14اگست 1947ء سے قبل متحدہ ہندوستان کی فوج میں مسلمان ، ہندو اور سکھ بھی شامل تھے۔ تقسیم ہند کے وقت جب افواج کی تقسیم کا عمل آیا توفوجی اہلکاروں کو یہ آزادی دی گئی کہ وہ اپنی مرضی سے پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک ملک کا انتخاب کر لیں۔ زیادہ تر مسلمان فوجیوں نے پاکستان کی فوج میں شمولیت کا فیصلہ کیا جبکہ ہندو اور سکھ اہلکاروں کی اکثریت بھارت میں شامل ہو گئی۔ اس طرح تقریباً 140,000 مسلمان فوجی پاکستان اور 260,000 ہندو اور سکھ فوجی بھارت کا حصہ بنے۔ اس وقت اسلحے کی تقسیم ایک پیچیدہ عمل تھا کیونکہ تمام اسلحہ ساز فیکٹریاں اور بڑے ڈپو بھارت میں تھے، جس سے پاکستان کو شروع میں افرادی قوت تو ملی لیکن اسلحے اور سازوسامان کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑا، اور یہ سب کچھ انگریزوں اور ہندوئوں کی ملی بھگت سے ایک منصوبہ کے تحت کیا گیا۔ قیام پاکستان کے ساتھ ہی پاک فوج کا ادارہ وجود میں آیا اور ملکی سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری اس کا فرض اولین قرار پائی۔ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح مسلمانان برصغیر کے صحیح معنوں میں نجات دہندہ تھے۔ قائداعظم کی شخصیت میں جہاں حق گوئی ‘راست بازی اور بے باکی جیسی بہت سی اعلیٰ صفات موجود تھیں‘وہاں عمدہ ترین قائدانہ تدبر اور فراست کی موجودگی بھی کسی معجزے سے کم نہ تھی ۔قائداعظم کے بصیرت افروز ذہن نے یہ بھانپ لیا تھا کہ ملکی دفاع مضبوط کیے بغیر کوئی بھی قوم ترقی کی شاہراہ پر گامزن نہیں ہو سکتی اور یہی وجہ تھی کہ انہوں نے ایسا پاکستان لینے سے انکار کر دیا تھا کہ جس میں فوج نہ ہو۔ برطانوی حکمران تقسیم ہند کے وقت فوج کو تقسیم نہیں کرنا چاہتے تھے مگر قائداعظم کے آہنی عزم کے سامنے کانگریس کی سازش اور انگریز کی خواہش دم توڑ گئی۔ فوج کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے قائداعظم نے پاکستان میں کاکول ملٹری اکیڈمی قائم کرائی جس میں 26جنوری 1948ء کو پہلے کورس کا آغاز ہوا۔ 23 جنوری 1948ء کو کراچی میں بحریہ کے جہاز دلاور کے افتتاح کے موقع پر خطاب میں قائد نے کہا ’’آپ اپنی تعداد کم ہونے پر نہ جایئے اس کمی کو آپ کو اپنی ہمت و استقلال اور بے لوث فرض شناسی سے پورا کرنا پڑے گا کیونکہ اصل چیز زندگی نہیں ہے بلکہ ہمت‘ صبر و تحمل اور عزم صمیم ہیں جو زندگی کو بنا دیتے ہیں۔ پاکستان کے دفاع کو مضبوط سے مضبوط بنانے میں آپ میں سے ہر ایک کو اپنی جگہ انتہائی اہم کردار ادا کرنا ہے۔ اس لیے آپ کا یہ نعرہ ہونا چاہئے‘ ایمان‘ تنظیم اور ایثار‘‘۔
پاکستان اور پاک فوج لازم وملزوم ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ پاک فوج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے۔ پاکستانی فوج کا ہر افسر اور جوان وطن عزیز کی حفاظت کیلئے مرمٹنے کا جذبہ اپنے دل میں لے کر پاک فوج میں شامل ہوتا ہے۔ پاک فوج کی عزم و ہمت اور جرأت و بہادری کی ساری دنیا معترف ہے۔ قیام پاکستان کے بعد بھارت کا خیال تھا کہ خالی ہاتھ پاکستانی قوم کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ تاہم بے سروسامانی کے باوجود پاک فوج نے تدبر‘ ہمت اور مجاہدانہ جذبے سے نہ صرف خود کو سنبھالا بلکہ پاکستان کیلئے ہجرت کرنے والے قافلوں کو بھی بحفاظت پاکستان پہنچایا اور انہیں یہاں آباد کیا۔ پاک فوج خراج تحسین کی مستحق ہے جس نے مسلم مہاجرین کو خطرے کے علاقوں سے بحفاظت نکال کر سلامتی کے ساتھ پاکستان پہنچانے کا اہم انسانی فریضہ انجام دیا۔ پاک فوج کا ایک بڑا کارنامہ یہ بھی تھا کہ پاکستان سے سکھوں اور ہندوئوں کے قافلوں کو بحفاظت بھارت بھی پہنچایا۔ پاک فوج کی ان خدمات کا اعتراف بھارتی میڈیا نے بھی کیا۔
قیام پاکستان سے لے کر آج تک پاک فوج کی کارکردگی بے مثال رہی ہے۔ہماری ملی تاریخ پاک فوج کے شاندار کارناموں سے بھی پڑی ہے جس پر پوری قوم کو بجا طور پر فخر ہے۔ آج پاکستانی فوج کے پاس ایٹم بم ہے‘ دنیا کا جدید ترین اسلحہ اور اسلحہ ساز فیکٹریاں ہیں‘ ناقابل تسخیر نیوی اور لاجواب فضائیہ ہے۔ ملک میں کوئی قدرتی آفت آجائے پاک فوج کے جوان امدادی کاموں میں سب سے آگے نظر آتے ہیں۔ ملک میں انتخابات ہوں یا کوئی آگاہی مہم‘ پاک فوج کے جوان ہر جگہ صف اول میں نظر آتے ہیں۔ ملک سے دہشت گردی کے عفریت کو کچلنے کے لیے پاک فوج تاریخی کردار ادا کر رہی ہے۔ آپریشن ضرب عضب ، آپریشن ردالفساد اور آپریشن عزم استحکام کے ذریعے ہماری افواج نے قربانیوں کی نئی تاریخ رقم کی ہے اور انہی قربانیوں کی بدولت ہمارا ملک امن و آشتی کا گہوارہ بن رہا ہے۔ حال ہی میں پاکستان کی بہادر افواج نے معرکۂ حق کے دوران بھارت کو جو منہ توڑ جواب دیا وہ ہماری تاریخ کا روشن باب ہے۔ 6اور7مئی کی درمیانی شب بھارت نے پاکستان کی شہری آبادی کو نشانہ بنایا اور نہتے و بے گناہ پاکستانیوں کو شہید کیا تو 10مئی کی صبح نماز فجر کی اذان کے بعد پاکستانی فضا بھی نعرۂ تکبیر سے گونج اٹھی اور پاکستانی فوج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ’’ آپریشن بنیان مرصوص‘‘ کے تحت بھارت کے 26مختلف مقامات پر موجود ان فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جہاں سے پاک سرزمین پر حملہ کیا گیا تھا۔اس دوران بھارت کے کئی جنگی طیارے مار گرائے جس میں جدید ٹیکنالوجی کے حامل رافیل طیارے بھی شامل تھے جن پر بھارت کو بڑا ناز تھا۔اس بھرپور جوابی و ار سے بھارت بوکھلا گیا اور عالمی قوتوںکو ثالثی کیلئے کہہ کر یہ جنگ بند کرائی۔ اس تاریخی فتح سے پوری دنیا میں پاک فوج کی دھاک ایک بار پھر بیٹھ گئی اور دنیا نے ہمیں ایک فاتح تسلیم کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار طیارے گرائے جانے کی بات کر چکے ہیں۔ پاکستانی شاہینوں نے چند گھنٹوں میں نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا کے عسکری اور سفارتی توازن کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ ایک ایسا عسکری انقلاب تھا جس نے آنے والی دہائیوں کی سمت اور پوری دنیا میں پاکستان کی صلاحیتوں سے طاقت کے توازن کی نئی سمت طے کردی۔ آج اگر کوئی دشمن کے ایجنڈا پر عمل پیرا ہوکرپاک فوج کیخلاف پروپیگنڈا کرتا ہے تو ہمیں نہ صرف اسے بے نقاب کرنا بلکہ اس کا مقابلہ بھی کرنا ہے۔ پاک فوج کی شاندار خدمات پر پاک فوج کے ہر افسر اور جوان کو پوری قوم کا سلام۔ پاک فوج زندہ باد‘ پاکستان پائندہ باد ۔