خیبرپختونخوا، گلگت ،اسلام آباد اورکراچی کے بعدپنجاب میں بھی سیلاب نے تباہی مچا دی ہے، پنجاب کے کئی شہر، گائوں، دیہات اورقصبے سیلاب میں ڈوب چکے ہیں۔ پچھلے چندسالوںسے موسم کے بدلتے تیور اور اب اتنے بڑے پیمانے پر اس کے منفی اثرات اورنقصانات نے اس یقین کوپختہ کردیاہے کہ جولوگ اس تباہی سے پہلے موسمیاتی تبدیلی کارونارورہے تھے ان کی آہ وبکااورچیخ وپکارفضول یاویسے نہیں تھی۔موسمیاتی تبدیلی سے دنیاکاکوئی اورملک یاحصہ متاثرہواہے یانہیں لیکن موسموں کی اس تبدیلی نے ہمارے اس ملک کوحدسے زیادہ متاثرکر دیا ہے۔ گلگت سے کراچی تک ملک میں اس بارجوسیلاب آیا اس طرح کاسیلاب اس سے پہلے کبھی نہ آیا ہو گا۔ یہ بات نہیںکہ ملک میں پہلے کبھی سیلاب نہیں آئے،آئے ہردوراورہرجگہ سیلاب آئے لیکن اس قدرخوفناک اورتباہ کن سیلاب اس سے پہلے شائدکسی نے دیکھے ہوں۔کہنے والے کہتے ہیں کہ ملک میں اس بارگلگت اور بونیر سمیت جہاں جہاں سیلاب آئے اس نے آگے پیچھے نہ کچھ دیکھااورنہ کچھ چھوڑا۔یہ سیلاب اس قدراچانک اورخوفناک تھے کہ ان سے بچنے کے لئے پھرلوگوں کووقت ہی نہیں ملا۔موسمیاتی تبدیلی والی باتیں پہلے ہم بھی گپ اورمذاق سمجھ رہے تھے لیکن ملک میں پہاڑوں اوربیابانوں سے آنے والے اس سیلاب نے یہ حقیقت سب پرعیاں کردی ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی والی باتیں کوئی بڑھکیں نہیں بلکہ یہ اب ایک حقیقت ہے۔موسم تبدیلی والے ایسے ٹریک پرچڑھ گئے ہیں کہ موسموں کی پیشنگوئیاں کرنے والے ماہرین بھی اب اس تبدیلی سے حیران وپریشان ہیں۔پہلے بارش سے قبل ہواچلتی تھی، پھر بادل گرجتے تھے تب جاکروہ بادل پھر برستے تھے لیکن اب ایسانہیں۔ اب تو اچھا بھلا موسم صاف، آسمان نیلا اور دھوپ اچھی طرح نکلی ہوتی ہے کہ اچانک نہ صرف کالے بادل چھاجاتے ہیں بلکہ لمحوں میں برسنے بھی شروع ہوجاتے ہیں ۔دوسری بات اب موسم ایسے چینج ہوگئے ہیں کہ ایک جگہ موسم صاف ہوتاہے لیکن ساتھ قریبی دوسری جگہ اورعلاقے میں اس قدرشدیدبارش ہوتی ہے کہ جس کی کوئی امیداورتوقع نہیں ہوتی۔ کچھ دن پہلے ہمارے ہاں ایبٹ آبادمیں موسم صاف اوراچھی بھلی دھوپ لگی ہوئی تھی پچھلے علاقوں میں کہیں اتنی بارش ہوئی کہ اچانک ہماری گلیوں میں اتناپانی آیاکہ جیساکوئی سیلاب آیاہو۔قدرتی آفات کامقابلہ انسان کے بس کی بات نہیں۔ماناکہ دنیاوالوں کے پاس بہت وسائل اورہرقسم کی مشینریاں اورآلات ہیں لیکن قدرت کے قہرکے سامنے یہ وسائل اورمشینریاں کچھ بھی نہیں۔قدرتی آفات کاآج تک نہ کسی نے مقابلہ کیااورنہ کبھی کرسکتاہے ۔ہم بطورانسان قدرت کے سامنے صرف کمزورنہیں بلکہ بہت کمزور ہیں۔ ہماری توسانسیں ہی اس رب کے حکم سے چل رہی ہیں۔ اس رب کااختیارہے کہ وہ جب اورجہاں چاہیں ہمارا اور اس کائنات کاکام تمام کردیں۔بلاکسی شک وشبہ کے ہماری یہ زندگیاں اس رب کی امانت اورہم پرایک بڑااحسان ہے، ہمارا اٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا، کھانا پینا حتیٰ کہ سانس لینابھی جب اس رب کا اختیار تو پھررب کامقابلہ کیسے ۔۔؟اس لئے قدرتی آفات کے سامنے تو بندنہیں باندھے جاسکتے لیکن انسانی آفات کے سامنے نہ صرف بندباندھے جاسکتے ہیں بلکہ ان کاڈٹ کرمقابلہ بھی کیاجاسکتاہے۔ہرشئے قدرتی آفت نہیں ہوتی،اس دنیاباالخصوص ہمارے اس ملک اورمعاشرے میں انسانی آفات بھی کچھ کم نہیں۔ہمیں انسانی آفات نے جتنانقصان پہنچایا اتنا ہمیں کبھی قدرتی آفات نے متاثرنہ کیاہوگامگرافسوس ہم اپنی انسانی آفات کوبھی قدرت کے کھاتے میں ڈال کرانسان اورکائنات کی تباہی اوربربادی کاذریعہ وباعث بننے والے انسانی مجرموں کوبے گناہ ثابت کردیتے ہیں۔نکاسی آب کے نالوں اور آبی گزرگاہوں پر تجاوزات کی وجہ سے گائوں،دیہات اورشہروں میں جوسیلاب آتاہے کیا وہ قدرتی آفت ہے۔؟جنگلات کی بے دریغ کٹائی سے جو پہاڑ سیلاب،لینڈسلائیڈنگ اور دیگر حادثات وواقعات کی وجہ بن رہے ہیں کیایہ بھی قدرتی آفت ہے۔؟ہائوسنگ سوسائٹیوں کے لئے پہاڑوں کوہموارکرکے میدان بنانے سے ہرطرف جو ماحولیاتی آلودگی پھیل رہی ہے کیااسے بھی قدرتی آفت کہتے ہیں۔؟دریاکے منہ میں بننے والی ہائوسنگ سوسائٹیاں، ہوٹلز،گیسٹ ہائوسز اورگھر وں کاپانی کی بے رحم موجوں میں بہنا بھی کیاقدرتی آفت ہے۔؟ہم مانتے ہیںقدرتی آفات ہیں لیکن یہ جن سے ہماراروزواسطہ پڑرہاہے یہ قدرتی آفات نہیں۔ ہماری اپنی آفات ہیں۔ہمیں ہر واقعے اورحادثے کوقدرت کے کھاتے میں ڈال کو خود کوبری الذمہ کرنے کے بجائے اپنی طرف بھی دیکھنا چاہئیے۔ ایک دونہیںبہت سارے واقعات اورحادثات ایسے ہوتے ہیں کہ جن کاباعث ہم خودبن رہے ہوتے ہیں۔ہم اگراپنے گریبان میں جھانک کراپنی ذمہ داریوں کواحسن طریقے سے نبھائیں ،قدرت کے بنائے گئے نظام میں انگلیاں مارنے سے گریزکریں توروزروزیہ المناک حادثات اورواقعات رونمانہ ہوں۔موسموں نے اپنے تیوراوررخ بدل لئے لیکن ہم نے ابھی تک کچھ نہیں بدلہ۔موسمیاتی تبدیلیوں میں جینے کے لئے ہمارے پاس کیاہے۔؟دنیاکئی سال سے موسمیاتی تبدیلی کاڈھنڈوراپیٹ رہی ہے مگرہمیں اس کاکوئی احساس اورخیال ہی نہیں۔خودسوچیں موسمیاتی تبدیلیوں کے لئے ہمارے پاس کیاتیاریاں ہیں۔ذرہ سی بارش ہوتوگائوں اوردیہات کیاہمارے اکثرشہروں میں جگہ جگہ سیلاب، تالاب اور دریا کا منظر ہوتا ہے۔ ایک دوگھنٹوں کی بارش بھی ہماراکوئی علاقہ اور شہر برداشت نہیں کرسکتااللہ نہ کرے اگرکبھی کہیں بارش کادورانیہ تھوڑاسابھی بڑھاتوپھرہمیں سرچھپانے کے لئے سایہ کیا۔؟پائوں رکھنے کے لئے جگہ بھی نہیں ملے گی۔موسمیاتی تبدیلی کے لئے ہمارے پاس نہ پہلے کوئی تیاری تھی اورنہ اب ہے۔ہاں ہمارے پاس صرف ڈوبنے کی تیاری ہے اوروہ ہم نے جنگلات ،آبی گزرگاہوں اورقدرتی نظام کوتباہ کرکے خوب کر رکھی ہے۔اس لئے اگریہی حال رہاتوپھرہمیں تباہی میں ڈوبنے سے کوئی بچانہیں پائے گاکیونکہ موسمیاتی تبدیلی کے مقابلے کے لئے ہم پہلے ہی تباہی کے آخری دہانے پرکھڑے ہیں۔