Wed, September 16, 2026

ایران کا ڈیاگو گارسیا پر میزائل حملہ: 4 ہزار کلومیٹر دور امریکی و برطانوی سٹریٹجک بیس نشانے پر

ایران کا ڈیاگو گارسیا پر میزائل حملہ: 4 ہزار کلومیٹر دور امریکی و برطانوی سٹریٹجک بیس نشانے پر

تہران/واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے اس وقت ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کر لیا جب ایران کی جانب سے بحرِ ہند کے وسط میں واقع امریکہ اور برطانیہ کے کلیدی فوجی اڈے 'ڈیاگو گارسیا' کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملہ دفاعی ماہرین کے لیے اس لیے بھی غیر متوقع ہے کیونکہ یہ اڈہ ایرانی سرحدوں سے تقریباً 4000 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے، جسے اب تک ایرانی رسائی سے باہر تصور کیا جاتا تھا۔
ذرائع کے مطابق ایران نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے دو بیلسٹک میزائل فائر کیے۔    پہلا میزائل تکنیکی خرابی کے باعث اپنے ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی فضا میں ناکام ہو گیا۔    دوسرا میزائل امریکی بحریہ کے جدید دفاعی نظام (Aegis) نے دوسرے میزائل کو فضا میں ہی روکنے (Intercept) کی کوشش کی۔ ابھی تک کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی ہے، تاہم اڈے پر ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔
اس حملے کو محض ایک فوجی کارروائی کے بجائے ایران کی جانب سے ایک 'تزویراتی طاقت کا مظاہرہ' قرار دیا جا رہا ہے۔ 4000 کلومیٹر دور ہدف کو نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران کی میزائل ٹیکنالوجی سابقہ اندازوں سے کہیں زیادہ جدید اور طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس حملے نے بحرِ ہند میں موجود مغربی اتحاد کے محفوظ ترین سمجھے جانے والے ٹھکانوں کی سیکیورٹی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے جنگ کا دائرہ کار وسیع ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے اس حملے کا سخت جواب متوقع ہے، جس کے نتیجے میں عالمی بحری تجارتی راستے اور تیل کی سپلائی لائنز متاثر ہو سکتی ہیں۔ بین الاقوامی برادری اس صورتحال کو گہری تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔

ٹیگز: