Thu, September 17, 2026

ہائے رے بڑھاپا

ہائے رے بڑھاپا

کبھی کبھی دل کرتا ہے کہ سیاست سے ہٹ کر قارئین سے اپنے دل کی باتیں بھی کر لیا کریں ۔ آج کا کالم بھی غیر سیاسی ہے لیکن اس کے عنوان سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ خدا نخواستہ ہم بوڑھے ہو گئے ہیں بس کچھ گھٹنے ٹخنے اور کمر میں درد کی وجہ سے اب نہ تو زیادہ چلا جاتا ہے اور نہ ہی زیادہ دیر کھڑے رہ سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ دو بار ہارٹ اٹیک ہو چکا ہے اور سانس پھولنے لگا ہے ۔ دونوں آنکھوں میں موتیاکا آپریشن ہو چکا ہے ۔ پتا بھی کافی تکلیف دینے لگ گیا تھا تو اسے نکلوائے ہوئے تو بارہ سال سے زائد وقت گذر چکا ۔ بالوں میں چاندی کافی زیادہ آ چکی ہے لیکن یہ تمام امراض تو جوانوں میں بھی ہوتے ہیں لہٰذا ہم اپنے آپ کو بوڑھا کیوں سمجھیںلیکن پتا نہیںجو بھی ملتا ہے وہ ہمیں بڑے ادب سے ” بزرگو “ کہہ کر مخاطب کرتا ہے ۔ لوگ اپنی طرف سے تو عزت دیتے ہیں لیکن کبھی ان بزرگوں سے بھی پوچھ لیا کریں کہ جب لوگ انھیں بزرگو کہہ کر عزت دیتے ہیں تو ان کے دل ناتواں پرکیا گذرتی ہے ۔ ویسے یہ کم بخت بڑھاپا بھی بڑی عجیب بلا ہے یعنی آپ فرق دیکھیں کہ جوانی میں جب کوئی نیا محلے دار آتا اور اس کے گھر سے کوئی خوب صورت لڑکی آپ کے گھر کھانے دینے آتی تو اسے دیکھ کر ایک لمحہ کی قلیل مدت میں کیا کیا خواب تھے جن میں رنگ نہیں بھرتے تھے حتیٰ گھر والوں سے دعا سلام اور رخصت ہونے کی مختصر مسافت میں ہم اس کے ساتھ شادی کر کے گھر بسا کر ہنسی خوشی کرائے کے مکان میں رہنا بھی شروع کر دیتے تھے لیکن ہائے رے یہ کم بخت بڑھاپا چلو جواں سال لڑکی نہ سہی کسی ہم عمر کو دیکھنے سے پہلے سو بار سوچنا پڑ جاتا ہے کہ دنیا کیا کہے گی بلکہ دنیا تو بعد کی بات ہے بہو بیٹیاں کیا سوچیں گی اور ان کے سوچنے سے پہلے ہی اکثر تہذیب و ادب سے مالا مال خواتین ” بھائی جان “ سلام کہہ کر سارے جوش اور ولولے کا تیا پانچہ کر دیتی ہیں حالانکہ ہم اکثر سوچتے ہیں کہ بھائی جان کی بجائے اگر صرف ” جان “ کہہ دیں تو تب بھی ہمارے خیال میں کوئی حرج نہیں ۔ ایک یہ بڑھاپے کی سوچ ہے جس میں انسان کچھ سوچنے سے پہلے ہی شکست تسلیم کر لیتا ہے اور ایک جوانی تھی کہ درجنوں حسین مہ جبینوں کو دیکھا تو دنیا کی پروا کیا کرنا تھی وقت پڑنے پر ماں باپ سے بھی بغاوت کا حوصلہ پیدا ہو جاتا تھا ۔ مرزا غالب نے شاید کسی بے روز گار نوجوان جسے ملازمت مل گئی تھی اور وہ بہت زیادہ مصروف ہو گیا تھا اسے ذہن میں رکھ کر کہا ہو گا کہ
 جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن 
بیٹھے رہےںتصور ِ جاناں کئے ہوئے 
ورنہ تو اب بڑھاپے میں فرصت ہی فرصت ہے لیکن کوئی جاناں نہیں اور جو جاناں تھی وہ اب اتنی پھیل چکی ہے کہ تصور میں پوری ہی نہیں آتی ۔
یہ شرف بھی جوانی کو ہی حاصل ہیں کہ وہ انسان کو انقلابی بنا دیتی ہے ۔ کبھی آپ نے یہ سنا ہے کہ کسی بچے کے والدین نے ایک انتہائی خوب صورت لڑکی سے اس کا رشتہ طے کیا ہو اور جوان لڑکا کہے کہ ” ابا حضور خوب صورتی ہی ہر چیز نہیں ہوتی بلکہ اصل تو خاندانی شرافت ہوتی ہے اور پھر امی جان آج تک ہمارے خاندان میں سے کسی نے غیر برادری میں شادی کی ہے “ ۔ اس قسم کے فرسودہ خیالات اور جلے کٹے جملے ہمیشہ بڑھاپے میں جوان اولاد کو ہی کہے جاتے ہیں ۔ یہ انقلابی سوچ صرف کاروبار عشق تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ایام جوانی میں جیب میں پھوٹی کوڑی بھی نہیں ہوتی تھی تو پھر بھی پریشانی کو قریب نہیں پھٹکنے دیتے تھے اور نوابوں کی طرح بے فکر ہو کر رات سونے سے پہلے کاروبار بھی شروع کر دیتے تھے اور صبح تو بڑی دور کی بات ہے آنکھ لگنے سے پہلے ہی کاروبار کو ترقی دیتے ہوئے ملٹی نیشنل سطح تک پہنچا کر کم از کم دو کنال کی کوٹھی میں تین گاڑیاں اور چار ملازم رکھ کر سوتے تھے لیکن بڑھاپے میںملٹی نیشنل تک جانا تو دور کی بات ہے عزیز و اقارب میں غمی خوشی تک چلے جائیں تو بڑی بات ہے ۔
دنیا چونکہ کسی کا دل نہیں توڑتی اس لئے اس نے بوڑھوں کی حوصلہ افزائی کے لئے بھی کچھ الفاظ رکھے ہوئے ہیں اور ان میں سب سے زیادہ جس لفظ سے بیچارے بوڑھوں کو بیوقوف بنایا جاتا ہے وہ یہ کہ جناب ” تجربہ “ کا تو کوئی توڑ نہیں ہے اور یہ جس تجربے کا ڈھنڈورا پوری دنیا میں پیٹا جاتا ہے اس تجربہ کو تو اس کی اپنی اولاد یہ کہہ کر رد کر دیتی ہے کہ ابو امی آپ کو کیا پتا ان معاملات کا ۔ یہ سب نئے دور کی باتیں ہیں آپ کے دور میں یہ سب ہوتا ہو گا آج یہ سب کچھ نہیں ہوتا ۔ پھر بھلا کوئی بتائے کہ اس تجربے کے ساتھ کوئی بوڑھا بیچارہ ہاکی یا کرکٹ کھیل سکتا ہے ۔ چلیں یہ بھاگ دوڑ کے کام رہنے دیں لیکن کیا یہ تجربہ بارش میں پیدل چلنے اور پھر اس میں بھیگنے کا شوق پورا کر سکتا ہے ۔ آخر میں صرف اتنا کہیں گے کہ یاروں یہ کیسا تجربہ ہے اور اس تجربہ کا کیا کرنا ہے کہ جو اس کائنات کی انمول ہستیاںوالدین کی اہمیت اور پہچان انھیں لحد میں اتارنے کے بعد کرتا ہے ۔ ایسا تجربہ نہیں چاہئے بلکہ ہماری تو بس اتنی سی خواہش ہے کہ 
یہ دولت بھی لے لو یہ شہرت بھی لے لو
بھلے چھین لو مجھ سے میری جوانی
مگر مجھ کو لوٹا دو بچپن کا ساون 
وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی 

ٹیگز: