نئی دہلی: اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے بھارتی حکومت کی خارجہ پالیسی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے، خاص طور پر وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ جے شنکر کے بیانیے کو۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر بھارت کا موقف اب مسترد ہو چکا ہے اور اس کی ناکامیوں کو پوری دنیا نے کھل کر تسلیم کیا ہے۔
راہول گاندھی نے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے بیان پر اعتراض کیا، جس میں انہوں نے دہشت گردی کے خلاف عالمی یکجہتی کا ذکر کیا تھا۔ راہول نے واضح کیا کہ جے شنکر نے یہ نہیں بتایا کہ عالمی سطح پر کسی بھی ملک نے "پہلگام" کے بعد پاکستان کا نام تک نہیں لیا، جس سے بھارت کی سفارتی پوزیشن کمزور ہوئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی متعدد بار بھارت کے موقف کی مخالفت کی ہے اور پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی ہے۔ راہول گاندھی نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کو عالمی سطح پر اب پاکستان کے برابر سمجھا جا رہا ہے، اور مودی سرکار کی پالیسیوں کا دنیا پر منفی اثر پڑا ہے۔
راہول گاندھی نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ اگر مودی سرکار میں جرات ہے تو وہ عالمی سطح پر امریکہ اور ٹرمپ کی باتوں کو چیلنج کرے، مگر حقیقت یہ ہے کہ بھارت کی کمزور اور غیر واضح پالیسی نے اس کے سفارتی تعلقات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔