Wed, September 16, 2026

صحت مند دماغ میں مائکرو پلاسٹک ذرات کی موجودگی کا انکشاف

صحت مند دماغ میں مائکرو پلاسٹک ذرات کی موجودگی کا انکشاف

کیلیفورنیا: ایک طویل مدتی تحقیق سے یہ حیران کن انکشاف ہوا ہے کہ پچھلی تین دہائیوں میں انسانی دماغ میں مائکرو پلاسٹک ذرات کی مقدار دیگر اعضاء کے مقابلے میں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ صحت مند انسانوں کے دماغ میں بھی پلاسٹک کے ذرات پائے جاتے ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کی رپورٹ کے مطابق، ماہرین نے 1997 سے 2024 تک مرنے والے افراد کے دماغوں میں پلاسٹک ذرات کی موجودگی پر تحقیق کی۔ اس دوران ماہرین نے ان افراد کے دماغوں کا آٹوپسی، اسکین اور مختلف ٹیسٹس کے ذریعے جائزہ لیا تاکہ پلاسٹک ذرات کی مقدار معلوم کی جا سکے۔

تحقیق کے دوران ماہرین نے پایا کہ 1997 کے مقابلے میں 2024 تک انسانی دماغ میں پلاسٹک ذرات کی شرح 50 فیصد سے زائد بڑھ چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2024 تک صحت مند دماغ میں اتنے پلاسٹک ذرات پائے گئے جتنا ایک پلاسٹک چمچ میں ہوتا ہے۔

ماہرین نے اس بات کی وضاحت کی کہ انسانی دماغ کا 96 فیصد حصہ انسانی ٹشوز سے تشکیل پاتا ہے، جبکہ باقی 4 فیصد حصہ پلاسٹک ذرات سے متاثر ہوتا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا کہ جگر، گردے اور دیگر اعضاء میں بھی پلاسٹک ذرات کی موجودگی پائی گئی، لیکن سب سے زیادہ پلاسٹک ذرات دماغ میں جمع ہوئے ہیں۔

ماہرین نے کہا کہ اس تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ پلاسٹک ذرات کی موجودگی کے صحت پر اثرات جانچنے کے لیے مزید گہری تحقیق کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہر فرد کے دماغ میں اتنے ہی پلاسٹک ذرات موجود نہیں ہو سکتے، مگر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آج کل انسان کا دماغ بھی ان ذرات سے محفوظ نہیں رہا۔

اس سے قبل بھی متعدد تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ پلاسٹک ذرات خون، دل، پھیپھڑوں، گردوں اور جگر میں بھی شامل ہو چکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت پہلے یہ سمجھتا تھا کہ پلاسٹک ذرات انسان کی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہیں، تاہم حالیہ برسوں میں اس نے تسلیم کیا کہ مائکرو پلاسٹک ذرات انسانی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتے ہیں۔

حالانکہ ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہو سکی کہ پلاسٹک ذرات انسان کی صحت کے لیے کس قدر خطرناک ہیں، لیکن یہ تحقیق مزید گہری تحقیقات کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ پلاسٹک ذرات عموماً فضائی آلودگی، پیکیجنگ غذائی مصنوعات، منرل واٹر اور دیگر اشیاء کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو رہے ہیں

ٹیگز: