Wed, September 16, 2026

آرمی چیف کا سچ اور عام آدمی

 آرمی چیف کا سچ اور عام آدمی

حکومت بلوچستان نے ریاست مخالف پروپیگنڈے اور سرگرمیوں میں ملوث سرکاری ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے تمام کمشنرز اور ضلعی افسران کو احکامات جاری کیے ہیں کہ ایسے ملازمین کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی فرد تنخواہ سرکار سے لے اور حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کر کے اپنی ذاتی رائے کو حکومتی پالیسیوں پر فوقیت دے، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے متنبہ کیا ہے کہ بلوچستان کے ہر تعلیمی ادارے میں قومی ترانہ لازمی پڑھا اور پاکستان کا قومی پرچم لہرایا جائیگا جن اداروں کے سربراہان ان احکامات کی تعمیل نہیں کریں گے انہیں عہدہ چھوڑنا ہو گا۔ امن و امان کی بحالی اولین ترجیح صوبے میں کوئی شاہراہ بند نہیں ہو گی ہر ضلعی افسر اپنے علاقے میں ریاستی رٹ قائم کرنے کا ذمہ دار ہے ریاستی احکامات پر عملدرآمد ہر سرکاری افسر اور اہلکار کی آئینی ذمہ داری ہے جو افسر یا ملازم حکومت کی پالیسی کے مطابق کام نہیں کر سکتا وہ رضا کارانہ طور پر عہدہ چھوڑ دے ایک طویل عرصے سے اسٹیبلشمنٹ کے لیے کام کرنے والے سرفراز بگٹی نے یہ باتیں کر کے اعتراف کر لیا ہے کہ صوبے میں اس وقت ریاستی اتھارٹی فارغ ہو چکی ہے، دہشت گرد ہی نہیں بلکہ سرکاری ملازمین، طلبہ اور مقامی آبادی کی اکثریت بے قابو ہو چکی ہے۔ موصوف ایک سال سے وزیر اعلیٰ ہیں۔ اس سے پہلے طویل نگران دور میں وفاقی وزیر داخلہ رہے لیکن کوئی تیر نہیں چلایا، یہ توقع کیسے رکھی جا سکتی ہے کہ اب کچھ کر لیں گے۔ ادھر کے پی کے میں حالات بدترین ہیں، یہ بات ریکارڈ پر آ چکی کہ وزیر اعلیٰ گنڈا پور صوبائی سکیورٹی حکام کو کہہ رہے ہیں کہ وہ ٹی ٹی پی کے ساتھ نہ الجھیں ورنہ دہشت گردوں کے ہاتھوں پی ٹی آئی کا بھی وہی حال ہو گا جو ایک زمانے میں اے این پی اور پیپلز پارٹی کا ہوا تھا۔ ایک طرف تو امن و امان کی سنگین صورتحال ہے تو دوسری جانب پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت پر دباؤ ہے کہ عمران خان کی رہائی کے لیے ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کرے، اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے درمیان پھنسی ایک ایسی حکومت جو بیک وقت متضاد راستوں پر چل رہی ہو کبھی منزل پر پہنچے گی؟ اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اب آ جائیں پنجاب حکومت کی جانب جہاں یقینا دوسرے تمام صوبوں سے زیادہ کام ہو رہا ہے لیکن کارکردگی جانچنے کا پیمانہ تو ایک ہی ہے کہ عوام کو کتنا ریلیف مل رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے چند روز قبل جناح ہسپتال کا اچانک دورہ کیا، بدترین حالات دیکھ کر پرنسپل کو فارغ، ایم ایس کو معطل کر دیا۔ مریم نواز کی جگہ کوئی بھی ہوتا یہی ایکشن لیتا، لیکن بات تو درست اطلاعات کی ہے، جب وزیر اعلیٰ کو بتایا ہی نہ جا رہا ہو کہ حقیقی صورتحال کیا ہے تو وہ ایکشن کیسے کریں؟ بیورو کریسی ہی نہیں بلکہ بعض وزرا کی بھی پوری کوشش ہے کہ میڈیا پر بھی سچ نہ آنے دیا جائے۔ ہسپتالوں کا ہی نہیں پورے محکمہ صحت کا نظام بگڑ چکا۔ ایک اہم صوبائی وزیر نے بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی دیگر لعنتوں کے ساتھ کرپشن کو بھی جڑوں تک پھیلا گئی ہے، اب سمیٹنے میں ہمیں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ مطلب کوئی ڈیپارٹمنٹ صحیح طریقے سے کام نہیں کر رہا، حالت یہ ہیں کہ پچھلے دنوں ایک حکومتی رکن نے پنجاب اسمبلی میں انکشاف کیا کہ پولیس میں دو گروپ بن چکے ہیں۔ عام آدمی تو ہمیشہ ہی تنگ ہوتا ہے لیکن اب اچھے خاصوں کو زچ کیا جا رہا ہے۔ لاہور کی با اثر اور متحرک شخصیت نے فون کر کے کہا فلاں علاقے میں پولیس نے اکیڈمی جانے والے بچوں کو بُری طرح سے مارا ہے، اطلاع ملنے پر والدین موقع پر پہنچے تو ان سے بھی بدتمیزی کی۔ اپنے رپورٹر سے کہہ کر ان کی جان چھڑا دیں، میں نے حیران ہو کر کہا آپ تو خود کہہ سکتے ہیں، انہوں نے بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کچھ سمجھ نہیں اب ایسے افسر لگا دئیے گئے ہیں کہ ان کو فون کریں یا جا کر ملیں الٹا ناراض ہو جاتے ہیں اور دھمکاتے ہیں، آپ نے سفارش کیوں کی، کسی سائل کے ساتھ کیوں آئے۔ اب آپ خود ہی اندازہ لگا لیں وزیر اعلیٰ نے جس روز تھانوں پر چھاپے مارنا شروع کر دئیے تو کیا حال ہو گا۔ رہ گیا سندھ تو وہاں وڈیرا راج اور کرپشن کا ننگا ناچ جانے کب سے ہے اور کب تک رہے گا۔ کسی لمبی چوڑی چارج شیٹ کی ضرورت نہیں صرف نوجوان مصطفی عامر کو دوست کے ہاتھوں بُری طرح زخمی کر کے زندہ جلائے جانے کا ایک کیس ہی دیکھ لیں، قاتل ارمغان قریشی شہر کے بیچ میں بیٹھ کر کال سنٹر سمیٹ غیر قانونی دھندے چلا رہا تھا۔ ستر، اسی لڑکے، لڑکیاں ملازم رکھے ہوئے تھے۔ گھر میں درجنوں بیش قیمت گاڑیاں کھڑی تھیں۔ جدید ترین اسلحہ اتنی مقدار میں کہ پورا مسلح لشکر کھڑا کیا جا سکتا تھا۔ سو کے قریب گارڈ بھی رکھے ہوئے تھے۔ اس کیس میں منشیات، منی لانڈرنگ، فراڈ، پولیس مقابلے سمیت کئی اور چیزیں بھی سامنے آ چکی ہیں، لیکن کبھی جج اس کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور کبھی پولیس۔ حالیہ پیشی میں پراسیکیوشن نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے کیس خراب کرنے کے لیے رپورٹوں میں جان بوجھ کر خامیاں چھوڑ دی ہیں۔ یقینا ارمغان اکیلا ہے نہ اس کا گینگ تنہا، سندھ کے بااثر حلقے نہ صرف ان کے پیچھے ہیں بلکہ غالب امکان ہے کہ پارٹنرز بھی ہوں۔ سندھ شہری اور سماجی مسائل کے ساتھ جرائم کی آماجگاہ بن چکا۔ وفاقی حکومت کی تمام کارگزاریاں اپنی جگہ لیکن دہائیوں پرانا چینی کا مسئلہ آج بھی اسی شدت سے موجود ہونا آشکار کر رہا ہے کہ نظام حکومت و انصاف میں موجود بڑی بڑی خامیاں دور نہیں کی جا سکیں۔ ایسے میں آرمی چیف اگر یہ کہتے ہیں کہ گورننس میں خامیوں کا خلا سکیورٹی فورسز کے جوان کب تک اپنا خون بہا کر پورا کرتے رہیں گے تو ٹھیک ہی کہتے ہیں۔ سوال مگر یہ ہے ایسی تمام خرابیاں ٹھیک کرنے کے لیے ٹھیک ٹھاک ایکشن کس نے لینا ہے؟ عام آدمی کب تک بیڈ گورننس کی چکی میں پستا رہے گا۔

ٹیگز: