Wed, September 16, 2026

فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھارت کا ایک اور مکروہ منصوبہ بے نقاب ہوگیا

فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھارت کا ایک اور مکروہ منصوبہ بے نقاب ہوگیا

اسلام آباد :  پاکستان کے اعلیٰ سیکیورٹی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت ایک اور خطرناک اور مذموم منصوبے پر عمل پیرا ہے، جس کے تحت 2003ء سے بھارتی جیلوں میں قید 56 بے گناہ پاکستانی شہریوں کو جھوٹے "فالس فلیگ" آپریشنز کا نشانہ بنانے کی سازش کی جا رہی ہے۔ اس خطرناک منصوبے کے ذریعے بھارت نہ صرف علاقائی امن کو داؤ پر لگا رہا ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی بھی کر رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق زیرِ حراست پاکستانی شہریوں میں اکثریت ان ماہی گیروں اور عام شہریوں کی ہے جو یا تو غلطی سے لائن آف کنٹرول عبور کر بیٹھے تھے یا ماہی گیری کے دوران بھارتی حدود میں داخل ہو گئے تھے۔ ان قیدیوں میں محمد ریاض (1999)، عبداللہ مکی (2002)، تفہیم اکمل ہاشمی (2006)، ظفر اقبال (2007)، نوید الرحمن (2013)، سجاد بلوچ (2015)، محمد عاطف (2016)، عبدالحنان (2021)، محمد نعیم بٹ (2003) اور دیگر شامل ہیں، جنہیں غیر قانونی طور پر قید میں رکھا گیا ہے۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسیاں ان قیدیوں پر تشدد کے ذریعے جھوٹے بیانات دلوانے یا انہیں جعلی مقابلوں میں شہید کر کے پاکستان کو بدنام کرنے کا منصوبہ رکھتی ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستانی شہری ضیاء مصطفیٰ کو 2003 سے غیرقانونی حراست میں رکھنے کے بعد 2021 میں ایک جعلی مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اسی طرح محمد علی حسن کو 2006 میں گرفتار کر کے 2022 میں شہید کر دیا گیا۔

بھارت کی جانب سے ایک بار پھر "بالاکوٹ طرز" کا جعلی بیانیہ تیار کر کے مبینہ دہشتگرد کیمپوں پر کارروائی کا جواز گھڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو نہ صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ میں اضافہ کر سکتی ہے بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی شدید خطرہ ہے۔

پاکستانی حکام نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں اور ان بے گناہ قیدیوں کی رہائی کے لیے فوری اقدامات کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

ٹیگز: