پاکستان میں ہر سال سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے خرچ کر کے ہزاروں ڈاکٹر تیار کیے جاتے ہیں، یہ وہ سرمایہ ہے جو نہ صرف حکومت نے تعلیم، ہسپتال، لیبارٹریز اور فیکلٹی پر لگایا بلکہ ایک بڑے قومی انسانی وسائل کے حصے کے طور پر ملک کی صحت کی ضروریات کے لیے مختص کیا گیا، ایک طالب علم کی میڈیکل تعلیم پر حکومت تقریباً پانچ سے چھ لاکھ روپے سالانہ خرچ کرتی ہے اور پانچ سالہ MBBS پروگرام کے دوران یہ مجموعی خرچ تقریباً ستائیس سے اٹھائیس لاکھ روپے بنتا ہے، اس میں کلاس رومز، ہاسٹل، تدریسی ہسپتال، کلینیکل تربیت، آلات اور فیکلٹی کی تنخواہیں شامل ہیں، مختصراً ہر ڈاکٹر محض ایک ڈگری نہیں بلکہ ایک بڑا قومی سرمایہ ہے۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ہر سال ان میں سے کچھ ڈاکٹر CSS کے امتحان میں شریک ہو جاتے ہیں اور سرکاری افسر کے عہدے حاصل کر لیتے ہیں۔ FPSC کی فائنل لسٹیں تعلیمی قابلیت کے حوالے سے تفصیل نہیں دیتیں لیکن عمومی اندازے اور تجزیاتی رپورٹوں کے مطابق، پچھلے پانچ سال میں ہر سال تقریباً دس سے بیس ڈاکٹر CSS پاس کر کے مختلف سرکاری خدمات جیسے DMG، پولیس، کسٹمز اور دیگر انتظامی عہدوں پر تعینات ہوتے ہیں، یہ تعداد ہر سال کل کامیاب امیدواروں کے صرف دو سے چار فیصد کے برابر ہے، مگر چونکہ ہر ڈاکٹر پر حکومت نے بھاری سرمایہ لگایا ہے، اس لیے اس رجحان پر سنجیدگی سے غور کرنا ضروری ہے۔ یہ مسئلہ صرف اعداد و شمار کا نہیں بلکہ پالیسی اور منصوبہ بندی کا ہے، ایک طرف حکومت لاکھوں روپے خرچ کر کے ڈاکٹر تیار کرتی ہے تاکہ وہ ملک کے صحت کے شعبے میں خدمات فراہم کریں، اور دوسری طرف وہی ڈاکٹر انتظامی یا غیر متعلقہ شعبوں میں تعینات ہو جاتے ہیں، اس کے نتیجے میں نہ صرف قومی سرمایہ ضائع ہوتا ہے بلکہ صحت کے شعبے میں خدمات حاصل کرنے کے لیے متبادل امیدوار محروم رہ جاتے ہیں، ایک اور پہلو یہ ہے کہ میڈیکل کالجوں
میں خواتین کی تعداد ساٹھ سے ستر فیصد تک ہے، مگر عملی میدان میں وہ اپنی خدمات اتنی متواتر فراہم نہیں کرتیں جتنا کہ مرد امیدوار، اس تضاد کی وجہ سے سرکاری سرمایہ مزید غیر متوازن ہو جاتا ہے اور یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا میڈیکل کالجز میں داخلے اور تربیت کے نظام میں پیشہ ورانہ تسلسل کے امکانات کو بھی مدنظر نہیں رکھا گیا۔ اس صورتحال کا حل صرف تنقیدی سوچ سے نکل کر اصلاحی اقدامات کرنے میں ہے، سب سے پہلے لازمی تعیناتی پالیسی لاگو کی جا سکتی ہے، ایسے ڈاکٹر جو سرکاری سکالرشپ یا مکمل فری میڈیکل تعلیم حاصل کر کے آتے ہیں، ان کے کم از کم پانچ سے دس سال صحت کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے کی پابندی ہونی چاہیے، اس سے نہ صرف انسانی وسائل کی کمی کو پورا کیا جا سکے گا بلکہ قومی سرمایہ بھی ضائع نہیں ہو گا، دوسرا، میڈیکل کالجوں کی نشستوں اور داخلے کے نظام کو مستقبل کی صحت کی ضروریات کے مطابق بہتر منصوبہ بندی کے تحت ڈیزائن کیا جانا چاہیے، اگر کسی صوبے یا ضلع میں صحت کے شعبے میں ڈاکٹروں کی کمی ہے تو وہاں زیادہ نشستیں دی جائیں اور ان کی وہاں تعیناتی لازمی ہو اس سے نہ صرف مقامی ضرورت پوری بلکہ CSS یا دیگر انتظامی شعبوں میں جانے والے ڈاکٹروں کی تعداد میں کمی آئے گی، تیسرا، پوسٹ گریجویٹ تربیت اور کیریئر کے واضح راستے فراہم کیے جائیں تاکہ نوجوان ڈاکٹر اپنی تربیت اور مہارت کا صحیح استعمال صحت کے شعبے میں کر سکیں، تنخواہوں، مراعات، ترقی اور انتظامی اختیارات کی بہتر منصوبہ بندی سے ڈاکٹرز کی حوصلہ افزائی کرنا ہو گی کہ وہ اپنے متعلقہ شعبے میں قائم رہیں، چوتھا، CSS یا دیگر انتظامی خدمات میں جانے والے ڈاکٹروں کے لیے کوئی طریقہ کار وضع کیا جا سکتا ہے، جس سے صحت کے شعبے کو کوئی خاص نقصان نہ ہو، اس سے سرکاری سرمایہ ضائع نہیں ہو گا اور انسانی وسائل کی تقسیم منصفانہ ہو گی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ صرف بہتر تنخواہ یا مراعات کی وجہ سے ڈاکٹر عام طور پر CSS میں نہیں آتے، بلکہ کروفر، پروٹوکول، حاکمیت کے دبدبے اور بے حساب کرپشن زیادہ پُرکشش معلوم ہوتی ہے، ایک سرکاری افسر کی حیثیت سے نہ صرف اعلیٰ پروٹوکول ملتا بلکہ ترجیحی مراعات، سفری سہولیات اور حکومت کے اندر اثر و رسوخ کے مواقع بھی ملتے ہیں۔ اس لیے یہ رجحان محض مالی مراعات کا نہیں بلکہ طاقت، اثر و رسوخ اور غیر شفاف مواقع کی طرف ایک کشش کے باعث ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات وہ ڈاکٹر جو انتہائی محنت اور مہارت کے ساتھ اپنی میڈیکل تربیت مکمل کرتے ہیں، اپنے اصل شعبے یعنی صحت کے شعبے کو چھوڑ کر انتظامی یا پروٹوکول کی نوکریوں کی طرف راغب ہو جاتے ہیں، اس سے صحت کے شعبے میں کمی پیدا ہوتی ہے اور قومی سرمایہ ضائع ہو جاتا ہے، حکومت کو ایسے ڈاکٹرز پر کم از کم ابتدائی پانچ سال صحت کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے کی پابندی عائد کی جائے، اس کے ساتھ ساتھ انتظامی شعبوں کے لیے الگ اور شفاف راہیں متعین کی جائیں تاکہ انسانی وسائل کی تقسیم منصفانہ اور قومی سرمایہ محفوظ رہے۔ مسئلہ ڈاکٹرز کے CSS کرنے کا نہیں بلکہ منصوبہ بندی کی کمی، کروفر، حاکمیت، پروٹوکول اور بے حساب کرپشن کی وجہ سے پیدا ہونے والی کشش کا ہے۔ پاکستان کے صحت کے شعبے کی مضبوطی اور قومی سرمائے کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ سرکاری میڈیکل کالجوں کے فارغ التحصیل ڈاکٹر صحت کے شعبے میں تعینات ہوں، نشستوں کی منصوبہ بندی اور داخلے کا نظام مستقبل کی ضروریات کے مطابق ہو، پوسٹ گریجویٹ تربیت اور ترقی کے راستے واضح ہوں، انتظامی شعبوں میں جانے والے ڈاکٹرز کے لیے الگ اور شفاف راہیں بنائی جائیں، یہ اصلاحی اقدامات نہ صرف صحت کے شعبے میں بہتری بلکہ قومی سرمایہ کے زیاں کو بھی روکیں گے، ڈاکٹرز کی CSS ایک تنقیدی مسئلہ ہے، مگر یہ مسئلہ اصلاح کے ذریعے حل ہو سکتا ہے بشرطیکہ حکومت اور پالیسی ساز سنجیدگی سے اقدامات کریں۔