Wed, September 16, 2026

کتاب سے دوری… ترقی سے محرومی

کتاب سے دوری… ترقی سے محرومی

دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں کو اگر غور سے دیکھا جائے تو ایک حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے: ان کی ترقی کا راز صرف وسائل، ٹیکنالوجی یا مضبوط معیشت نہیں، بلکہ ان کا “علم دوستی” کا وہ کلچر ہے جس نے تعلیم کو محض ڈگریوں تک محدود نہیں رہنے دیا بلکہ اسے شعور، فہم اور اجتماعی ترقی کا ذریعہ بنا دیا۔ وہاں علم کو خانوں میں تقسیم نہیں کیا گیا، نہ اسے محض امتحان پاس کرنے کا ہتھیار سمجھا گیا، بلکہ اسے زندگی جینے کا قرینہ بنایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان معاشروں میں کتاب صرف کاغذ کا پلندہ نہیں بلکہ تہذیب کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔
آپ کسی بھی ترقی یافتہ ملک کی سڑکوں پر نکل جائیں، منظر بڑا دلچسپ اور سبق آموز ہوتا ہے۔ سفر ہو یا حضر، ٹرین ہو یا بس، پارک ہو یا کیفے—ہر جگہ لوگوں کے ہاتھوں میں کتابیں، اخبارات یا رسائل نظر آئیں گے۔ یہ منظر محض ایک عادت نہیں بلکہ ایک اجتماعی رویہ ہے، ایک تہذیبی شناخت ہے۔ وہاں گلی محلوں سے لے کر بس اسٹاپوں اور سڑکوں کے کناروں تک چھوٹی بڑی لائبریریاں موجود ہوتی ہیں، جہاں سے کوئی بھی شخص کتاب لے سکتا ہے، پڑھ سکتا ہے اور واپس رکھ سکتا ہے۔ علم کی یہ آزادی ہی دراصل ترقی کی اصل بنیاد ہے۔
اس کے برعکس اگر ہم اپنے معاشرے پر نظر ڈالیں تو تصویر خاصی مختلف بلکہ تشویشناک دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں جہاں شرح خواندگی ابھی تسلی بخش نہیں، وہاں کتاب دوستی کا فقدان ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔ یہاں تعلیم اکثر صرف امتحان، نمبر اور نوکری تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، جبکہ مطالعہ، تحقیق اور فکری وسعت جیسے عناصر پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں، کیونکہ ترقی صرف سڑکیں بنانے یا عمارتیں کھڑی کرنے سے نہیں آتی بلکہ ذہنوں کی تعمیر سے آتی ہے۔
میں نے اپنے گزشتہ کالم میں وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کو ایک تجویز پیش کی تھی کہ صوبے بھر میں قائم کیے جانے والے بس اسٹاپوں پر جو دکانیں (ٹک شاپس) بنائی گئی ہیں، اگر انہیں چھوٹی لائبریریوں میں تبدیل کر دیا جائے تو یہ ایک انقلابی قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ تصور کیجیے کہ ایک مزدور، ایک طالب علم یا ایک عام شہری جب بس کا انتظار کر رہا ہو اور اس کے ہاتھ میں موبائل کے بجائے ایک کتاب ہو—تو یہ منظر نہ صرف خوبصورت ہوگا بلکہ ایک نئے فکری سفر کا آغاز بھی بن سکتا ہے۔ یہ وہ نیکی ہوگی جو صرف ایک منصوبہ نہیں بلکہ ایک نسل کی ذہنی تشکیل کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ اس اندھیرے میں کچھ چراغ ایسے بھی ہیں جو مستقل روشن ہیں اور روشنی بانٹ رہے ہیں۔ ایسے ہی چراغوں میں ایک نام “چغتائی پبلک لائبریری” کا ہے، جہاں حال ہی میں ورلڈ بک اینڈ کاپی رائٹ ڈے 2026 کے موقع پر ایک باوقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ یہ تقریب محض ایک رسمی اجتماع نہیں تھی بلکہ ایک فکری تحریک کی عکاس تھی، جس میں علم، ادب اور شعور کے چراغ جلانے کا عزم نمایاں تھا۔
تقریب میں علمی، ادبی اور فکری شخصیات کے ساتھ ساتھ طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاءکی موجودگی اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ ہمارے معاشرے میں علم و ادب سے محبت ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، بلکہ اسے صرف مناسب رہنمائی اور مواقع کی ضرورت ہے۔ تقریب میں ڈیجیٹل دور میں کتابوں کی اہمیت، مطالعے کے فروغ اور علم کے تحفظ پر زور دیا گیا، جو یقیناً وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
اس کامیاب تقریب کا سہرا ریحانہ کوثر کے سر جاتا ہے، جو علم دوستی اور کتاب کلچر کے فروغ کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔ ان کی کاوشیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر نیت صاف اور مقصد واضح ہو تو محدود وسائل کے باوجود بھی بڑے کام کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف اس تقریب کو کامیاب بنایا بلکہ ایک ایسے ماحول کی تشکیل میں کردار ادا کیا جہاں کتاب کو دوبارہ مرکزِ توجہ بنایا جا رہا ہے۔
اسی طرح ڈاکٹر اے ایس چغتائی، بانی چغتائی پبلک لائبریری، خصوصی مبارکباد اور تحسین کے مستحق ہیں۔ انہوں نے جس ویژن کے ساتھ اس لائبریری کی بنیاد رکھی، وہ آج ایک تحریک کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ملک بھر میں معیاری لائبریریوں کے قیام کے ذریعے انہوں نے ہزاروں طلبہ اور کتب بینی کے شوقین افراد کے لیے علم کے دروازے کھول دیے ہیں۔ یہ وہ خدمت ہے جو کسی بھی معاشرے کی تقدیر بدل سکتی ہے، کیونکہ کتاب سے جڑا ہوا انسان کبھی فکری طور پر غلام نہیں رہتا۔
ریحانہ کوثر اور ڈاکٹر اے ایس چغتائی جیسی شخصیات دراصل ہمارے معاشرے کی وہ امید ہیں جو ہمیں یہ یقین دلاتی ہیں کہ کتاب کی کوئی آخری صدی نہیں ہوتی۔ ٹیکنالوجی جتنی بھی ترقی کر لے، ڈیجیٹل دنیا کتنی ہی وسیع کیوں نہ ہو جائے، کتاب کی اہمیت اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔ کتاب صرف معلومات نہیں دیتی بلکہ سوچنے کا سلیقہ سکھاتی ہے، سوال اٹھانے کا حوصلہ دیتی ہے اور انسان کو اپنے اندر جھانکنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بحیثیت معاشرہ کتاب سے اپنا رشتہ دوبارہ مضبوط کریں۔ تعلیمی اداروں، سرکاری پالیسیوں اور سماجی رویوں میں ایسی تبدیلیاں لائی جائیں جو مطالعے کو فروغ دیں۔ گھروں میں بچوں کو کتابوں سے روشناس کرایا جائے، اسکولوں میں لائبریریوں کو فعال بنایا جائے اور عوامی مقامات پر مطالعے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔اگر ہم واقعی ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں سڑکوں کے ساتھ ساتھ لائبریریاں بھی بنانی ہوں گی، عمارتوں کے ساتھ ساتھ ذہنوں کو بھی تعمیر کرنا ہوگا۔ کیونکہ قومیں صرف انفراسٹرکچر سے نہیں بلکہ علم، شعور اور کتاب دوستی سے ترقی کرتی ہیں۔
اور یاد رکھیں، جس دن ہمارے ہاتھوں میں موبائل فون کے ساتھ کتاب بھی آ گئی، اس دن ہماری تقدیر بدلنے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔

ٹیگز: