واشنگٹن: خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے مہلک ترین ہائپرسونک میزائل سسٹم 'ڈارک ایگل' کی تنصیب کے لیے حکمتِ عملی تیار کر لی ہے۔ یہ تجویز ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کی جانب سے اپنی میزائل تنصیبات کو محفوظ اور دور دراز مقامات پر منتقل کرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
'ڈارک ایگل' محض ایک میزائل نہیں بلکہ ایک جدید ترین دفاعی ڈھال ہے جو 1,700 میل کی مسافت تک بجلی کی سی تیزی سے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی رفتار اور "مینوور ایبلٹی" (دورانِ پرواز سمت بدلنا) ہے، جو اسے دنیا کے کسی بھی جدید ترین ریڈار سسٹم کی گرفت میں آنے سے بچاتی ہے۔
دفاعی حلقوں کا ماننا ہے کہ امریکا اس وقت ہائپرسونک ہتھیاروں کی عالمی دوڑ میں روس اور چین کے مدِ مقابل ہے، جو پہلے ہی اس ٹیکنالوجی میں پیش رفت کر چکے ہیں۔ ڈارک ایگل کی تعیناتی کی صورت میں امریکا پہلی بار ہائپرسونک ٹیکنالوجی کا عملی میدان میں تجربہ کرے گا۔
ایران کے وہ میزائل لانچرز جو 300 میل سے زائد رینج رکھتے ہیں، اب براہِ راست امریکی نشانے پر ہوں گے۔روایتی میزائلوں کی جگہ یہ نیا سسٹم سیکنڈوں میں جوابی کارروائی کی صلاحیت فراہم کرے گا۔
جہاں ایک طرف اس سسٹم کی افادیت پر بحث جاری ہے، وہاں اس کے مالیاتی حجم نے بھی سب کو حیران کر دیا ہے۔ ایک مکمل بیٹری سسٹم کی قیمت اربوں ڈالرز میں ہونے کے باعث اسے امریکی تاریخ کے مہنگے ترین دفاعی منصوبوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ پینٹاگون اور امریکی فوج نے تاحال اس حساس معاملے پر میڈیا کو باضابطہ بیان دینے سے گریز کیا ہے، تاہم ماہرین اسے خطے میں ایک نئی سرد جنگ کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔