Wed, September 16, 2026

ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
حالیہ دور میں کم و بیش 60 ہزار فلسطینیوں کو بے دردی سے شہید کرنے، لاکھوں کو معذور اور زخمی کرنے اور ایک بڑی تعداد کو بے گھر کرنے کے بعد اسرائیل کی ناجائز ریاست کے سرپرست اعلیٰ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بالآخرکہنا ہے کہ غزہ میں بھوک حقیقی ہے۔ غزہ میں اسرائیل کے فوجیوں کی جانب سے وحشت و بربریت اور درندگی کا ننگا ناچ ناچنے کے سبب حالات اس قدر مخدوش ہو چکے ہیں کہ ان کا درست اندازہ اور تصور بھی کرنا ممکن نہیں رہا۔ ایسے میں سکاٹ لینڈ میں برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر سٹارمر کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا وہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کے بیان سے متفق ہیں کہ اسرائیل پر غزہ میں بھوک کو ہوا دینے کا الزام جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نے جواب دیا، مجھے نہیں معلوم۔ وہ بچے بہت بھوکے لگ رہے تھے۔ یہ حقیقی بھوک لگ رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہاں پر کسی نے کوئی اچھا کام نہیں کیا، پوری جگہ برباد ہے۔ میں نے اسرائیل سے کہا کہ شاید انہیں اسے کسی اور طریقے سے کرنا چاہیے۔ یعنی موت کا کھیل جاری رکھو لیکن طریقہ بدل لو۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے سربراہ ٹام فلیچر کا کہنا کہ غزہ میں لوگوں کو بھوک سے بچانے کے لیے بڑی مقدار میں خوراک کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ صحت نے واضح کیا ہے کہ اگر غذائی مدد فراہم نہ کی گئی تو غزہ کی 20 لاکھ آبادی کے لیے زندگی موت سے بھی زیادہ بدتر ہو جائے گی۔ دنیا بھر میں ہونے والے سخت ترین احتجاج کے بعد اسرائیل نے 10،10 گھنٹوں کے وقفے سے جس میں اس نے اپنی افواج کے آپریشن بند کرنے کا دعویٰ کیا ہے، غذائی امداد کی ترسیل کی اجازت دئیے جانے کا عندیہ دیا ہے۔ اردن اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے غزہ میں غذائی امداد فضائیہ کی جانب سے گرائے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے تاہم غزہ میں موجود صحافیوں کا کہنا ہے کہ یہ دعوے محض سوشل میڈیا تک محدود ہیں، حقیقت میں غزہ کے باسیوں کو غذائی امداد نہ ہونے کے برابر ہے اور اگر صورتحال یوں ہی برقرار رہی تو ایک بہت بڑا انسانی المیہ جنم لے گا۔ ایسے موقع پر حکومت پاکستان کی جانب سے اسرائیلی بربریت اور غزہ فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف بھرپور موقف قابل ستائش ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاک بھارت حالیہ تنازع کے بعد پاکستان کے اسرائیل کے خلاف موقف میں مزید سختی آئی ہے۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے زور دیا ہے کہ فلسطینی ریاست کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دی جائے، غزہ میں مستقل جنگ بندی، خوراک کی فراہمی اور انسانیت کیخلاف جرائم کا سلسلہ بند کرایا جائے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یہ بات اقوام متحدہ میں اسرائیل اور فلسطین کے لیے دو ریاستی حل سے متعلق کانفرنس سے خطاب میں کہی۔ اس کانفرنس کی میزبانی سعودی عرب اور فرانس کر رہے ہیں۔ کانفرنس کے انعقاد کیلئے 8 دیگر ورکنگ گروپس نے بھی غیر معمولی اقدامات کیے ہیں جن میں پاکستان نے بھی ڈٹ کر حصہ لیا اور ٹھوس نتائج کیلئے تجاویز بھی پیش کیں۔ اسحاق ڈار نے دو ٹوک انداز میں واضح کیا کہ پاکستان کا اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ تاہم 
حکومت پاکستان کی جانب سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے اس واضح موقف کہ پاکستان کسی بھی صورت میں اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا، انحراف ناقابل فہم ہے۔ دو ریاستی حل کی بات کرنا گویا اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مترادف ہو گا۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح طور پر یہ کہا کہ پاکستان دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے اور فلسطینی سر زمین پر اسرائیلی قبضہ فوری ختم ہونا چاہیے۔ پاکستان کا اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ اس کانفرنس میں پاکستان اور سعودی عرب ایک ہی موقف اپنائے ہوئے نظر آئے۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے واضح کیا کہ جب تک فلسطینی ریاست قائم نہیں کی جاتی، اسرائیل سے تعلقات قائم نہیں کیے جائیں گے۔ انہوں نے یہ بات دو ریاستی حل سے متعلق اقوام متحدہ میں کانفرنس سے خطاب میں کہی جس کی میزبانی سعودی عرب اور فرانس کر رہے ہیں۔ سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیل فلسطین بحران میں دو ریاستی حل کو عملی جامہ پہنانا ہی علاقائی استحکام کی کنجی ہے اور یہ کانفرنس اس سمت میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو پاکستان اور سعودی عرب کا موقف گویا بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہے۔ امریکی سرپرستی میں اسرائیل اس وقت جس راستے پر چلتا نظر آتا ہے وہ فلسطینیوں کی مکمل تباہی کا راستہ ہے، اس راستے پر چل کر اسرائیل پورے مشرق وسطیٰ کو ایک ایسی بھیانک آگ میں دھکیلنے والا ہے جس میں بالآخر وہ خود بھی جل کر خاکستر ہو جائے گا۔ تل ابیب فلسطینیوں کی مکمل نسل کشی کر کے انکے پورے علاقے پر قبضے کا خواہش مند نظر آتا ہے۔ بات یہاں تک نہیں رُکے گی بلکہ وہ اس کے بعد ہمسایہ ممالک جن میں شام، اردن اور خاص طور پر مصر شامل ہیں قبضہ کرنا چاہے گا۔ یہ وہ راستہ ہے جو اسے گریٹر اسرائیل کی طرف لے کر جائے گا وہ کسی بھی صورت میں اس سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ۔ چنانچہ دو ریاستی حل اب محض ایک خواہش نا تمام ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کو اسرائیل کے خلاف خود کو تیار کرنا ہو گا۔

ٹیگز: