Wed, September 16, 2026

الوداع محبت، نفرت و منافقت زندہ باد

الوداع محبت، نفرت و منافقت زندہ باد

ایک نہیں، ایک کروڑ نہیں، ان گنت محبتیں معدوم ہوئیں، دم توڑ گئیں اور جی ہاں اکثر نفرت میں بدل گئیں۔ میں یہ محض فطرت کے رشتوں کی بات نہیں لکھ رہا، بلکہ یہ اس بدنام زمانہ محبت کا ذکر ہے جس پر نہ جانے کتنے گیت لکھے گئے کتنی لوک کہانیاں بنیں، کتنی زندگیوں کے رُخ بدل گئے، کتنی معاشرتیں جھوٹی ثابت ہو کر زمین بوس ہو گئیں۔ اس کی وجوہات، سیاق و سباق اور حالات مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے تابع ٹھہریں۔ ایک دن میں سوچ میں ڈوبا اور دل ہی دل میں سوال ابھرا کہ انسان کی خوبصورتی تو تغیر و ارتقا میں ہے کیا فرشتوں میں بھی تغیر ہے؟ نہیں! فرشتوں میں تغیر نہیں۔ انسان میں تغیر و ارتقا ہے یہی اس کی خوبصورتی، ارتقا ہی اس کو باقی مخلوقات سے ممتاز کرتا ہے، اگر ارتقا منفی ہو تو ذلت کی پاتالوں میں بھی اتار دیا کرتا ہے۔ اسی خیال کے تابع میں نے ایک روحانی شخصیت سے ملاقات کے دوران سوال کیا، کیا فرشتوں میں ارتقا یا تغیر ہے؟ وہ پوچھنے لگیں کہ مجھ سے پوچھ رہے ہیں؟ میں نے کہا، جی آپ ہی سے پوچھ رہا ہوں۔ وہ لمحہ بھرکے توقف سے فرمانے لگیں کہ فرشتوں میں تغیر و ارتقا نہیں، انسان میں ارتقا ہے۔ میں نے اُن سے کہا کہ شخص سے شخصیت کا سفر دراصل ارتقا ہے اور شخص سے شخصیت تک کے سفر میں نفرتیں ہم آہنگی اور محبتیں نفرتوں میں بدل جایا کرتی ہیں۔ اس کی وجہ چلتی زندگی میں شخص کی شخصیت کا سامنے آنا ہے۔ آپ اپنے ارد گرد دیکھ لیں، تاریخ کی ورق گردانی کر لیں، کتابوں سے گزریں، معاشرتوں کے سفر پر نکلیں تو آپ کو ایسے واقعات مل ہی جایا کرتے ہیں۔ پہلے پہل کی محبتیں، یاریاں، دوستیاں اور ہم آہنگیاں ممکن ہے اقتدار، مال غنیمت، مال عدم دعویٰ و استحقاق کی خاطر ہوں لیکن میں ورطہ¿ حیرت میں ہوں اگلے روز اخبار میں ایک خبر پڑھی۔ ”شادی ختم مگر الگ زندگی ایک ہی گھر میں، مغرب میں نو اسپلٹ ڈائیورس کا رجحان، مالی مشکلات کی وجہ سے یہ میلان بڑھتا جا رہا ہے، موجودہ اقتصادی حالات میں کئی خاندانوں کیلئے واحد آپشن، بچے و روزمرہ ذمہ داریاں بانٹ کر گزارا کرتے ہیں، 
وکیل جوآنا کا کہنا ہے یہ حل طویل مدت کے لیے مناسب نہیں۔ ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق کیٹ اور کرسچن، جو شمالی یارکشائر کے ہیرگیٹ میں 20 سال سے شادی شدہ ہیں، مالی مشکلات کی وجہ سے اپنے ازدواجی تعلقات ختم ہونے کے باوجود الگ گھر میں نہ جا کر ایک ہی چھت تلے الگ زندگی گزارنے کا انتخاب کر چکے ہیں۔ یہ رجحان، جسے نو اسپلٹ ڈائیورس کہا جاتا ہے، اب برطانیہ میں بڑھ رہا ہے، جہاں سابق شریک حیات محبت ختم ہونے کے بعد بھی مالی دباو¿ اور بڑھتی ہوئی زندگی کی لاگت کے سبب ایک ہی گھر میں رہتے ہیں۔ کیٹ اور کرسچن علیحدہ کمروں میں رہتے ہیں، روزمرہ کی ذمہ داریاں بانٹتے ہیں اور بچوں کی پرورش کے لیے تعاون کرتے ہیں، مگر رسمی طور پر طلاق نہیں لیتے۔ وکیل جوآنا نیوٹن کے مطابق یہ عارضی حل ہے اور طویل مدت کے لیے مناسب نہیں، کیونکہ اس سے تناو¿ اور تنازعات بڑھ سکتے ہیں لیکن موجودہ مہنگائی کے دور میں کئی خاندانوں کے لیے یہ واحد قابل عمل راستہ بنتا جا رہا ہے۔“
 پہلے سنا کرتے تھے کوئی عورت بچوں کی خاطر بد فطرت خاوند کے ساتھ گزارا کر رہی یا کوئی شخص بچوں اور عزت کی خاطر کسی ناموافق مزاج بیوی سے گزارا کر رہا ہے۔ یہ دنیا میں کیا قحط پڑ گیا ایسا قحط کم از کم مجھے تو تاریخ کے اوراق میں نظر نہیں آیا اور نہ ہی مشاہدہ میں کہ زندگی گزارنے کی خاطر ایک گھر میں محبت کے معدوم پڑ جانے، رشتہ ٹوٹ جانے کے بعد کہ سامان زندگی دستیاب نہیں لہٰذا اکٹھے رہ لیتے ہیں۔ بچے بھی نہیں رُلیں گے اور وقت بھی گزر جائے گا لہٰذا ایک دوسرے کو الوداع نہیں کہتے اور محبت کو الوداع کہے دیتے ہیں۔ ویسے بھی دیکھا جائے تو محبت اور احساس کی مثالیں بہت کم ہیں مگر کم ظرفی اور نفرت و منافقت کی مثالیں تو شاید انسانوں سے بھی زیادہ ہیں کیونکہ ایک انسان کے ساتھ ایسی درجنوں مثالیں ہیں، کئی انسانوں کی پوری پوری زندگی ہی ایسی مثالوں اور بے ثباتیوں کی داستانوں سے بھری ہوئی ہو گی۔ مختلف معاشرتوں میں مختلف رویے پائے جاتے ہیں، ہمارے ہاں غیبت اور بد خواہی کا راج ہے جبکہ ترقی یافتہ معاشرتوں میں ان رویوں کا نام و نشان نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ ہمارے ہاں تو حکومتوں کی سطح پر بھی یہی سلسلے ہیں۔ بے شک استثنائی صورتحال ہر معاملے اور موضوع پر ملتی ہے ہمارے ہاں بھی ایسے اوصاف کے مالک لوگ ہیں جو انسانیت کا شاہکار ہیں مگر بہت کم ہیں۔ نفرت کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے ایک سیاسی پارٹی اور اس کے لیڈر کی تو سیاست کی بنیاد ہی نفرت ہے جبکہ دوسری جانب جو پالیسی اپنائی جاتی ہے اس کی بنیاد بھی نفرت، تفاخر، تکبر اور اذیت رسانی ٹھہرتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر کوئی پھولوں کی نمائش کر کے تو نام پیدا نہیں کیے جاتے اسلحہ، عسکریت، قوت اور انسانی قتل عام سے ہی سپر کہلانے کا رواج ہے۔ بے شک سائنسدانوں نے میڈیکل سائنس اور ٹیکنالوجی میں انسانیت کی بہت خدمت کی لیکن ایٹم بم اور ایسی دیگر ایجادات نے تسلط قائم کرنے کے علاوہ کوئی دوسری راہ نہیں دکھائی۔ جوابی طور پر ہمارے جیسے ترقی پذیر ممالک کو بھی اپنے دفاع کے لیے اپنا پیٹ کاٹ کر عسکری قوت بننے پر مجبور کیا گیا۔ سیاق و سباق سے زیادہ بہتر انداز میں نقطہ نظر پیش کیا جا سکے گا۔ ہمارے مذہب، فرقے، سماج، معاشرت میں جو تفریق ہے اس کی بنیاد محبت ہرگز نہیں یہ نفرت ہی ہے جس نے انسانوں میں تقسیم پیدا کی۔ بد نیت، بدطینت لوگ تو اپنے انفرادی ایجنڈے میں انفرادی تعلقات میں بھی سی آئی اے امریکہ کی طرح پوری پلاننگ کرتے ہیں کہ آج ملاقات کرتے کھانا کھاتے ہیں، اس کی کمزوری اللہ اور رسولﷺ کا ذکر ہے تو وہ بات کر لی، اگر فلم ہے تو وہ بات کر دی۔ اگر خرافات میں سے کچھ ہے تو وہ سپلائی دے دی اور کسی کی مخالفت کر کے اُس کی قوت کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کی۔ سپاہی سے لے کر ٹاپ تک، جس کا نام لیں اس سے کام نکال لیا کہ یہ کرا دیں اور فلاں کا یہ کام خراب کر دیں۔ خاندانوں میں باہمی تعلقات، دوستی کی بنیاد، یہاں تک کہ ممالک کے تعلقات محکمہ جاتی رویے سوائے چند استثنا کے۔ سب کی بنیاد نفرت اور منافقت ہے جو شاید ہابیل اور قابیل سے شروع ہوئی تھی۔ یہ محبت کا پیغام تو اللہ نے دیا پیغمبروں کے ذریعے، اپنے نیک بندوں کے ذریعے مگر صد افسوس کہ اس کو بھی لوگوں نے کاروبار بنا لیا۔ بجائے اندازِ زندگی طرزِ بندگی بنانے کے، لہٰذا حقیقت میں الوداع محبت الوداع اور نفرت و منافقت زندہ باد تو نہیں؟۔

ٹیگز: