غزہ میں لاکھوں ماﺅں کی گودیں اجڑیں لاکھوں سہاگنوں کے سہاگ موت کے منہ میں چلے گئے لاکھوں بہنوں کے بھائی منوں مٹی تلے جا سوئے کسی کے آنسو نہ نکلے کسی نے آہوبکاہ نہ کی کسی نے اس نسل کشی پر آوازبلند نہ کی سوائے مذمت کرنے کے ؟ہر کوئی مذمت کرکے سمجھتا رہا میں نے حق ادا کردیا لیکن آخری اسرائیلی یرغمالی کی لاش نہ ملنے پر آسمان سر پر اٹھا لیا گیاساتھ ہی کہا گیا کہ امن کےلئے آخری اسرائیلی کی لاش ملنے تک امن معاہدہ آگے نہیں بڑھ سکتاپھر وہی ہواآخری اسرائیلی کی لاش مل گئی جسے اسرائیلی فوج نے شناخت کر لیا جس کے بعد تمام قیدیوں اور ہلاک شدہ اہلکاروں کی واپسی کا عمل مکمل ہو گیا،فوج نے ہلاک شدہ مغوی ران گویلی کی لاش اہل خانہ کے حوالے کر دی ہے ران گویلی اسرائیلی پولیس کی خصوصی پٹرولنگ یونٹ سام کا اہلکار تھا، جس کی عمر 24 برس تھی اور وہ سات اکتوبر 2023ءکو ہلاک ہوا تھا، اسرائیلی فوج کے مطابق اس کی لاش کو غزہ منتقل کر دیا گیا تھا ، دوسری جانب حماس نے اعلان کیا کہ تبادلے کا مرحلہ اب مکمل طور پر بند ہو چکا ہے اور تنظیم غزہ کی انتظامی کمیٹی کے کام میں سہولت فراہم کرنے اور اس کی کامیابی کے لیے اپنی وابستگی برقرار رکھے گی،ایک طرف امن کےلئے کوششیوں کا ڈھونگ اوردوسری طرف امریکی بحریہ کا ایک بڑا جنگی بیڑہ مشرقِ وسطیٰ کے پانیوں میں داخل ہو چکا ، جسے ایران پر دبا¶ بڑھانے کی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ،ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کی ایک بڑی بحری و فضائی قوت ایران کی جانب بڑھ رہی ہے، تاہم انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ طاقت کے استعمال کی نوبت نہیں آئے گی، پینٹاگون کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بنیادی طور پر امریکی افواج کے تحفظ کیلئے ہے، لیکن ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی کی مکمل صلاحیت موجود رہے گی جبکہ سب جانتے ہیں کہ خطے میں امریکی عزائم کیا ہیںکیونکہ امریکہ شروع سے مسلم ممالک کےخلاف اوریہودیت کے حق میں
ہے اوروہ کبھی بھی یہودیوں کےخلاف ایک لفظ بھی نہیں بولتا ورنہ غزہ میں جس طرح قتل عام کیا گیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں سب نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کےے رکھیں ادھر ایران نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی حملے کو مکمل جنگ تصور کیا جائے گا،متحدہ عرب امارات نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی فضائی، زمینی یا بحری حدود ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کیلئے استعمال نہیں ہونے دے گا، حالانکہ امریکا کا اہم فضائی اڈہ قطر میں ہے جہاں دس ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی دائیں بازو کے رہنما کھلے عام غزہ میں دوبارہ یہودی آبادکاری کی حمایت کر رہے ہیں، دسمبر 2024ءمیں اسرائیلی وزراءاور ارکانِ پارلیمان نے سدیروت سے بیت حانون اور بیت لاہیا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ 800 سے زائد یہودی خاندان وہاں بسنے کے لیے تیار ہیں اسی دوران اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے شمالی غزہ میں زرعی و فوجی اڈے قائم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اسرائیل غزہ سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانچیسکا البانیز کے مطابق جنگ کی آڑ میں میں اسرائیل غزہ کو تباہ، فلسطینیوں کو بے دخل اور علاقے پر دوبارہ قبضہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو امن معاہدے کی دھجیاں اڑانے کےلئے کافی ہے جبکہ ایران پر امریکی حملے کی صورت میں عرب امارات کا کہنا ہے کہ ایران پر حملے کیلئے اپنی فضائی حدود، زمین یا سمندری حدود استعمال نہیں ہونے دینگے، متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ یو اے ای اپنی فضائی حدود، زمینی علاقے یا سمندری پانیوں کو ایران کے خلاف کسی بھی فوجی حملے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور نہ ہی ایسی کسی کارروائی میں لاجسٹک مدد فراہم کرے گا یہ اجھی بات ہے کہ عرب امارات آنکھیں کھلی رکھ رہا ہے اور وہ ایک مسلم ملک کےخلاف جارحیت نہیں چاہتے اگر عرب ممالک اس پر قائم رہیں تو کوئی مضائقہ نہیں کہ ٹرمپ کو ایران پر حملہ کرتے وقت کئی بار سوچنا پڑے گا اور اگر وہ غزہ میں قتل عام کی طرح خاموش رہے تو وینزویلا جیسا واقعہ کسی اور ملک میں بھی ہو سکتا ہے حماس نے جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے میں غیرمسلح ہونے کے لیے ثالثوں کے سامنے نئی شرط رکھ دیں ہیں واضح رہے کہ حماس اب بھی غزہ کے تقریباً نصف علاقے پر عملی کنٹرول رکھتی ہے اور حماس چاہتی ہیں کے اس سے سرکاری ملازمین اور اہلکار نئی انتظامیہ میں شامل ہوں اب دیکھنا یہ ہے کہ طاغوت کی مکاری یوکرین کی طرح حماس کو بھی اپنے جال میں پھنسا کر اپنے مقاصد حاصل کرتی ہے یا پھر کوئی نئی چال چل کرحماس کو غیر مسلح کرکے غزہ میں مرضی کے بندے لاکرجلتی پر تیل کا کام کرتی ہے غزہ کے نام پر بورڈ آف پیس جس کی لاٹھی اس کی بھینس کی عملی شکل ، امن کے نام پراپنی مرضی تسلط کرنے کا منصوبہ ہے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جس قرارداد 2803 کا حوالہ دیا جارہاہے کہ اس کے تحت ہی بورڈ کا قیام عمل میں آیا اس میں چین اور روس کا ووٹنگ میں حصہ نہ لینا، فرانس کی مخالفت سمیت بعض یورپی ممالک کیساتھ دیگر ممالک کا بھی فاصلہ اختیار کرنا خود نہ صرف اس فورم پر سوال اٹھا رہاہے بلکہ سامراجی صدر کا تاحیات اس فورم کا چیئرمین رہنا تمام اختیارات کیساتھ ویٹو پاور اپنے پاس رکھنا جس کی لاٹھی اس کی بھینس کی عملی مثال ہے ، اب واضح ہورہاہے کہ اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی مرکزیت رکھنے والے ادارے کو پہلے فنڈز روکنے کی دھمکیا ں اور اب اس کے مساوی نظام اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں سامراج کی تاریخ انسانیت کے خون سے لت پت ہو جس کے ہاتھوں پر عراق، افغانستان، شام ، فلسطین اور لبنان کا خون ہو اس سے کیسے امن کی توقع بھی کی جاسکتی ہے مسئلہ فلسطین سے متعلق پاکستان کی واضح و دوٹوک پالیسی نہ صرف رہی بلکہ یہ مسئلہ فلسطین اساس پاکستان ہے ، اس نام نہاد امن بورڈ میں شمولیت نہ صرف تشویشناک بلکہ سفارتی و معاشی مجبوری کے سوا کچھ نہیں خیر اب وقت ہی بتائے گا کہ غزہ امن معاہدہ کس قدر کارگر ثابت ہوگا لیکن سوفیصد کامیابی نظر نہیں آتی کیونکہ امریکہ اوریہودی لابی چال بازہے مکارہے ان سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔