” عام آدمی کی کوئی سنے گا؟“ یہ جملہ ہماری 78سالہ تاریخ میں ہمیشہ زیرِ بحث رہا ہے ۔ عوام کی آواز کی اہمیت اور اس کی شنوائی موجودہ دور کا بھی اہم سوال ہے۔ جب عام آدمی کی آوازفیصلہ ساز ایوانوں تک نہ پہنچے تو وہ مایوسی میں یہی کہتا ہے کہ غریب کی کوئی نہیں سنتا۔ پاکستان کو ان دنوں بہت سے مسائل اورنت نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔پاکستانی قوم کو کرپشن‘ مہنگائی‘ رشوت ستانی‘ بیروزگاری‘ توانائی کا بحران‘ افراط زر‘ چوربازاری‘ ٹیکسوں کی بھرمار جیسے بڑے مسائل درپیش ہیں۔تاہم ان سب مسائل میں سے مہنگائی ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے عام آدمی شدید متاثر ہوتا ہے۔ہمارے ہاں ہر دور میں مہنگائی سے عوام تنگ ہی نظر آئے ہیں۔ آپ ماضی کا کوئی بھی دور اٹھا کر دیکھ لیں عوام مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہی نظر آتے تھے لیکن حالیہ چند برسوں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں جتنی تیزی سے اوپر کی طرف گئی ہیں اس کی مثال ماضی میںنہیں ملتی ہے۔چند برس قبل تک اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں چند روپوں کا اضافہ بھی سال بعد ہی ہوتا تھا لیکن اب آئے روز اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں ۔آپ بازار چلے جائیں دکاندار من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں ‘ حالات یہ ہو چکے ہیں کہ ایک ہی چیز کا مختلف بازاروں اور مارکیٹوں میں مختلف ریٹ ہے۔ دکاندار سے اگر کسی چیز کی قیمت معلوم کرو تو وہ کہتا ہے کہ یہ آج کا ریٹ ہے کل کا معلوم نہیں کتنا زیادہ ہوجائے۔
ویسے تو مہنگائی نے ہر طبقہ ہائے فکر کے لوگوں کو متاثر کیا ہے لیکن تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے ‘ اس کی آمدن اس حساب سے نہیں بڑھی جس حساب سے چیزوں کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ اب تو عام آدمی کیلئے جسم اور روح کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہو چکا ہے۔ آپ کسی ریڑھی بان‘چھابڑی والے‘ مزدور‘ چھوٹے دکاندار اور فیکٹریوں میں کام کرنے والے افراد سے ملیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ عام آدمی کس قدر مشکلات میں گھر چکا ہے۔ آج بھی متعدد فیکٹریوں میں حکومت کی جانب سے نافذ کردہ کم ازکم اجرت نہیں دی جاتی بلکہ بیس پچیس ہزار پر ہی لیبر کام کر رہی ہے۔ تو کبھی آپ نے سوچا کہ مزدور اور فیکٹری میں کام کرنیوالا ورکر بھی گوشت پوست کا انسان ہے اور وہ بیس پچیس ہزار میں گھر کا خرچہ کیسے چلا رہا ہے؟ ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر پالیسیاں بنانے والے عام آدمی کے کرب کا اندازہ ہی نہیں کر سکتے۔ جب گھر میں کھانے کو کچھ نہ ہو اور بچے فاقوں پر مجبور ہو جائیں تو اپنے بچوں کو بھوک سے نڈھال دیکھ کر ایک باپ کی ذہنی کیفیت کا اندازہ حکومتی و اپوزیشن ارکان شاید تصور ہی نہیں کر سکتے ہیں۔ میرا سوال صرف یہ ہے کہ کیا پالیسی ساز اداروں میں اہم عہدوں پر کوئی بھی ایسا فرد موجود نہیں جو عام آدمی کی مشکلات کا احساس کر سکے۔ کیا دردِ دل رکھنے والے افراد سے یہ ادارے خالی ہو چکے ہیں؟کیا غریب کیلئے آواز اٹھانے والا کوئی نہیں ہے؟ غالب گمان یہی ہے کہ ایسا بالکل نہیں ہے لیکن مجھے تو ایسا ہی لگ رہا ہے کہ ان لوگوں کے دل پتھر اور وہ اپنے مفادات کے اس قدر تابع ہو چکے ہیں کہ اپنے آپ کے خول سے باہر نکلنا ہی نہیں چاہتے ہیں۔ ایوانوں میں بیٹھے اراکین اور پالیسی ساز عام آدمی کو اپنی طرح کا نہیں لیکن انسان تو سمجھیں ‘ ان کے سینے میں بھی دل ہے ان کے بچے بھی فرمائشیں کرتے ہیں ۔ آپ کے بیانات ان کا پیٹ یا ان کے بچوں کی فرمائشیں پوری نہیں کر سکتے ہیں۔ عام آدمی کی مشکلات کا ادراک کیجیے ، بھاری بلوں نے اب تو اپرمڈل کلاس طبقہ کی بھی چیخیں نکلوا دی ہیں۔صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ کروڑوں کی تعداد میں ایسے سفید پوش پاکستانی ہیں جن کی دسترس سے بنیادی اشیائے ضروریہ بھی تیزی سے باہر ہورہی ہیں ، یہ طبقہ کسی کے سامنے ہاتھ بھی نہیں پھیلا سکتا ہے۔ اس نے مکان کا کرایہ بھی دینا ہے ، بجلی اور گیس کے بل بھی ادا کرنا ہیں ، بچوں کے تعلیمی اخراجات بھی ضروری ہےں( یہاں اعلیٰ اور معیاری تعلیم کا ذکر نہیں کر رہا کہ وہ تو عام آدمی کی پہنچ سے بڑی دور ہو چکی ہے) ، خدانخواستہ گھر میں کوئی بیمار ہو جائے تو اس کیلئے دوائی کا انتظام بھی کرنا ہے، عزیزواقارب کی خوشی و غمی میں بھی شریک ہونا ہے، گھر میں کوئی مہمان آجائے تو خاطر داری بھی کرنا ہے، روزگار کے مقام تک پہنچنے کیلئے سفری اخراجات بھی ادا کرنا ہیں۔محدود آمدن میں وہ یہ سب کیسے کرے؟ اب بھی اگر سب اچھا کی رپورٹ دی جارہی ہے تویہ رویہ درست نہیں ہے۔
اشرافیہ اور بااختیار طبقہ کے لوگ اگر دو کمروں پر مشتمل کچے گھر میںچلے جائیں آپ کو وہاںغربت سسکیاں لیکر فریاد کرتی نظر آئے گی تو شاید ان کے دل پسیج جائیں ۔ آپ کسی بڑے شہر میں نئی بستیوں کی طرف جائیں تو آپ کو عالیشان محل نظر آئیں گے ۔ غربت کے مارے افراد جب اہل ثروت کے یہ ٹھاٹھ باٹھ دیکھتے ہوں گے تو ان کے دل پر کیا گزرتی ہو گی؟یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ماضی میں عوام کو جس ”تبدیلی“ کا خواب دکھایا گیا تھا وہ محض سراب ثابت ہوا بلکہ اس دورِ حکومت میں بھی جس تیزی کے ساتھ بنیادی اشیاءکی قیمتوں میں اضافہ ہوا وہ ناقابل بیان ہے ۔ مریم نواز نے جب سے وزارتِ اعلیٰ کا منصب سنبھالا ہے وہ اپنے تئیں کوشش کر رہی ہیں کہ غریب کے مسائل حل ہوں، انہوں نے اس اہم مسئلہ کی طرف توجہ دی ہے تاہم اب بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ مارکیٹوں میں بیٹھے مافیاز عوام کی جیبوں پر آئے روز ڈاکے ڈال رہے ہیں ان کا خاتمہ ازحد ضروری ہے۔ میرا یہ سطور لکھنے کا مقصد صرف اور صرف عوام الناس کو درپیش مسائل کی طرف حکومتِ وقت کی توجہ دلوانا ہے جس کی میں گاہے گاہے کوشش کرتا رہتا ہوں۔ عوام کی قوتِ برداشت جواب دے رہی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے۔ اس وقت عوام کو مہنگائی کے جس سیلاب کا سامنا ہے اس کے آگے بند نہ باندھا گیا تو آنے والے وقت کا تصور کر کے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ خدارا عام آدمی کی آواز سنیں اور اس کے مسائل حل کریں۔