن کراس کی ہے جو ناقابل برداشت ہے۔ میرپور ڈویژن کے حالیہ انتخابات میں کشمیر ی عوام کا نواز شریف پر اعتماد ہی ان کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ آزاد کشمیر کے الیکشن کے پہلے مرحلے میں کشمیری بھائیوں نے نواز شریف کی قیادت پر اعتماد کی مہر لگائی ہے۔ میرپور ڈویژن کی 13 میں سے 9 نشستیں واضح مارجن کے ساتھ جیت لی ہیں۔ مسلم لیگ ن کے جو امیدوار میر پور سے کامیاب ہوئے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے مسلم لیگ ن کے مینڈیٹ کی توہین کرنا اصل میں کشمیری ووٹرز کی توہین ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے لوگوں نے پیپلز پارٹی کو ووٹ نہیں دیا تو اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ پیپلزپارٹی کی قیادت اپنی فرسٹریشن مسلم لیگ ن کی لیڈرشپ پر نکالے۔ پیپلزپارٹی کی قیادت کی باڈی لینگویج سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ غیر جمہوری ٹریک پر چلنے کی تیاری کر رہے ہیں کیونکہ جمہوریت پسند لوگ کبھی زبردستی اپنی رائے دوسروں پر مسلط نہیں کرتے اور عوام کی رائے کو اہمیت دیتے ہیں۔ اگر پیپلز پارٹی خود کو جمہوریت کی چیمپیئن سمجھتی ہے تو ان کو آزاد کشمیر کے عوام کی رائے کا بھی احترام کرنا چاہیے ورنہ یہ جمہوریت کے جعلی لبادے اوڑھنے اور جعلی انقلابی بننے کے دعوے کھوکھلے نظر آئیں گے۔ بلاول بھٹو نے ریاست کا مفاد ن لیگ کا مفاد والی بات کر کے خود کو ایکسپوز کیا ہے جس دن یہ بیان دیا اسی رات ہی اپنے بیان سے مکر بھی گئے اگر ہمت تھی تو اپنے بیان پر کھڑے رہتے۔ دن کے وقت گلے پڑتے ہیں اور رات کے وقت پاو¿ں پکڑتے رہے ہیں۔ 18 سال بعد بھی پورے سندھ کی بات تو دور ہے کراچی کی سڑکیں نہیں بنا سکے، پینے کا صاف پانی فراہم نہیں کر سکے، کراچی کا کچرا اٹھانے کا کوئی نظام نہیں ہے، پھر یہ آزاد کشمیر میں کس منہ سے جا کر ووٹ مانگتے ہیں۔ مریم نواز نے دو سال میں پنجاب میں 1500 الیکٹرک بسیں چلا دی ہیں، 30 ہزار کسانوں کو گرین ٹریکٹر تقسیم کر دئیے ہیں، طلبہ میں 27 ہزار الیکٹرک بائک تقسیم کر دی ہیں، طلبا کو ایک لاکھ لیپ ٹاپ اور 80 ہزار سکالرشپ تقسیم کی ہیں، اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کے تحت دو لاکھ گھر دے دئیے ہیں۔ مریم نواز نے 30 ہزار کلومیٹر کی سڑکیں بنا دی ہیں اور کراچی میں آج تک پیپلز پارٹی سات سال سے ییلو لائن مکمل نہیں کر سکی۔ مریم نواز اپنی کارکردگی کی وجہ سے پاکستان بھر میں اپنی پہچان بنا رہی ہے۔ مریم نواز کی طرف سے آزاد کشمیر میں بھیجی گئی الیکٹرک بسوں پر ان کو بہت تکلیف ہے۔ مریم نواز تو پہلے بھی آزاد کشمیر، بلوچستان اور خیبر پختون خوا کے بچوں کو لیپ ٹاپ اور سکالرشپ دے چکی ہیں، اگر ان کے پاس آزاد کشمیر کو کچھ دینے کے لیے نہیں ہے تو ان کو خود ہی اپنی اداو¿ں پر غور کرنا چاہیے۔ پنجاب میں ایئرایمبولنس متعارف کرائی گئی اور کراچی میں سائیکل ایمبولنس متعارف کرائی گئی ہے۔ یہ ہمیں دن رات اپنے ہیلتھ سسٹم کی امپروومنٹ کی باتیں سناتے ہیں مریم نواز نے پورے پنجاب میں سرکاری ہسپتالوں کی ری ویمپنگ کی ہے۔ آج پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں تمام ادویات مفت مل رہی ہیں اور تمام ٹیسٹ ہسپتالوں کے اندر مفت ہو رہے ہیں۔ مریم نواز نے لاہور میں نواز شریف کینسر ہسپتال ایک سال کے عرصے میں بنا دیا ہے اور سرگودھا میں کارڈیالوجی ہسپتال مکمل کر دیا ہے۔ کلینک آن ویلز اور مریم نواز ہیلتھ سینٹر پورے پنجاب میں لوگوں کی خدمت میں مصروف عمل ہے۔ اگر سندھ کے سرکاری ہسپتال اتنے ہی اچھے ہیں تو سندھ کے وزیر اپنا علاج کرانے دبئی کیوں جاتے ہیں؟ ہم صرف پیپلز پارٹی سے ان کی 18 سالہ حکومت کی کارکردگی پوچھتے ہیں تو یہ ہم پہ ذاتی حملے شروع کر دیتے ہیں۔ پیپلز پارٹی وفاق میں ہماری اتحادی جماعت ہے ہم ہماری ان سے کوئی لڑائی نہیں ہے۔ یہ اپنی سیاست کریں ہم اپنی سیاست کر رہے ہیں۔ اگر ان سے پنجاب میں ترقی برداشت نہیں ہوتی تو یہ ان کا پنجاب سے بغض ہے جو کہ بلاول بھٹو اور ان کی پارٹی کے لوگوں کے بیانات میں نظر بھی آ رہا ہے مسلم لیگ ن کا منشور پاکستان اور عوام کی ترقی اور خدمت ہے اس سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔ مسلم لیگ ن کی کارکردگی کی بنیاد پر ہی ہر الیکشن میں عوام مسلم لیگ ن پر اعتماد کا اظہار کرتے ہیں اور یہی ہماری سیاست کا محور ہے۔

ٹیگز: