سب سے پہلے تحریک انصاف کے دوستوں کو ان کے قائد عمران خان کا نیا عہدہ ” پیٹرن ان چیف “ مبارک ہو۔ جس دن یہ کالم شائع ہو گا اس دن عید قرباں کا پہلا دن ہو گا اور پوری دنیا میں ہر صاحب استطاعت مسلمان سنت ابراہیمی کی یاد تازہ کرتے ہوئے خدائے بزرگ و برتر کی بارگاہ میں اپنی اپنی قربانی پیش کر رہا ہو گا لیکن پاکستان کے سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے لگ ایسے رہا ہے کہ عید کے بعد پاکستان کی حد تک ایک سے زائد قسم کی قربانیوں کے قوی امکانات ہیں ۔ سب سے پہلے تو بجٹ پیش ہو گا اور بجٹ کی منظوری اور اس کے خدو خال تک آئی ایم ایف کی مرضی سے طے ہوئے ہیں تو اس میں حکومت نے 118ترقیاتی منصوبوں کوختم کر دیا ۔
بھاڑ میں گئی نوکری ٹوٹ گئی بندوق
پھر ملے گی نوکری پھر چلائیں گے بندوق
یہ قربانی در حقیقت عوام کی ہی قربانی ہے ۔ ترقیاتی منصوبوں کے خاتمہ کے علاوہ بجٹ میں عوام پر جو مزید نئے ٹیکس لگائے جائیں گے اور ان ٹیکسوں سے عوام پر کتنی چھریاںچلتی ہیں یہ تو بجٹ آنے کے بعد ہی پتا چلے گا لیکن سیانے کہتے ہیں کہ ایک بات تو طے ہے کہ چھریوں کو عوام پر گرایا جائے یا عوام کو چھریوں پر گلا ہمیشہ عوام کا ہی کٹتا ہے لیکن اس حوالے سے حکومت کو زیادہ مطعون کرنا کسی طور بھی مناسب نہیں ہے اس لئے کہ ایک تو حالات کی وجہ سے کوئی ملک دیوالیہ ہوتا ہے اور ایک کسی طے شدہ منصوبہ بندی سے کسی کو دیوالیہ کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ دوسری والی بات انتہائی خطر ناک ہے اور اس سے بچنا زیادہ مشکل ہوتا ہے لیکن سولہ ماہ کی پی ڈی ایم حکومت اور اب مسلم لیگ نواز کی اتحادی حکومت نے اپنی سیاست کو داﺅ پر لگا کر ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا اور کچھ ایسے لوگ جو ہر جلسے اور یو ٹیوب پر اپنے ہر خطاب میں خدا نخواستہ ملک کے دیوالیہ ہونے کی بات کرتے تھے ان بد خواہوں کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا ۔
گذشتہ ہفتہ بانی تحریک انصاف معذرت اب تو پیٹرن ان چیف کہنا پڑے گا کی ہدایت پر حکومت کے خلاف ایک بڑی احتجاجی تحریک کا اعلان کیا گیا ۔ یہ ” بڑی “ کا جو لفظ ہے یہ تحریک انصاف والوں نے کہا تھا تو اسی طرح قارئین کے لئے پیش کر دیا ورنہ جہاں تک ہماری ذاتی رائے ہے تو حکومت کے خلاف کسی بڑی تو کیا کسی چھوٹی احتجاجی تحریک کا بھی حال کی گھڑی میں دور دور تک کوئی امکان نہیں ہے ۔ اگر کسی کو یاد نہیں تو رمضان سے پہلے بھی عید کے بعد حکومت کے خلاف ایک بڑی تحریک ہی نہیں بلکہ حکومت کے خلاف ایک بڑے الائنس کے بننے کی خوش خبریاں بھی عوام کو سنائی گئی تھیں لیکن ”حسرت ان غنچوں پہ جو بن کھلے مرجھا گئے “ ۔ اس بات کا ذکر ایک سے زائد بار ہو چکا ہے کہ جب خان صاحب جیل میں نہیں تھے تو ان کی قیادت میں اکتوبر 2022میں لاہور سے راولپنڈی کے لئے جو مارچ چلا تھا وہ بمشکل راولپنڈی کا پل کراس کر سکا تھا اور شاہدرہ میں خطاب کے بعد لانگ مارچ والے اپنے گھر اور پیٹرن ان چیف اپنے گھر اور اس کے بعد اگلے دن اگلے شہر میں شام کو ایک چھوٹی سی جلسی ہوتی اور سب منتشر ہو جاتے تاوقتیکہ وزیر آباد میں فائرنگ کا واقعہ نہیں ہوا اور پھر تمام تر کوشش اور پیٹرن ان چیف کی اپنی موجودگی کے باوجود بھی عوام کی قلیل تعداد کی وجہ سے دھرنا پروگرام منسوخ کرنا پڑا ۔ ان حالات کے مقابلے میں آج تو حالات کافی حد تک بدل چکے ہیں ۔ مہنگائی کا گراف نیچے آ چکا ہے ۔ بجلی کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے لوڈ شیڈنگ بہت کم اور دہشت گردی بھی دو صوبوں تک محدود ہے اور سب سے بڑی بات ہندوستان سے فتح مبین کی شکل میں پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گذر چکاہے اور اس بات کا اعتراف بین الاقوامی میڈیا بھی کر رہا ہے کہ پیٹرن ان چیف کی مقبولیت کم ہوئی ہے اور فیلڈ مارشل کی مقبولیت میںبہت زیادہ اضافہ ہوا ہے تو ایسی صورت میں عوامی سطح پر تحریک کی کامیابی کے کتنے امکانات ہیں اسے سمجھنا کوئی راکٹ سائنس نہیں ۔ اس کے علاوہ اس بار پیٹرن ان چیف نے احتجاج کے لئے جو حکمت عمل بنائی ہے وہ احتجاج سے پہلے ناکامی کا اعلان کر رہی ہے ۔ پہلے تو اسلام آباد سے پوری ریاستی مشینری کی طاقت کے ساتھ جن میں سرکاری ملازم اور مشینری دونوں شامل ہوتے تھے کم و بیش دس سے بارہ ہزار افراد جمع ہو جاتے تھے تو میڈیا پر کچھ رنگ جم جاتا تھا لیکن اب سوال یہ ہے کہ پورے سندھ میں کراچی میں ممکن ہے کہ چند درجن افراد نکل آئیں لیکن اس کے علاوہ کہاں احتجاج ہو گا اور یہی حال بلوچستان کاہے اصل معرکہ کے لئے وسطی پنجاب میں کوشش کی جائے گی تو ماضی میں تو کامیابی نہیںملی اب دیکھتے ہیں کہ کیانتیجہ نکلتا ہے ۔
آخر میں پیٹرن ان چیف کے حوالے سے چند گذنرشات ۔ یہ عہدہ اگر پارٹی کی جانب سے دیا جاتا تو پھر بھی کچھ بھرم رہ جاتا لیکن خود اپنے آپ کو یہ عہدہ دینا ایسے ہی ہے کہ جیسے فیلڈ مارشل ایوب خان نے بغیر کسی جنگ کے اپنے آپ کو فیلڈ مارشل قرار دے دیا تھا ۔ دوسرا یہ احساس کمتری اور ڈپریشن مائنڈ سیٹ کی علامت ہے اس لئے کہ پیٹرن ان چیف ظاہر ہے کہ تھوڑا لمبا ہے تو اسے عام طور پر چیف ہی بولا جائے گا اور الطاف بھائی کو بھی ان کے چاہنے والے یہی کہتے تھے اب اگر کمی ہے تو یہی کہ تنظیمی عہدے بھی زون اور سیکٹر کمانڈر جیسے ناموں پر رکھ لئے جائیں۔