Wed, September 16, 2026

نئی امریکی جنگ تیار ہو چکی

نئی امریکی جنگ تیار ہو چکی

اقوام متحدہ کا حالیہ اجلاس بلامبالغہ کئی اعتبار سے اہم تھا۔ یہ ایسے دور میں ہوا جب دنیا میں دو جنگیں جاری تھیں۔ ایک طرف فلسطینی مسلمانوں کے خون سے ہولی جاری تھی جس میں امریکہ بظاہر جنگ بند کرنے کی دھائی دیتا رہا لیکن درپردہ اس نے یہ جنگ جاری رکھنے کے لئے اسرائیل کی ہر طرح کی امداد جاری رکھی۔ منظر وہی تھا جو ہم عام زندگی میں اپنے آس پاس اکثر دیکھتے ہیں۔ دو افراد کے درمیان لڑائی شروع ہوتی ہے۔ دونوں کو چھڑانے کے لئے کچھ لوگ آگے بڑھ کر ایک شخص کے ہاتھ پکڑ لیتے ہیں جبکہ دوسرے کو مسلسل حملوں کی آزادی مل جاتی ہے۔ فلسطین میں ایسا ہی دو برس تک دیکھنے میں آیا۔
دوسری جنگ روس اور یوکرین میں جاری تھی جہاں امریکہ کے ایما پر کچھ غیر علاقائی طاقتوں کو روس کے سر پر لا کر بٹھا دیا گیا تاکہ روس پر نظر رکھی جا سکے۔ روسی سرحدوں پر یہ فوجی اجتماع جنگ کا سبب بنا۔ اس جنگ کے لئے بھی دکھاوے کی امریکی پالیسی کچھ اور تھی جبکہ حقیقی پالیسی کچھ اور رہی۔ یورپ و امریکہ کے ایما اور امداد پر یہ جنگ طول کھینچتی گئی۔ اس میں ذرائع سے حاصل اعداد و شمار کے مطابق اب تک مجموعی طور پر قریباً تین لاکھ افراد ہلاک اور اتنے ہی شدید ہو چکے ہیں۔ اس جنگ کے نتیجے میں یوکرین اپنے اہم علاقوں سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے لیکن اس جنگ کے پس پردہ فریق مطمئن ہیں۔ اقوام متحدہ کے حالیہ اجلاس کے بعد امریکہ کی طر ف سے یوکرین کو پیغام بھیجا گیا ہے کہ اسے ضرورت کے مطابق اسلحہ ملتا رہے گا۔ وہ جنگ جاری رکھے۔ یوں دونوں جنگیں بند ہونے کا فوری امکان اب خارج از امکان ہوا۔
جنگیں بند کرانے کا نعرہ لگانے والے صدر امریکہ کی کچھ ایسی سرگرمیاں رپورٹ ہوئی ہیں جن سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ خطے میں اور خصوصاً ایشیا میں پاکستان کے سرہانے ایک نئی جنگ چھیڑنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ اس حوالے سے امریکی فوجی کمانڈروں کا بلایا گیا اجلاس جو نہایت اہم ہے اس میں دنیا بھر میں قریباً اسی کے قریب مختلف کمانڈرز شریک ہوئے جو دنیا کے مختلف حصوں میں قائم امریکہ کے فوجی اڈوں کی کمانڈ سے منسلک ہیں۔ فوجی کمانڈروں کے اس قسم کے اجلاس بلانے کی روایت موجود نہیں۔ اس قسم کے اجلاسوں سے امریکی صدر خطاب نہیں کرتے، نہ ہی ان کی ملاقات ان کمانڈروں سے کرائی جاتی ہے۔ امریکہ کے قومی دن کے موقع پر بھی دنیا بھر میں پھیلی 
ہوئی مختلف کمانڈز کے کمانڈر اس پریڈ میں شرکت نہیں کرتے۔ ان کمانڈرز کو جو بھی احکامات بھجوانے مقصود ہوتے وہ امریکی فوجی ہیڈکوارٹرز پینٹاگون یا مرکزی کمانڈ کی طرف سے جاری کئے جاتے ہیں۔
فوجی کمانڈرز کے اجلاس اور امریکی صدر سے ملاقات کے حوالے سے کسی بھی ذریعے سے ملنے والی معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن خطے کی صورتحال اور امریکی صدر کی مختلف موقعوں پر کی گئی گفتگو سے ان کی منصوبہ بندی اور عزائم کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ امریکہ اپنے دیرینہ حلیف بھارت سے فاصلہ اختیار کرتے ہوئے پاکستان کی طرف دوڑتا چلا آیا اور اس نے پاکستان کو یوں گلے لگایا جیسے ہیر اور رانجھا ہوں۔ اس دوران امریکہ ، بھارت میں مسلسل کیڑے نکالتا رہا اور پاکستان کو مسلسل احساس دلاتا رہا کہ اسے پاکستان سے زیادہ کبھی کوئی عزیز رہا ہی نہیں اور وہ ماضی کی طرح آج بھی اس کے عشق میں گرفتار ہے۔ دوسری طرف امریکہ نے افغانستان سے مطالبہ کر دیا کہ افغانستان میں موجود بگرام کا فوجی اڈہ اس کے حوالے کر دیا جائے تو بہتر ہے ورنہ اس حوالے سے امریکہ طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ افغانستان حکومت کی طرف سے منہ توڑ جواب کے بعد امریکی صدر اور امریکی کمانڈرز کے ایک چھت تلے اکٹھے ہونے پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔ گمان ہے امریکی صدر نے اس اجلاس میں اپنے کمانڈرز کو ڈھکے چھپے الفاظ میں جو پیغام دیا ہے، وہ کچھ یوں ہو سکتا ہے۔ امریکہ آپ کی خدمات اور اس کے لئے دی گئی قربانیوں کو فخر کی نظر سے دیکھتا ہے۔ آپ نے ہر زمانے میں امریکی مفادات کا بہترین انداز میں تحفظ کیا ہے۔ آئندہ بھی آپ سے ایسی ہی امیدیں وابستہ ہیں۔ اپنے آپ کو ایک اہم اور بڑے معرکے کے لئے تیار رکھیں۔ بیس پچیس برس امریکی فوج میں نوکری کر کے کمانڈر کے عہدے پر پہنچنے والا فوجی اس قسم کی گفتگو کا مطلب بخوبی سمجھتا ہے اور یقین کر لیتا ہے کہ ایسے خطابات اس 
وقت کئے جاتے ہیں جب کہیں بھی حملے کا حتمی پلان تیار ہو جاتا ہے۔ مقرر کردہ ہدف کو حاصل کرنے کے لئے ذمہ داری جس کمانڈ کو دی جاتی ہے اس کے علاوہ بعض اور کمانڈز کو ممکنہ ردعمل سے نپٹنے کے لئے تیار رکھا جاتا ہے پس اندازہ کیا جا سکتا کہ مختلف امریکی کمانڈرز کو طلب کر کے صدر امریکہ نے کیا پیغام دیا ہو گا۔
بگرام کا فوجی اڈہ اس وقت چینی فوج کے زیر تصرف ہے۔ امریکی صدر اس حوالے سے چین کو بھی حملے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ دوسری طرف چین ایسی دھمکیوں کا جواب دینے سے پہلے اپنی فوجی تیاری اور حکمت عملی کو حتمی شکل دے دیتا ہے پھر اس حوالے سے ردعمل کا اظہار کرتا ہے۔
چین نے اس دھمکی کے پس منظر میں اہم مذاکرات کیلئے افغان وزیر دفاع کو چند روز قبل ہنگامی طور پر چین طلب کیا ہے جہاں ممکنہ امریکی حملے کی صورت میں جوابی کارروائی کے مختلف پہلوئوں پر غور کیا گیا ہے۔
امریکہ بگرام کے فوجی اڈے پر چند ہزار کمانڈوز اتارنے، اپنے جہازوں کے ذریعے فضائی حملے اور میزائل حملے کر سکتا ہے۔ فضائی حملے خطے میں پہلے سے موجود مختلف فوجی اڈوں سے اڑنے والے اس کے جہاز کریں گے جو مختلف مسلمان یا غیرجانبدار ملکوں کی فضائی حدود کی خلاف ورزی بھی کر سکتے ہیں۔ گزشتہ چند ماہ میں ہونے والی امریکی اور اسرائیل مشترکہ کارروائیاں سے اس بات کو نظرانداز کرنا مشکل نہیں ہے کہ آئندہ ہونے والی ایڈونچر میں بھی امریکہ اور اسرائیل اکٹھے ہوں گے۔
بھارت ماضی میں امریکہ کا حلیف رہ چکا ہے اور آج بھی امریکہ کی قربت کا خواہش مند ہے۔ ایران کی طرف سے امریکہ کو کوئی مدد نہیں مل سکتی۔ ترکی کو امریکہ کسی کھاتے میں نہیں لکھتا یہی معاملہ دیگر اسلامی ملکوں کا ہے لیکن پاکستان کے نیوکلیئر طاقت ہونے کی وجہ نہیں بلکہ افغانستان کے قریب ترین ہمسائے ہونے کی وجہ سے وہ پاکستان کی طرف سے غافل نہیں رہ سکتا۔ ماضی میں پاکستان نے دو اہم جنگوںمیں امریکہ کی معاونت کی مگر اس کا پھل حاصل نہ کر سکا۔ آج امریکہ ایک مرتبہ پھر افغانستان پر حملہ آور ہونے کا سوچ رہا ہے اور جانتا ہے کہ اس مرتبہ اس کا مقابلہ چینی فوج اور چینی ٹیکنالوجی سے بھی ہو گا جس نے امریکی اور یورپی ٹیکنالوجی کو شکست سے دوچار کیا ہے تو ایسے میں وہ پاکستان کے ساتھ کوئی نہ کوئی ڈیل ضرور کرنا چاہے گا۔ عین ممکن ہے پاکستان اور امریکہ میں پروان چڑھنے والے اس ’’نیو لو افیئر‘‘ میں تمام معاملات طے پا چکے ہوں جن کی بھنک ابھی کسی کو نہیں پڑی۔ یاد رہے ہمیں ہمیشہ کی طرح امریکی محبت کی قیمت چکانا پڑے گی۔ نئی امریکی جنگ تیار ہو چکی ہے۔

ٹیگز: