تحریک انصاف نے ایک بار پھر حکومت کے خلاف ایک فائنل تحریک کا اعلان کر دیا ہے ۔ایک بات تو ماننا پڑے گی کہ تحریک انصاف جو بات بھی کرتی ہے کمال کی کرتی ہے اور جو کام بھی کرتی ہے وہ ماسٹرسٹروک ہوتا ہے ۔ اب اس میں عقل کی کمی ہے یا زیادتی ہے اس کا فیصلہ ہم ایسا کم عقل کج فہم تو نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے لئے کسی فرد کی نہیں بلکہ اجتماعی قومی دانش ہی فیصلہ کر سکتی ہے ۔ اندازہ کریں کہ ہم خیال ججز کی زبر دست سہولت کاری کے بعد کہ جس میں آئین کی تشریح کے نام پر آئین کو ہی بدل دیا گیا تھا اس کے نتیجہ میں ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہو گئی ۔ اب اسلام آباد حکومت کے ایک طرف خیبر پختون خوا تھا اور دوسری جانب پنجاب تھا اور اس وقت چوہدری پرویز الٰہی منع بھی کرتے رہے کہ یہ دونوں ہماری محفوظ پناہ گاہیں ہیں لیکن مجال ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے کانوں پر جوں تک رینگی ہو ۔ انھوں نے آئو دیکھا نہ تائو اور سب کے منع کرنے کے باوجود بھی دونوں اسمبلیوں کو تحلیل کر دیا ۔ اب بانی کی عقل اور فہم و فراست کے سامنے بھلا دوسروں کی عقل نے کیا کام کرنا تھا ۔ اصل منصوبہ یہ تھا کہ ہم خیال ججز اور سہولت کاروں کی ایک پوری کھیپ اس وقت موجود تھی تو دونوں صوبوں میں الیکشن جتوا کر دونوں صوبوں میں تحریک انصاف کی حکومتیں بنوا دی جاتیں اور اس کے بعد جب عام انتخابات ہوتے تو دونوں صوبوں میں تحریک انصاف حکومتوں کی موجودگی ، سہولت کاروں ، ہم خیال ججز ، ہم خیال میڈیا اور ہم خیال سوشل میڈیا کی موجودگی میں کس مائی کے لال میں جرأت تھی کہ وہ تحریک انصاف کو دو تہائی تو کیا تین چوتھائی کی اکثریت کی کامیابی سے روک پاتا لیکن بانی اور اس کے ہم خیالوں کے ساتھ ایک مسئلہ ہے کہ وہ جب بھی کوئی پلاننگ کرتی ہیں تو میدان میں صرف خود کو رکھ کر سوچتے ہیں اگر وہ یہ سوچ کر پلاننگ کریں کہ ان کے علاوہ بھی میدان میں دیگر لوگ موجود ہیں اور وہ ان کی پلاننگ کے جواب میں لازم ہے کہ ری ایکٹ بھی کریں گی تو شاید اتنے بڑے بڑے ماسٹرسٹروک کھیلنے کی نوبت ہی نہ آتی لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ باقی سب احمق اور عقل صرف انھی کے پاس ہے اور نتیجہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کی ریڈ لائن عمران خان بھی اور عمران خان کی ریڈ لائن بشریٰ بیگم بھی سزا یافتہ قیدی کی حیثیت سے جیل میں ہیں ۔
اس سے پہلے بھی ایک سے زائد بار احتجاج کی کالیں دی گئیں لیکن ہر بار ہر کال بری طرح ناکام ہوئی ۔ اس کے بعد عقل سے کام لیتے ہوئے اپنی سیاسی حکمت عملی میں تبدیلی کرنا چاہئے تھی اور اب تو اندر کی خبریں دینے والے کہتے ہیں کہ جیل سے باہر تحریک انصاف کی قیادت بھی سر پکڑ کر بیٹھ گئی ہے کہ کیا کریں ایک دن جیل سے پیغام آتا ہے کہ حکومت سے بات کرو اور جب حکومت سے بات شروع کرتے ہیں تو بیان آ جاتا ہے کہ حکومت سے کوئی بات نہیں ہو گی تو آخر کریں تو کیا کریں ۔ رمضان سے پہلے قارئین کو یاد ہو گا کہ تحریک انصاف کی جانب سے بار بار دھڑلے سے کہا گیا کہ عید کے بعد ایک گرینڈ الائنس بنے گا اور حکومت کے خلاف ایک بڑی تحریک شروع کی جائے گی ۔ ہم نے اس وقت بھی اپنے ہر کالم میں کہا تھا کہ نہ تو کوئی گرینڈ الائنس بننے جا رہا ہے اور نہ ہی کوئی تحریک چلے گی بلکہ سب اپنی اپنی پرانی تنخواہوں پر راضی خوشی کام کرتے رہیں گے ۔ بار بار احتجاجی تحریکوں کی ناکامی اور عید کے بعد گرینڈ الائنس اور ایک بڑی احتجاجی تحریک یہ سب اس وقت کی باتیں تھی لیکن اب تو ہندوستان سے فتح مبین کی صورت میں پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گذر چکا تو جب اس وقت ہر کال بری طرح ناکام ہوئی تھی تو اب کس امید پر نئی احتجاجی تحریک کی باتیں کی جا رہی ہیں اور ہاں اگر کسی کو یاد ہو تو بیرون ملک پاکستانیوں کو ترسیلات زر نہ بھیجنے کی کال بھی دی گئی تھی کیونکہ بانی پی ٹی آئی سے بھی بڑے کسی سیانے بابے نے سمجھایا ہو گا کہ جناب آپ کی عوامی مقبولیت میں کوئی کلام نہیں ہے لیکن یہاں پاکستان میں تو بڑی سختیاں ہیں اب لاٹھی گولی کے آگے کون ٹھہرسکا ہے لہٰذا بیرون ملک تو آپ کی بے مثال مقبولیت کے پاس بھی کوئی پھٹک نہیں سکتا اس لئے انھیں کال دیں لیکن اس کے بعد بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے پہلے سے زیادہ ترسیلات زر بھیج کر ریکارڈ قائم کرنے شروع کر دیئے تھے تو اب تو حالات میں تحریک انصاف کے نقطہ نظر سے360ڈگری کا منفی بدلائو آ چکا ہے تو اب کال دینے جیسا ماسٹرسٹروک کیوں کھیلا جا رہا ہے ۔
اس وقت تو صورت حال یہ ہے کہ ہندوستان سے عظیم الشان فتح کے بعد حکومت اسٹیبلشمنٹ اور خاص طور پر فاتح سپہ سالار فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اپنی مقبولیت کی بلندیوں پر ہیں اور عوام جہاں فوجی ٹرک دیکھتے ہیں تو انھیں محبت بھرے جذبات کے ساتھ سلیوٹ کرتے ہیں پھولوں کے ہار ڈالتے ہیں اور ہو سکے تو مٹھائی کھلاتے ہیں ۔ ہماری رائے میں یہ کال بھی بس کال تک ہی محدود رہے گی اور اس پر عمل کرنے کا موقع شاید نہ آئے لیکن اگر احتجاج کرنے کی حماقت بلکہ بلنڈر کیا گیا تو پہلے سے زیادہ بری طرح ناکام ہو گی ۔ اس لئے گذارش ہے کہ تحریک انصاف اپنے رویوں میں مثبت تبدیلی لائے اور پارلیمانی سیاست کو ترجیح دے اسی میں تحریک انصاف اور ملک و قوم کی بہتری ہے ۔