کسی بھی جمہوری ریاست میں سیاسی جماعتوں کو احتجاج کرنے، اختلاف رائے رکھنے اور آزادی اظہار کا مکمل حق حاصل ہوتا ہے۔ یہ بنیادی آئینی حقوق ہیں جو ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی بنیاد بنتے ہیں۔ تاہم، جب آزادی اظہار اور احتجاج کا دائرہ کار ریاستی علامات، تنصیبات، اداروں اور انسانی جانوں کے خلاف تشدد کی صورت اختیار کر لے، تو یہ محض رائے کا اظہار نہیں بلکہ ریاست سے بغاوت اور قانون شکنی کے مترادف ہو جاتا ہے۔ 9 مئی 2023 کو پیش آنے والے ہنگامہ خیز واقعات اس کی ایک افسوسناک مثال ہیں جنہوں نے نہ صرف ریاستی سلامتی کو چیلنج کیا بلکہ احتجاج کی آئینی حدود کو پامال کر کے قومی اداروں کو نقصان پہنچایا۔
9 مئی 2023 کو القادر ٹرسٹ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں نے احتجاج کیا۔ یہ احتجاج ایک منصوبہ بندی کے تحت جلد ہی پُرتشدد رنگ اختیار کر گیا۔ لاہور کے ماڈل ٹان میں مسلم لیگ (ن) کے دفتر کو آگ لگا دی گئی، جبکہ کور کمانڈر ہاؤس (جناح ہاؤس) پر دھاوا بولا گیا۔ راولپنڈی میں جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) کا گیٹ توڑ دیا گیا۔ لاہور، میانوالی، فیصل آباد، پشاور، اور دیگر شہروں میں سرکاری و نجی املاک کو نذر آتش کیا گیا۔ 8 افراد کی جانیں گئیں، 290 زخمی ہوئے، اور 1900 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
9 مئی کو پیش آنے والے واقعات محض احتجاج نہ تھے بلکہ اس میں منظم توڑ پھوڑ، ریاستی اداروں پر حملے اور ملک دشمن ایجنڈا دکھائی دیتا ہے۔ اس قسم کی حرکتیں کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابل قبول ہیں۔ دنیا کی کوئی بھی جمہوریت ریاستی علامتوں، فوجی تنصیبات، عدالتوں، پارلیمنٹ، یا سول دفاتر پر حملے کی اجازت نہیں دیتی۔ احتجاج کا مطلب پُرامن آواز اٹھانا ہے، نہ کہ دہشت پھیلانا۔
انسداد دہشت گردی عدالت سرگودھا نے 9 مئی کے سلسلے میں میانوالی کے تھانہ موسیٰ خیل میں درج مقدمہ نمبر 72 کا فیصلہ سناتے ہوئے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بچھر، ایم این اے احمد چٹھہ اور دیگر 32 افراد کو 10،10 سال قید کی سزا سنائی۔ ملزمان پر پُرتشدد احتجاج، جلاؤ گھیرا اور سنگین الزامات عائد تھے۔ اسی طرح، لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے شیرپاؤ پل پر جلاؤ گھیراؤ کیس میں ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز چودھری اور سرفراز چیمہ کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی۔ دوران ٹرائل 61 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔ شاہ محمود قریشی اور بعض دیگر ملزمان کو بری کر دیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدالت نے تمام کیسز میں ثبوت اور شہادت کی بنیاد پر الگ الگ فیصلے دئیے۔ مزید برآں، فوجی عدالتوں نے بھی 9 مئی کے مقدمات میں 85 افراد کو مختلف سزائیں دیں، جن میں 25 مجرموں کو 10 سال قید، اور 60 کو قید بامشقت شامل ہے۔ بعد ازاں کورٹس آف اپیل نے 19 مجرموں کی سزا میں معافی دی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہر مقدمے کی الگ قانونی تشخیص کی گئی۔
سزاؤں کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کا مؤقف یہ ہے کہ یہ فیصلے سیاسی بنیادوں پر دییے گئے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد بچھر نے انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ فیصلے میں آئینی ضوابط کا لحاظ نہیں رکھا گیا اور یہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ کو حکومتی تابع بنانے کا نتیجہ ہے۔ یہ الزامات اگرچہ سیاسی بنیاد پر دئیے گئے فیصلوں کی بحث کو جنم دیتے ہیں، مگر اس پر غور کرنے کے لیے عدالتی شفافیت اور ٹرائل کے طریقہ کار کو دیکھا جانا چاہیے۔ 61 گواہوں کی شہادتیں ریکارڈ کیا جانا اس بات کا واضح ثبوت اور اظہار ہے کہ ٹرائل محض سیاسی انتقام نہیں بلکہ ثبوت و شواہد کی بنیاد پر کیا گیا۔ اس کے باوجود اپیل کا حق ہر شہری کو حاصل ہے، اور اگر ان فیصلوں میں واقعی کوئی قانونی سقم یا کمزوری ہوئی تو اعلیٰ عدالتیں اسے ضرور درست کریں گی۔
عدالتی فیصلوں کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی کے رہنما سینیٹر اعجاز چودھری، ایم این اے احمد چٹھہ اور ایم پی اے احمد خان بچھر کی نااہلی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ آئین کے آرٹیکل 63(1)(h) کے تحت، مجرم قرار دئیے گئے افراد عوامی نمائندگی کے اہل نہیں رہتے۔ یہ قانونی اقدام بھی اسی اصول کا تسلسل ہے کہ جرم کی سزا ہوتی ہے، اور سزا یافتہ افراد کو سیاسی میدان میں نمائندگی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
9 مئی کے واقعات نے اس امر کو واضح کر دیا کہ سیاسی جماعتیں اپنے کارکنان کو پُرامن احتجاج کی تربیت دینے میں ناکام رہیں۔ قیادت کا کام ہوتا ہے کہ وہ احتجاج کو پُرامن رکھے، جذبات کو قابو میں رکھے اور اپنے کارکنوں کو آئینی حدود سے تجاوز نہ کرنے دے۔ اگر احتجاج کی آڑ میں قومی اداروں پر حملے کیے جائیں، تو اس کی ذمہ داری محض کارکنوں پر نہیں بلکہ قیادت پر بھی عائد ہوتی ہے۔
سیاسی کارکن یا رہنما کے طور پر ہمیں آزادی اظہار کے حق اور ریاستی بغاوت کے درمیان فرق کو سمجھنا ہو گا۔ تنقید اور احتجاج جمہوریت کی بنیاد ہیں، مگر اس کی حدود آئین متعین کرتا ہے۔ سرکاری املاک کو جلانا، فوجی تنصیبات پر حملے کرنا، یا عدالتوں اور سرکاری دفاتر پر دھاوا بولنا اظہارِ رائے نہیں بلکہ بغاوت ہے۔ دنیا کے کسی قانون میں اس کی گنجائش نہیں۔ بعض حلقے ان فیصلوں کو سیاسی مفاہمت کے مخالف سمجھتے ہیں، مگر قانون کی عمل داری کو کسی سیاسی مفاد پر قربان نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ریاست صرف سیاسی دباؤ کی بنیاد پر ایسے عناصر کو معاف کرتی ہے جو ریاستی اداروں پر حملے میں ملوث ہوں، تو یہ ایک خطرناک نظیر قائم کرے گا۔ سیاسی مفاہمت کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ قانون شکنوں کو معافی دی جائے۔
9 مئی کا واقعہ ایک سبق ہے کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی جائے تو پُرتشدد رجحانات پورے نظام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ:
تمام سیاسی جماعتیں پُرامن احتجاج کے ضابطہ اخلاق پر متفق ہوں۔
سیاسی کارکنوں کو آئینی حدود اور ریاستی علامات کے احترام کی تربیت دی جائے۔
عدالتی فیصلوں کو سیاسی عینک سے دیکھنے کی بجائے آئینی زاویے سے سمجھا جائے۔
اعلیٰ عدلیہ ان کیسز کا ازخود نوٹس لے کر انصاف کے تمام تقاضے پورے کرے۔
قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے، جمہوریت کی روح قانون کی عمل داری اور سب کے لیے یکساں انصاف میں پوشیدہ ہے۔ 9 مئی کے واقعات نے جہاں ہماری ریاستی کمزوریوں کو بے نقاب کیا، وہیں عدالتی کارروائی نے قانون کے احترام کی نئی مثال قائم کی ہے۔ کسی بھی جماعت کو احتجاج کا حق حاصل ہے، مگر جب احتجاج قانون کی حدود سے باہر نکل کر تشدد میں تبدیل ہو جائے، تو ریاست کو خاموش تماشائی نہیں رہنا چاہیے۔ جرم، جرم ہے خواہ وہ کسی سیاسی جماعت کا کارکن کرے یا کسی عہدے دار کا حامی ہو۔ اگر ہم ایک منصفانہ، پُرامن اور باوقار ریاست چاہتے ہیں تو قانون کو ہی اپنا حاکم بنانا ہو گا۔