Wed, September 16, 2026

مہنگائی، بیروزگاری اور ریاستی رائٹ سائزنگ: عوام کہاں کھڑے ہیں؟

پاکستان کی معیشت اس وقت ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں اعداد و شمار محض معاشی گراف نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کی کہانی بیان کر رہے ہیں۔ مہنگائی کی مسلسل یلغار، شرح نمو کی سست رفتاری، عالمی مالیاتی دباؤ، وبائی بحرانوں کے اثرات، زر مبادلہ کی قدر میں غیر معمولی کمی اور موسمیاتی آفات نے مل کر ایک ایسا سماجی و اقتصادی منظرنامہ تشکیل دیا ہے جس میں غربت اور عدم مساوات محض اصطلاحات نہیں بلکہ روزمرہ حقیقت بن چکی ہیں۔ تازہ تخمینوں کے مطابق غربت کی شرح کا تقریباً 29 فیصد تک پہنچ جانا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاشی استحکام کے دعوئوں کے باوجود عام آدمی کی معاشی حالت میں خاطر خواہ بہتری نہیں آ سکی۔ اگر اس تصویر کو گہرائی سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ چند برس میں معاشی جھٹکے ایک دوسرے کے ساتھ جڑتے گئے۔ کووڈ19 نے روزگار کے غیر رسمی شعبے کو بُری طرح متاثر کیا۔ بعد ازاں عالمی سطح پر اشیائے خور و نوش اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے درآمدی معیشت رکھنے والے ممالک کیلئے مشکلات پیدا کیں۔ پاکستان میں بار بار کے بیل آؤٹ پروگراموں نے وقتی مالی سہارا تو فراہم کیا مگر ان کے ساتھ منسلک مالیاتی نظم و ضبط اور سبسڈی میں کمی جیسے اقدامات نے متوسط اور نچلے طبقے کی قوتِ خرید کو مزید محدود کر دیا۔ نتیجتاً حقیقی آمدن میں کمی اور اخراجات کے دباؤ نے گھریلو معیشت کو کمزور کر دیا۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ حقیقی ماہانہ گھریلو آمدن میں نمایاں کمی آئی ہے۔ بظاہر اگرچہ برائے نام آمدن میں اضافہ دکھائی دیتا ہے، لیکن افراطِ زر نے اس اضافے کو تقریباً بے معنی بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ گھریلو اخراجات میں بھی کمی دیکھنے میں آئی جو دراصل کفایت شعاری نہیں بلکہ مجبوری کی علامت ہے۔ جب خاندان خوراک، تعلیم یا صحت جیسے بنیادی شعبوں میں اخراجات کم کرنے لگیں تو یہ معیشت کیلئے خطرے کی گھنٹی تصور کیا جاتا ہے کیونکہ انسانی سرمائے کی ترقی متاثر ہوتی ہے۔ صوبائی سطح پر صورتحال مزید تشویشناک ہے۔ بلوچستان بدستور سب سے زیادہ غربت کا شکار صوبہ ہے جہاں تقریباً نصف آبادی خط غربت کے قریب یا اس سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ خیبر پختونخوا اور سندھ میں بھی غربت کی شرح میں واضح اضافہ ہوا ہے جبکہ پنجاب جو نسبتاً بہتر معاشی ڈھانچے کا حامل سمجھا جاتا تھا، وہاں بھی غربت کے اعداد و شمار بتدریج اوپر جا رہے ہیں۔ سندھ میں گزشتہ چند برس کے دوران غربت میں نمایاں اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ شہری و دیہی ترقی کے درمیان موجود خلیج مزید وسیع ہو گئی ہے۔ دیہی علاقوں میں زرعی پیداوار پر موسمیاتی اثرات، پانی کے مسائل اور محدود صنعتی مواقع نے معاشی سرگرمیوں کو سست کر دیا ہے جبکہ شہری علاقوں میں روزگار کی غیر یقینی صورتحال اور مہنگی رہائش نے متوسط طبقے کو بھی کمزور بنا دیا ہے۔ سیلابوں نے اس بحران کو مزید بڑھایا ہے۔ لاکھوں ایکڑ زرعی زمین تباہ ہونے سے نہ صرف خوراک کی پیداوار متاثر ہوئی بلکہ دیہی روزگار کا بنیادی ذریعہ بھی کمزور پڑ گیا۔ نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کیلئے دوبارہ معاشی بحالی آسان نہ رہی، جس کا اثر غربت کے مجموعی اشاریوں میں واضح نظر آتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اب محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ براہِ راست معاشی عدم استحکام کا عنصر بن چکی ہے۔ اسی دوران آمدنی میں عدم مساوات بھی بڑھی ہے۔ جینی کوایفیشنٹ میں اضافہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشی وسائل کا ارتکاز محدود طبقوں تک بڑھ رہا ہے۔ معیشت کے کچھ شعبوں میں منافع برقرار رہنے کے باوجود مزدور اور کم آمدنی والے افراد مہنگائی کے بوجھ تلے دبے رہے۔ یہ رجحان طویل مدت میں سماجی بے چینی کو جنم دے سکتا ہے کیونکہ جب معاشی ترقی کے ثمرات یکساں طور پر تقسیم نہ ہوں تو اعتماد کا بحران پیدا ہوتا ہے۔ حکومت کی جانب سے وفاقی سطح پر رائٹ سائزنگ کی پالیسی اسی معاشی دباؤ کا ایک ردعمل دکھائی دیتی ہے۔ ہزاروں خالی آسامیوں کا خاتمہ اور ڈائنگ کیڈر کا تصور بظاہر انتظامی اخراجات کم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ سرکاری مشینری برسوں سے پھیلتے ہوئے حجم اور بڑھتے پنشن بوجھ کے باعث مالی دباؤ کا شکار رہی ہے۔ غیر ضروری یا طویل عرصے سے خالی اسامیوں کو ختم کرنا بجٹ نظم و ضبط کی جانب ایک قدم ضرور ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ریاستی وسائل محدود ہوں۔ تاہم اس فیصلے کے سماجی اثرات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان جیسے ملک میں سرکاری ملازمت صرف روزگار نہیں بلکہ معاشی تحفظ کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ نئی آسامیوں میں کمی نوجوانوں کیلئے مواقع محدود کر سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب نجی شعبہ بھی سست روی کا شکار ہو۔ اگر سرکاری بھرتیوں کا متبادل مضبوط نجی سرمایہ کاری یا صنعتی توسیع کی صورت میں سامنے نہ آیا تو بے روزگاری کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔ آؤٹ سورسنگ کا فیصلہ بھی دو دھاری تلوار ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک جانب اس سے پنشن اور مستقل تنخواہوں کے اخراجات کم ہوں گے، دوسری جانب کنٹریکٹ یا نجی کمپنیوں کے ذریعے کام لینے سے ملازمت کا تحفظ کم ہو سکتا ہے۔ دنیا بھر میں انتظامی اصلاحات کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ صرف اخراجات کم کرنا کافی نہیں ہوتا بلکہ خدمات کے معیار اور ملازمین کی فلاح کو متوازن رکھنا بھی ضروری ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا صرف مالی نظم و ضبط سے غربت کم ہو سکتی ہے؟ تجربہ بتاتا ہے کہ غربت میں کمی کیلئے وسیع تر معاشی حکمت عملی درکار ہوتی ہے۔ پیداواری شعبوں میں سرمایہ کاری، برآمدات میں اضافہ، زرعی اصلاحات، تعلیم اور صحت پر خرچ اور چھوٹے کاروباروں کیلئے آسان قرضہ جاتی نظام ایسے عوامل ہیں جو دیرپا تبدیلی لا سکتے ہیں۔ اگر معیشت کا پہیہ روزگار پیدا نہیں کرے گا تو مالیاتی استحکام بھی عوامی سطح پر محسوس نہیں ہو سکے گا۔ مزید برآں سماجی تحفظ کے پروگراموں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ مہنگائی کے دور میں نقد امداد وقتی سہارا تو دیتی ہے مگر مستقل حل نہیں بنتی۔ ہنر مندی کی تربیت، خواتین کی معاشی شمولیت اور دیہی صنعتوں کی ترقی ایسے اقدامات ہیں جو غربت کے دائرے کو توڑ سکتے ہیں۔ خاص طور پر نوجوان آبادی کیلئے ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت میں مواقع پیدا کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ پاکستان کی موجودہ معاشی تصویر دراصل دو متوازی حقیقتوں کا مجموعہ ہے۔ ایک طرف ریاست مالی نظم و ضبط اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے اخراجات کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، دوسری طرف عوام بڑھتی مہنگائی اور محدود آمدن کے درمیان توازن قائم کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ اگر اصلاحات کا محور صرف بچت تک محدود رہا تو سماجی دباؤ بڑھ سکتا ہے، لیکن اگر اسے ترقی، روزگار اور انسانی سرمایہ کاری کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو یہی بحران مستقبل کی مضبوط بنیاد بھی بن سکتا ہے۔ بالآخر معیشت کا اصل پیمانہ محض بجٹ خسارہ یا زرمبادلہ کے ذخائر نہیں بلکہ شہری کی زندگی کا معیار ہوتا ہے۔ جب تک معاشی پالیسی کا مرکز عام آدمی کی قوت خرید، روزگار کے مواقع اور سماجی انصاف نہیں بنتا، غربت کے اعداد و شمار محض بدلتے ہندسوں کی صورت میں سامنے آتے رہیں گے۔ پاکستان کیلئے اصل چیلنج یہی ہے کہ اصلاحات کو انسانی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے تاکہ معاشی استحکام صرف رپورٹوں تک محدود نہ رہے بلکہ گھروں کی دہلیز تک محسوس ہو سکے۔

ٹیگز: