Wed, September 16, 2026

کتاب سے دوری.... ہم کہاں کھڑے ہیں؟

کتاب سے دوری.... ہم کہاں کھڑے ہیں؟

پاکستان میں کتب بینی کے بنیادی مراکز ہمیشہ سے لائبریریاں رہی ہیں، یہ وہ مقامات ہیں جہاں علم کی روشنی خاموشی سے ذہنوں کو منور کرتی ہے۔ مگر آج کا المیہ یہ ہے کہ ہم ایک عجیب تضاد کا شکار ہیں۔ ایک طرف ہم کتاب سے دوری کا شکوہ کرتے ہیں اور نئی نسل کے مطالعے سے بے رغبتی پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں، تو دوسری طرف خود لائبریریوں سے کنارہ کشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ ہمارے فکری زوال کی واضح علامت بھی ہے۔ ہمارے ہاں پبلک اسکول ہوں یا نجی تعلیمی ادارے، اکثر لائبریریوں سے محروم ہیں یا محض نمائشی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایسے میں کتب بینی کے فروغ کی بات محض نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ترقی یافتہ اقوام نے اپنی بنیاد کتاب اور لائبریری پر رکھی۔ وہاں گلی، محلے، بس اسٹاپ، پارکس حتیٰ کہ ریلوے اسٹیشن تک علم کے مراکز میں بدل دیے گئے ہیں۔ اس کے برعکس ہم نے لائبریری کو اپنی ترجیحات سے نکال دیا ہے۔ ہمیں ہر یونین کونسل میں ایک فعال لائبریری قائم کرنی چاہیے تھی، مگر ہم اس سمت میں سنجیدہ اقدامات کرنے سے قاصر رہے ہیں۔لاہور میں حالیہ الیکٹرک بس سروس کا آغاز یقیناً ایک خوش آئند قدم ہے۔ جدید بس اسٹاپس، شہری سہولیات اور خوبصورت ڈیزائن شہری ترقی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان بس اسٹاپس پر ٹک شاپس کا قیام بھی کیا گیا ہے، جو اپنی جگہ ایک سہولت ہے، مگر یہاں ایک تعمیری تجویز نہایت اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ اگر وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز ان ٹک شاپس کو لائبریری کا درجہ دینے کا فیصلہ کر لیں، یا کم از کم انہیں “منی لائبریریز” میں تبدیل کر دیں، تو یہ 
ایک انقلابی قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا عظیم کام ہوگا جو نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک مثال بن جائے گا۔
ذرا تصور کیجیے کہ بس کا انتظار کرنے والا ایک عام شہری، ہاتھ میں موبائل کے بجائے ایک کتاب تھامے بیٹھا ہو۔ چند منٹ کا انتظار علم کے سفر میں بدل جائے، نوجوان سوشل میڈیا کے ہجوم سے نکل کر مطالعے کی دنیا میں داخل ہو جائیں، تو معاشرے میں ایک مثبت اور دیرپا تبدیلی جنم لے سکتی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف کتب بینی کو فروغ دے گا بلکہ عوامی سطح پر علم دوستی کے کلچر کو بھی پروان چڑھائے گا۔ ہماری ترجیحات کا مسئلہ بھی اپنی جگہ ایک المیہ ہے۔ ہم مہنگے کھانوں، برانڈڈ جوتوں اور دیگر غیر ضروری اشیاءپر بے دریغ خرچ کرتے ہیں، مگر کتاب خریدنے سے کتراتے ہیں۔ یہی رویہ ہمارے تعلیمی زوال کی بڑی وجہ ہے۔ کتاب سے دوری دراصل شعور سے دوری ہے، اور شعور کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی امید کی کرن دکھائی دیتی ہے تو وہ چند مخلص اور باصلاحیت افراد کی کاوشوں کی بدولت ہے۔ پنجاب میں ڈائریکٹر جنرل پبلک لائبریریز کاشف منظور انہی شخصیات میں شامل ہیں جو کتب بینی کے فروغ کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہے ہیں۔ 1974 میں جلال پور جٹاں، ضلع گجرات میں پیدا ہونے والے کاشف منظور نے ابتدائی تعلیم کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کیا اور پھر قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے انٹرنیشنل ریلیشنز میں پوسٹ گریجویشن مکمل کی۔ 2000 میں پی ایم ایس کے امتحان میں کامیابی کے بعد انہوں نے سول سروس کا آغاز کیا اور مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔
انہوں نے اپنی علمی پیاس کو برقرار رکھتے ہوئے 2010 میں یونیورسٹی آف مانچسٹر، برطانیہ سے ہیومن ریسورس مینجمنٹ میں ایم فل کی ڈگری حاصل کی۔ آج وہ ڈائریکٹر جنرل پنجاب پبلک لائبریریز اور سیکرٹری بورڈ آف گورنرز کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کی علمی و تحقیقی تحریریں مختلف جرائد میں شائع ہوتی ہیں اور وہ سینکڑوں لیکچرز دے چکے ہیں، جس سے ان کی علمی وابستگی کا اندازہ ہوتا ہے۔کاشف منظور کی قیادت میں پنجاب کی لائبریریوں میں 27 سال بعد سب سے زیادہ نئی کتابوں کا اضافہ کیا گیا، جو ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ انہوں نے قائداعظم پبلک لائبریری جیسے تاریخی ادارے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوشش کی اور ای-لائبریری منصوبوں کے ذریعے ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کو پورا کرنے کی سمت اہم پیش رفت کی۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف ادبی تقریبات، سیمینارز اور مطالعاتی سرگرمیوں کے ذریعے لائبریریوں کو ایک زندہ علمی مرکز بنانے کی کوشش کی گئی۔ تاہم، یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ صرف ایک ادارہ یا ایک افسر اس بڑے چیلنج سے نہیں نمٹ سکتا۔ کتب بینی کے فروغ کے لیے حکومت، تعلیمی اداروں، اساتذہ، والدین اور معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر وزیراعلیٰ پنجاب جیسے اعلیٰ منصب پر فائز قیادت اس سمت میں عملی اقدامات کرے، جیسا کہ ٹک شاپس کو لائبریریوں میں تبدیل کرنا، تو یہ ایک پالیسی سطح کی تبدیلی ہوگی جو آنے والی نسلوں کے مستقبل کو روشن بنا سکتی ہے۔
آج بھی وقت ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کا ازسرنو تعین کریں۔ کتاب کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، لائبریری کو اپنی ضرورت سمجھیں اور مطالعے کو اپنی عادت بنائیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں زوال سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔ اگر ہم نے آج بھی غفلت کا مظاہرہ کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی، لیکن اگر ہم نے درست سمت کا انتخاب کر لیا تو یہی لائبریریاں ہمارے روشن مستقبل کی بنیاد بنیں گی۔

ٹیگز: