ممبئی : ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے پانچویں میچ میں نیپال نے اپنی زبردست کارکردگی سے ثابت کر دیا کہ وہ کسی بھی بڑی ٹیم کو اپ سیٹ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ دفاعی چیمپئن انگلینڈ نے نیپال کو ایک ایسے مقابلے کے بعد شکست دی جس کا فیصلہ آخری گیند تک نہ ہو سکا۔
انگلینڈ نے پہلے کھیلتے ہوئے 184 رنز کا مستحکم مجموعہ ترتیب دیا، مگر نیپالی بلے بازوں نے وانکھیڑے کی بیٹنگ وکٹ پر کسی خوف کے بغیر جواب دیا۔ پاور پلے کا بھرپور فائدہ: نیپال نے ہدف کے تعاقب میں تیز رفتار آغاز کیا۔
روہت پاؤڈیل اور دیپیندر سنگھ آئری نے 82 رنز جوڑ کر انگلینڈ کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ انہوں نے انگلش سپن اٹیک، بالخصوص عادل رشید کو آڑے ہاتھوں لیا۔
میچ کے آخری لمحات میں انگلینڈ کا تجربہ کام آیا۔ سیم کرن کی نپی تلی باؤلنگ اور اہم موقع پر دیپیندر سنگھ کی وکٹ نے میچ کا رخ موڑ دیا۔ کپتان روہت پاؤڈیل کی وکٹ گرنے کے بعد نیپال کی دم توڑتی بیٹنگ لائن ہدف مکمل نہ کر سکی اور نیپال فتح کے دہانے پر پہنچ کر محض 4 رنز سے پیچھے رہ گیا۔
اگرچہ نیپال میچ ہار گیا، لیکن اس پرفارمنس نے ورلڈ کپ میں دیگر بڑی ٹیموں کے لیے خطرے کے سائرن بجا دیے ہیں۔ ایسوسی ایٹ ممبرز کی ایسی کارکردگی کرکٹ کی عالمی مقبولیت کے لیے نیک شگون قرار دی جا رہی ہے۔