Wed, September 16, 2026

یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں، 1300 سے زائد اموات، کئی ممالک میں ہنگامی صورتحال

یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں، 1300 سے زائد اموات، کئی ممالک میں ہنگامی صورتحال

جنیوا: یورپ میں جاری شدید گرمی کی لہر نے مختلف ممالک میں نظامِ زندگی کو متاثر کر دیا ہے۔ 21 جون سے اب تک گرمی کے باعث 1300 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ کئی علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق شدید گرمی کے باعث اسپتالوں، ریسکیو اداروں اور ایمرجنسی سروسز پر غیر معمولی دباؤ ہے، جبکہ امدادی کالز میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس نے کہا کہ یورپ کے بیشتر گھروں، دفاتر اور تعلیمی اداروں کا بنیادی ڈھانچہ اس قدر شدید گرمی کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں، جس کے باعث گرمی کے اثرات مزید سنگین ہو رہے ہیں۔

فرانس کے سرکاری ادارے پبلک ہیلتھ فرانس کے مطابق حالیہ دنوں میں متوقع شرح کے مقابلے میں تقریباً ایک ہزار اضافی اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، جبکہ 24 جون کے بعد اموات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ دوسری جانب فرانسیسی میڈیا کے مطابق شدید گرمی سے بچنے کے لیے پانی میں نہانے کے دوران ڈوبنے کے واقعات بھی بڑھے ہیں، اور 18 جون سے اب تک 74 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

ادھر جرمنی کے شہر لیپزگ میں شدید گرمی کے باعث سڑکوں کا سفالٹ متاثر ہونے اور ٹرام کی پٹریوں کو نقصان پہنچنے کے بعد حکام نے احتیاطی طور پر ٹرام سروس پیر کی صبح تک معطل کر دی ہے۔

ماہرین صحت نے شہریوں، بالخصوص بزرگ افراد، بچوں اور دائمی امراض میں مبتلا افراد کو دھوپ میں غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز، پانی کا زیادہ استعمال اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ٹیگز: