پاکستان میں اس وقت تقریباً تمام طبقات حکومت ، حکومتی پالیسیوں اور اہلکاروں سے شاکی نظر آتے ہیں جسے دیکھو وہ یا تو ملک سے بھاگنے کی تگ و دو میں ہے یا اپنا کاروبار سمیٹ کر خاموش زندگی جینے کی خواہش کو پال رہا ہے، اور اس بات کا حکومت کو شائد اندازہ نہیں ہو پار رہا یا اسے بتایا نہیں جا رہا۔ دوسری جانب ”حکومت خصوصاً پنجاب“ نے عوام کو ”کینڈے“ میں رکھنے کے لئے نت نئی فورسز بنانے پر زور دے رکھا ہے جبکہ ملکی خزانہ پرانے محکموں کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہی نہیں ہے اس پر مستزاد اس پر نئے ” لگژری“ محکموں کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ ایک محکمہ جس کا کام تجاوزات کا خاتمہ بتایا جا رہا ہے اسے اتنے اختیارات دے دیئے گئے ہیں کہ وہ غریبوں کی ریڑھیوں کو تو تہس نہس کر ہی رہا ہے ان بے چاروں کو کام کرنے جوگا بھی نہیں چھوڑ رہا بلکہ اسے کرایہ داری معاملات میں اندھا دھند ٹیکس لگانے کی بھی اجازت دے دی گئی ہے ۔ اللہ ہی خیر کرے۔
گزشتہ دنوں حکومت کی جانب سے ٹیکس لگانے اورو صول کرنے والے محکموں کو دیئے گئے اختیارات اور ان سے پیدا شدہ مشکلات کی داد رسی کے لئے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسری میں وفاقی ٹیکس محتسب ڈاکٹر آصف محمود جاہ کو مدعو کیا گیا جہاں ان کی زیر صدارت ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس ہوا جس سے اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس محتسب گذشتہ 4سال سے لوگوں کو ایف ٹی او کے بارے میں آگاہی دینے میں کوشاں ہیں۔ وفاقی ٹیکس محتسب نے ٹیکس دہندگان کو اعتماد اور عزت دی جس کے نتیجے میں گذشتہ سال کے اڑھائی ہزار کیسز کے مقابلے میں رواں سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران 23 ہزار شکایات آ چکی ہیں جس سے وفاقی ٹیکس محتسب پر عوام کے بڑھتے اعتماد اور ان کی شکایات کے ازالے کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ایوان صنعت و تجارت میں منعقدہ اجلاس میں وفاقی ٹیکس محتسب کی کارکردگی پر بریفنگ دیتے ہوئے ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے مزید کہا کہ ایف ٹی او لوگوں کو تیز اور سستا انصاف فراہم کرتے ہوئے صرف 34 دنوں میں عوامی شکایات کا ازالہ ممکن بنا رہا ہے۔ گذشتہ کچھ عرصہ میں 22.79 بلین کے ریفنڈ ٹیکس دہندگان کو ادا کرائے گئے۔ ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر ابوذر شاد، سینئر صحافی و تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی اور دیگر نے تاجروں اور حکومت کے درمیان اعتماد سازی کو فروغ دینے کیلئے جامع حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے وفاقی ٹیکس محتسب کے کردار کو مزید موثر بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ تقریب میں ایڈوائزر وفاقی ٹیکس محتسب باسط خان، ڈی جی پیمرا اکرام برکت، لاہور ٹیکس بار کے صدر محمد آصف، مرزا کاشف انور، جاوید اقبال کارٹونسٹ، وفاقی ٹیکس محتسب کی ایڈوائزر عدیلہ رحمان، سمیرا نذیراور دیگر شریک تھے۔
اس موقع پر لاہور چیمبر کے صدر او دیگر تاجروں نے وفاقی ٹیکس محتسب جناب آصف جاہ کے سامنے اپنی گزارشات رکھتے ہوئے کہا کہ یہ جو نیا ”قانون گرفتاری“ اور انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 37AA، بینک ٹرانزیکشنز پر غیر منصفانہ ٹیکسز اور پنجاب کی مجوزہ کاروبار دشمن لیبر پالیسوں پر نظر ثانی کی جائے ورنہ پاکستان کا تاجر طبقہ دلبرداشتہ ہو کر یا تو کاروبار کو خیر آباد کہہ دے گا یا اپنا سرمایہ کسی دوسرے ملک منتقل کر دے گا ۔صدر لاہور چیمبر میاں ابوذر شادنے اس موقع پر خطاب کرے ہوئے کہا کہ کاروبار دشمن اقدامات کاروباری سرگرمیوں کو مفلوج کر دیں گے، بے روزگاری میں تیزی سے اضافہ ہوگا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔انہوں نے ایف بی آر حکام کو دی گئی غیر معمولی گرفتاری کی طاقت، تاجروں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک اور بغیر مشاورت کیے جانے والے معاشی فیصلوں کی شدید مذمت کی اور ان اقدامات کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ محض کسی ایک شخص یا شہر کا مسئلہ نہیں بلکہ 25 کروڑ عوام کے روزگار کا مقدمہ ہے۔ 2 لاکھ روپے کی ٹرانزیکشن پر بھاری ٹیکس ناقابلِ فہم اور ناقابلِ قبول ہے۔انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ 21 بین الاقوامی کمپنیاں پہلے ہی پاکستان میں اپنا آپریشن بند کر چکی ہیں جو کہ موجودہ کاروباری ماحول کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔میاں ابوذر شاد نے کہا کہ ایک طرف آئی پی پیز کو ایک ہزار ارب روپے بغیر ایک یونٹ بجلی پیدا کیے دئیے جارہے ہیں جبکہ کاروباری شعبہ پر ظلم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شق 37AA کے تحت ایف بی آر کو دیئے گئے اختیارات ناقابل قبول ہیں۔ میاں ابوذر شاد نے شق 37AA کو کاروباری طبقے کے خلاف ایک نیا ہتھیار قرار دیتے ہوئے اس کی سختی سے مخالفت کی۔ انہوں نے پنجاب کی مجوزہ لیبر پالیسی پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا جس میں گریجویٹی کی حد 50 سے کم کر کے 20 ملازمین پر لاگو کرنا اور ورکرز کی جانب سے محض زبانی دعویٰ کرنے پر صنعتکار کو فوری گرفتار کرنے جیسے خطرناک نکات شامل ہیں۔میاں ابوذر شاد نے کہا کہ اگر یہ پالیسی موجودہ صورت میں منظور ہو گئی تو صنعتیں مکمل طور پر بند ہو جائیں گی اس تقریب میں مختلف تجارتی و صنعتی ایسوسی ایشنز کے نمائندگان بھی موجود تھے۔
یہ امر انتہائی افسوس ناک ہے کہ دنیا کی پانچویں بڑی آبادی پر مشتمل مارکیٹ کو کیوں سرمایہ کار چھوڑ کر جا رہا ہے اور صرف مائیکرو سافٹ پر ہی کیا موقوف‘ گزشتہ چند سال کے اندر درجنوں بین الاقوامی تجارتی‘ کاروباری اور پیداواری کمپنیاں پاکستان چھوڑ کر جا چکی ہیں اور کئی مزید اس تیاری میں ہیں۔پٹرول کی سیلز اور مارکیٹنگ کی ایک ملٹی نیشنل کمپنی سمیت درجنوں بین الاقوامی کاروباری اور تجارتی کمپنیاں گزشتہ چند سال کے دوران اپنا کاروبار اور سرمایہ سمیٹ کر پاکستان سے جا چکی ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کو فوری طور پر کاروباری نمائندوں سے مشاورت کرتے ہوئے ان کے تحفظات دور کرنے چاہئیں اور اگر کوئی قانونی اصلاحات کرنا بھی ہے تو اس میں بھی کارباری برداری کی مشاورت حاصل کی جائے تاکہ ملک کا معاشی پہیہ چلتا رہے اگر پہیہ ہی رک گیا تو ملک کیسے چلے گا۔ غریب آدمی تو بھوک ننگ میں گزارا کر لے گا مگر یہ بیوروکریسی کی تعیشات اور اتنے بڑے بڑے محکمے کیسے شاہانہ لائف سٹائل سے زندگی گزاریں گے؟۔