Wed, September 16, 2026

یورپ میں شدید گرمی نے تباہی مچا دی، ہیٹ ویو سے 4 ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے

یورپ میں شدید گرمی نے تباہی مچا دی، ہیٹ ویو سے 4 ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے

برسلز: یورپ کے مختلف خطے ان دنوں شدید موسمی گرمی کی زد میں ہیں، جہاں مسلسل بلند درجہ حرارت کے باعث ہزاروں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ہیٹ ویو کے نتیجے میں مختلف یورپی ممالک میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 4 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

فرانس میں حالیہ دنوں کے دوران کئی برسوں کی بلند ترین گرمی ریکارڈ کی گئی۔ فرانسیسی وزیر صحت کے مطابق صرف ایک ہفتے کے دوران شدید درجہ حرارت کے باعث 2 ہزار 25 افراد کی اموات رپورٹ ہوئیں، جس کے بعد متعلقہ اداروں نے شہریوں کو خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔

اسپین میں بھی گرمی کی شدت نے معمولاتِ زندگی متاثر کیے، جہاں کارلوس ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق جون کے مہینے میں 1 ہزار 28 افراد گرمی سے متعلق مختلف وجوہات کے باعث جان سے گئے۔

اسی دوران نیدرلینڈز میں 22 سے 28 جون کے درمیان درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے پر 480 اموات ریکارڈ کی گئیں، جبکہ بیلجیئم میں 18 سے 29 جون کے دوران گرمی کی شدت کے باعث ایک ہزار 200 سے زائد افراد انتقال کر گئے۔

برطانیہ بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے، جہاں ماہرین نے ملک کے مختلف علاقوں میں تیسری ہیٹ ویو آنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز، پانی کا زیادہ استعمال اور دیگر حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں شدید گرمی کی لہریں پہلے سے زیادہ طویل اور خطرناک ہوتی جا رہی ہیں، جو یورپ میں صحتِ عامہ کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر موسم کی یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں متاثرین اور ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

ٹیگز: