پاکستان گزشتہ چار دہائیوں سے افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے۔ یہ دیرینہ فراخدلی پاکستان کو دنیا کے ان ممالک میں شامل کرتی ہے جو افغان مہاجرین کی سب سے زیادہ تعداد کو سہارا دے رہے ہیں۔ تاہم، حالیہ برسوں میں بعض افغان باشندوں کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ ان کے جرائم بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں جو پاکستانی سالمیت کے لیے خطرہ ہے۔ امریکا کو مطلوب دہشت گرد شریف اللہ بھی افغانستان روپوش رہا اور امریکا کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لیے بھی سکیورٹی تھریٹ تھا۔ شریف اللہ 2016 میں داعش خراسان میں شامل ہوا اور کابل سمیت افغانستان میں کم از کم 21 حملوں میں ملوث ایک بڑی ٹیم کا حصہ تھا اور اس نے تنظیم کے رہنما شہاب المہاجر کے قریبی معاون کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ شریف اللہ کو ستمبر 2019 میں افغانستان کے قومی سلامتی ڈائریکٹوریٹ نے گرفتار کیا تھا۔ 15 اگست 2021 کو طالبان کے کابل میں اقتدار سنبھالنے کے دوران وہ جیل سے فرار ہو گیا تھا۔ شریف اللہ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اسے امریکی اور پاکستانی سکیورٹی آپریشن میں گرفتار کیا گیا۔ دفاعی امور کے تجزیہ کاروں کے مطابق افغان سرزمین اور حکومت دہشت گردوں کو قابو کرنے میں ناکام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریف اللہ بھی جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوا۔ کراچی میں چار لاکھ سے زائد غیر قانونی افغان باشندے مقیم ہیں۔ جن میں سے 225 افغان شہری مختلف جرائم میں گرفتار ہو چکے ہیں، جن میں بعض وارداتوں میں ہلاکتیں بھی ہوئیں۔ یہ صورتحال نہ صرف عوام میں بے چینی پیدا کر رہی ہے بلکہ ملکی وسائل پر بھی ایک غیر ضروری بوجھ بن چکی ہے۔ افغان مہاجرین کی موجودگی کے دوران پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بھی تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تحریکِ طالبان پاکستان کی حالیہ سرگرمیوں کے نتیجے میں 2024 میں 2500 سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں، جو گزشتہ 9 سال میں سب سے زیادہ ہیں۔ دہشت گردانہ حملوں کے باعث پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری متاثر ہو رہی ہے، جبکہ ملکی انفراسٹرکچر منصوبے بھی غیر یقینی صورت حال کا شکار ہو رہے ہیں۔ گلوبل ٹیررازم انڈیکس کے مطابق پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں دوسرے نمبر پر ہے۔ 2024 میں کالعدم تحریک طالبان تیزی سے منظم ہونے والی شدت پسند تنظیم کے طور پر ابھری ہے۔ 2023 کے مقابلے میں 2024 میں ٹی ٹی پی کے حملوں میں مرنے والوں کی تعداد تقریباً دگنی تھی۔ حالیہ دہشت گردی کی لہر میں یہ واضح ہوا کہ دہشت گرد سرحد پار سے آپریٹ ہو رہے تھے۔ پاکستان کی وزارت داخلہ نے تمام غیر قانونی غیر ملکیوں اور افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کو 31 مارچ 2025 تک ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے، بصورت دیگر یکم اپریل 2025 سے ان کی ملک بدری کا آغاز کر دیا جائے گا۔ یہ اقدام قومی سلامتی اور معاشی دباو¿ کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھایا گیا ہے۔ اس سے پہلے پاکستانی حکومت نے ستمبر 2023 کو اعلان کیا تھا کہ ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم تمام غیر ملکی، جن میں غالب اکثریت افغان مہاجرین کی ہے، وہ یکم نومبر سے پہلے رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑ دیں۔ بعدازاں اس مدت میں 31 دسمبر 2023 اور پھر 30 جون 2024 تک توسیع کر دی گئی۔ جون 2024 کے بعد پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغانوں کو گرفتار کر کے ان کی ملک بدری کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا، جس بعد گرفتاریوں کے خوف سے بھی لاکھوں افغان پاکستان چھوڑ گئے۔ اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں دہائیوں سے مقیم افغانوں کی واپسی کا حالیہ سلسلہ ستمبر 2023 میں شروع ہوا اور 15 دسمبر 2024 تک سات لاکھ 95 ہزار 607 مہاجرین اپنے وطن واپس جا چکے تھے۔ جولائی 2024 میں حکومت نے ملک میں قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کے پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کارڈز کی مدت میں جون 2025 تک کی توسیع کر دی تھی مگر اب افغان دہشت گردوں کی کارروائیوں کے بعد حکومت پاکستان کے عزائم پختہ لگ رہے ہیں۔ دیگر ممالک میں افغان پناہ گزینوں کو کم تعداد میں قبول کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ جرمنی نے اب تک 1.8 لاکھ افغان پناہ گزینوں کو جگہ دی ہے۔ ترکی میں 1.3 لاکھ افغان مہاجرین مقیم ہیں۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ پاکستان چند ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ بوجھ برداشت کر رہا ہے، جبکہ دیگر ممالک کی طرف سے افغان مہاجرین کو قبول کرنے کی رفتار کم رہی ہے۔ پاکستان نے گزشتہ 40 سال افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کی، لیکن موجودہ حالات میں یہ بوجھ مزید نہیں اٹھایا جا سکتا۔ پاکستان کے قومی مفادات، سکیورٹی اور معیشت کو مدنظر رکھتے ہوئے افغان مہاجرین کی وطن واپسی ناگزیر ہو چکی ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ افغانستان میں بحالی کے منصوبے شروع کرے تاکہ واپس جانے والے افغان مہاجرین وہاں باعزت زندگی گزار سکیں اور اپنے ملک کی تعمیر میں حصہ لے سکیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین یو این ایچ آر سی کے مطابق پی او آر کارڈز رکھنے والے افغان شہریوں کی تعداد تقریباً 14 لاکھ ہے۔ پاکستان میں افغان مہاجرین کی آمد 1979 میں افغانستان پر سابق سوویت یونین کے حملے کے بعد شروع ہوئی اور اس وقت سے لاکھوں افغان مہاجرین یہاں مقیم ہیں۔ 2021 میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا اور طالبان کی حکومت کے بعد ایک بار پھر افغان شہری پاکستان میں داخل ہوئے جن میں سے بہت سے ایسے تھے، جنہوں نے اسلام آباد کے راستے دیگر ممالک کا سفر کرنا تھا مگر ان میں سے بھی بڑی تعداد یہاں ہی مقیم ہو گئی۔ پاکستان کی سکیورٹی صورتحال مزید ان افغانوں کا بوجھ برداشت کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی یہی وجہ ہے کہ حالیہ ڈیڈ لائن مکمل ہونے کے بعد پوری طاقت سے افغانوں کے انخلا کا آپریشن ہونا ناگزیر ہے۔