Wed, September 16, 2026

بے بال و پر کو پر ملے

بے بال و پر کو پر ملے

 نعت ایسے موضوع پر لکھنا، بولنا اور یہاں تک کہ سوچنا ایک سرمایہِ سعادت ہے۔ اس کارِ گراں مایہ میں شامل ہونا دراصل خود کو مقصدِ تخلیقِ کائنات سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ ڈاکٹر مسعود اقبال ساجد کی کتاب ”اسماءالمحسنیٰ“ جو اسماءالنبی کی منظوم تشریح ہے، اس پر لکھنا اور بولنا ڈاکٹر صاحب پر کوئی احسان نہیں، اگر یہ احسان ہے تو اس رب پر ”احسان“ ہے جس نے ہم پر ایک احسان جتلایا ہے: ”بیشک اللہ نے ایمان والوں پر بڑا احسان فرمایا جب ان میں ایک رسول مَبعوث فرمایا ”پھر اس نے یہ بھی تو کہا ہے .... ’احسان کا بدلہ احسان کے سوا کیا ہو سکتا ہے‘۔ یہاں بھی پلڑا اسی کا بھاری رہا .... انسان اسی کے احسان کا زیر بار رہا کہ اس نے توفیق دی تو نعت کہی گئی، اس کا اذن شامل حال ہوا تو اس کے محبوب کی توصیف میں خیال میں جنبش ہوئی، دل مضطرب ہوا اور قلم متحرک ہوا۔ جہاں ربِ رحمان نے احسان کی بات کی تو وہاں سورة رحمان کی اگلی آیت میں کہا: .... ’اور تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمت جھٹلاو¿ گے‘۔ ایسے لگا جیسے ”ان دونوں“ میں نعت کہنے والا اور سننے والا دونوں شامل ہیں۔ نعت کے مضمون میں فکر کا گم ہونا، فکر کو گہربار کرتا ہے۔ نعت میں قلم کا اٹھنا کارگہِ کُن میں کارگر ہونا ہے۔ ہم اللہ کے محبوب کی ذاتِ والا صفات پر درود وسلام بھیج کر خود کو اس کارِ عظیم میں شامل کرتے ہیں جس میں اللہ اور اس کے فرشتے ہمہ حال شامل ہیں .... ’بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! ان پر درود اور خوب سلام بھیجو‘۔ میں ڈاکٹر ایوب ندیم صاحب کی اس بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں کہ سلام سے مراد نعت ہے۔
نعت کو محض ایک صنفِ سخن کے طور پر ہی نہیں لینا چاہیے۔ غزل، نظم اور دیگر اصنافِ سخن کسی حد تک کاریگری بھی ہو سکتی ہیں، لیکن نعت کہنا ”کاریگری“ نہیں یہ عطا ہے، اذن ہے، فضل ہے، مالک الملک کی خاص مہربانی ہے۔یہاں اوزان، بحور، ردیف اور پھر واول اور کونسونینٹ سے زیادہ جذبہ اور تعلق اہم ہوتے ہیں۔ معلوم نہیں، نعت ایسا مقدس گلدستہِ محبت قابلِ تجزیہ ہے بھی یا نہیں .... نعت لفظ سے زیادہ جذبہ ہے اور جذبہ اپنے اظہار کے بعد قابلِ تقسیم تو ہو سکتا ہے، قابلِ تجزیہ نہیں۔ ہمیں ناعت کے دل میں موجزن اس جذبے کی بیکرانی کی طرف بھی متوجہ ہونا ہے .... نعت کہنے والے امتی کے اس تعلق پر بھی غور و خوض کرنا ہے جس تعلق نے اس کے جذبات کو لفظوں کا آہنگ عطا کیا ہے .... ہمیں اس خیال پر بھی گہرے تفکر کی ضرورت ہوتی ہے جس نے کاغذی پیرہن پہن رکھا ہے۔ محض لفظوں کی کاریگری تو بازی گری ہوتی ہے۔ نعت گو شاعر کی حوصلہ افزائی کے لیے اس خیال کی پذیرائی از حد ضروری ہے، جس سے تمسک نے اسے ناعت بنایا ہے۔ لفظ کا لفظ سے ٹکراو¿ شور پیدا کرتا ہے، خیال خیال کے جلو میں چلے تو جلترنگ بجتا ہے۔ بس اسی جلترنگ کے مشتاق گوش، بے نیازِ ہوش، ایسی تقریبات کے بلاوے میں کھچے چلے آتے ہیں۔ نعت کے باب میں مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کا ایک پنجابی شعر بہت حوصلہ افزائی کرتا ہے:
جتھے نعت نبی دی ہووے، اوتھے اس دا جلوہ
چھوٹی وڈی نعت نہ ہندی، پیش کرو جو سَر دا
آج کی تقریب میں اگرچہ ناعت ممدوحِ محفل ہے، لیکن اس وقت ہم اپنے ممدوح کے ممدوح، بلکہ ممدوحِ دو عالم کی بات کریں گے۔ ان کی کتاب پر میں لکھ چکا ہوں اور وہ مضمون تبصرات میں بھی شامل ہے۔
معزز حاضرین و سامعین! انسان نے جب سے شعور کے اس زاویے میں قدم رکھا ہے جو ورائے زمان و مکان امکانات پر غور خوض کرتا ہے، دو موضوعات اس کے افقِ شعور پر چھائے رہے: ایک یہ اس کائنات کی تخلیق کا مقصد کیا ہے؟ دوسرا یہ کہ خود اس کی تخلیق کا مقصد کیا ہے؟ اسلام چونکہ دینِ فطرت ہے، تفکر و تدبر کی خود دعوت دیتا ہے۔ اس لیے ہر فطری شعور میں پیدا ہونے والے سوال کا جواب یہاں موجود ہے، شرط تلاش کرنے کی ہے .... شرط خود سے خود کو جدا کرنے کی ہے .... یعنی خود کو اپنے مفاد اور مزاج سے جدا کرنے کی۔
قرآنِ کریم میں ارشاد ہے: ’ہم نے جنوں اور انسانوں کو فقط اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے‘۔ اب اگر عبادت پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ عبادت کی غرض و غایت قربِ الٰہی ہے۔ قرب جسمانی اور و جغرافیائی نہیں ہوتا، بلکہ روحانی اور معنوی ہوتا ہے۔ قرب بقدرِ معرفت ہوتا ہے اور معرفت بقدرِ محبت۔ تعریف کے لیے ضروری ہے کہ ممدوح کو محبت کی آنکھ سے دیکھا جائے۔ معتبر تعریف وہی ہے جو تعلق والا کرے، اس لیے معتبر ترین تعریف صرف محبت کی زبان ہی سے ادا ہو سکتی ہے۔ محرومِ محبت تجزیہ اور تنقید کے جھنجھٹ میں پڑ جاتا ہے۔ محبت تجزیہ نہیں کرتی .... محبت تسویہ کرتی ہے .... یہ خیال کا بھی تسویہ کرتی ہے اور لفظ کی بھی صورت گر یہی ہے! تعجب نہیں کہ بچہ جب لفظ سیکھتا ہے تو سب سے اپنی ماں کو مخاطب کرنے والا لفظ سیکھتا ہے۔ القصہ! عبادت کی غایت معرفت ہے۔ صاحبِ کشف المحجوب سیدِ ہجویرؒ اس آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں ”الا لیعبدون“ سے مراد ”الا لیعرفون“ ہے۔ باب العلم سیدنا علی المرتضیٰؓ کا قول ہے: ”انسان کو وہ عبادت کوئی فائدہ نہیں دیتی جو اس کی معرفت میں اضافہ نہیں کرتی“۔ گویا مقصدِ عبادت معرفت ہے۔ ایک حدیثِ قدسی بھی اس باب میں معاون ہے۔ یہاں خالقِ کائنات واحد متکلم کے صیغے میں خلق کو مقصدِ تخلیق کے متعلق براہِ راست بتا رہا ہے: ”میں ایک مخفی خزانہ تھا، میں نے چاہا کہ پہچانا جاو¿ں، سو میں نے خلق کو تخلیق کیا“۔ یہاں خلق سے مراد کائنات و مافہیھا ہے۔ جنہیں اس مخفی خزانے تک رسائی حاصل ہوئی، انہوں نے اسے مخفی نہ رہنے دیا، بلکہ کھول کھول کر بیان کیا، تقسیم کیا۔ ایسے ہی خزانے کو تقسیم کرنے والے امام العارفین ”گنج بخش“ کہلائے۔ اب ایک اور حدیثِ پاک کی طرف توجہ مبذول کیجئے: .... ’اللہ نے سب سے پہلے میرے نور کو پیدا کیا“ اب بات واضح ہو گئی .... مخلوقِ خدا جب بھی معرفتِ خدا کی تلاش میں نکلی، مخلوقِ اوّل یعنی نورِ مصطفیٰ تک پہنچی۔ نورِ خدا اپنے محبوب کی ذات میں جلوہ گر ہے .... وگرنہ وہ ذات تو مکینِ لامکاں ہے، جہاں زمان و مکاں کے باسیوں کی رسائی ممکن نہیں۔ معراجِ مصطفیٰ اس امر کا اظہار ہے کہ حریمِ کبریا میں اگر کسی ذات کی رسائی ہے تو وہ فقط ذاتِ حبیبِ کبریا ہے۔ اب مخلوقِ خدا کے لیے صراطِ مستقیم یہی ہے کہ حبیبِ خدا کے نقوشِ پا کو پا لے اور اتباعِ کردارِ محمدی میں قدم قدم چلتا جائے .... تا آن کہ خود خدا ایسے بندے سے محبت کرنے لگے۔ آیتِ قرآن گواہ ہے: آپ ان سے کہہ دیں: ”اگر تم اللہ سے محبت کرنا چاہتے تو میرا اتباع کرو، اللہ خود تم سے محبت کرے گا“۔ اللہ خالق کل شئی .... اللہ ہر شے کا خالق ہے۔ لفظ بھی شے ہے .... الفاظ کے خالق نے یہاں اطاعت کی جگہ اتباع کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اطاعت بغیر محبت کے بھی ممکن ہو جاتی ہے، جزا و سزا کے ڈر سے بھی پیدا کی جا سکتی ہے۔ اتباع خالصتاً بالمحبت ہوتی ہے، کیونکہ اتباع دراصل اتباعِ کردار ہے۔ اتباع کی صورت ہی میں اس آیت پر بھی عمل ممکن ہو سکے گا: .... اللہ کا رنگ اختیار کرو، اللہ سے بہتر کس کا رنگ ہو سکتا ہے‘۔ اللہ تو نظر نہیں آتا ہے، اس کا رنگ کیسے نظر آئے گا۔ خوگرِ پیکرِ محسوس انسان کی نظر کو اللہ نے اپنا حبیب عطا کیا، تا کہ اس کے رنگِ کردار میں ڈھلنا مخلوق کے لیے ممکن ہو سکے .... اور اسی کو اپنا سب سے بڑا احسان کہہ کر حضرتِ انسان کو جتلا دیا۔
کشف المحجوب میں ایک انتہائی قابلِ غور نکتہ درج .... مفہوم کچھ یوں ہے کہ مقامِ انسانیت کا تذکرہ کرتے کرتے انسان مقامِ انسانیت تک پہنچ جاتا ہے۔ یہاں مدعا تمام ہوا۔ معراجِ مقامِ انسانیت انسانِ کامل ہیں .... اور ان کا تذکرہ ہی اس مقام تک رسائی کے باب میں رہنمائی کرتا ہے۔ مدحتِ مصطفیٰ راہِ عرفانِ مصطفیٰ ہے اور عرفانِ مصطفیٰ عرفانِ خدا ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کا ایک نعتیہ شعر سماعت فرمائیں:
خاک کو رفعت ملے، بے بال و پر کو پر ملے
نعتِ پیمبر سے جب عرفانِ پیمبر ملے
(ڈاکٹر مسعود اقبال ساجد کی کتاب ”اسماءالمحسنیٰ“ کی تقریبِ پذیرائی میں اظہارِ خیال)

ٹیگز: